’بڑے لوگ‘

yousuf alamgirian

(یوسف عالمگیرین)

مائیں اپنے بچوں کو پہلے دن سے ہی بڑا آدمی بنانے کے خواب دیکھنا شروع کردیتی ہیں جو یقیناًایک اچھا امر ہے لیکن کاوش کے باوجود بعض بچے بڑے تو ہو جاتے ہیں آدمی تمام عمر نہیں بن پاتے۔ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں، اُن کے حوالے سے کہا جاتا ہے جوکسی شے کی پروا نہیں کیا کرتے۔ بعض تواتنے بڑے ہو جاتے ہیں کہ پھروہ اپنے نظریئے اور اُس ملک سے بھی بڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں جہاں ان کی پرورش ہونی ہوتی ہے۔ بہرکیف جو نظریے سے بڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں‘ آئین سے بڑے ہونے کی بات کرتے ہیں‘ وہ دل دکھانے کی بات کرتے ہیں۔ در حقیقت وہ زندگی میں بہت پیچھے رہ جانے والے لوگوں میں سے ہوتے ہیں۔ وہ بظاہر ’بڑے لوگ‘ ہوتے ہیں لیکن اندر سے بہت چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ وہ گوشت پوست کا ایک بدن لئے پھرتے ہیں۔ ان کے صرف جسم کا وزن ہوتا ہے۔ ان کا کبھی سوچ‘ تصور‘ فکر اور تخیل کی راہ سے گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ بڑے لوگوں کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ مرتے وقت جو وصیت نامہ چھوڑ کر جاتے ہیں اُس میں اُن کے چھوڑے ہوئے ورثے کی ایک ایک پائی کا حساب اوراُس کا disposalلکھا ہوتا ہے۔ بانئ پاکستان قائدِاعظم کیWill اس کی خوبصورت مثال ہے۔ جبکہ دوسری قسم کے ’بڑے لوگ‘ اپنے بچوں کو صرف ایک ہی وصیت کرکے مرتے ہیں کہ لوگوں کو یہ پتا نہ چلے کہ میں نے کہاں کہاں جائیدادیں بنارکھی ہیں۔ جس دن انسان کو اس کا شعور ہو جائے کہ اُس کی اصل جائیداد 6 فٹ کی قبر ہے تو اُس کی باقی ماندہ زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے کو ہی زندگی سمجھنا شروع کر دے۔ زندگی مسلسل کاوش اور جدوجہد کا نام ہے۔ زندگی کے لئے مثبت انداز سے جستجو کرکے اُس کے نتائج اﷲ کی ذات پر چھوڑ دینا انسانی کردار کو اور بھی مضبوط اور دلکش بناتا ہے۔ انسان کو بظاہر کوئی چیزمل جاتی ہے لیکن دوسرے ہی لمحے وہ کامیابی یا وہ چیز اُس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے تو اس سے انسان کو پھر سے کمر باندھ کر کاوش کرنا ہوتی ہے۔ ناکام ہو کر بیٹھ جانا موت ہے‘ ہمیشہ ہمیشہ کی موت۔ لیکن از سرِ نو کاوش کرنا ہی زندگی کا وہ حُسن ہے جو قدرت اپنے بندوں کو عطا کرتی ہے۔ قدرت کسی ایک خاص وقت میں کوئی چیز انسان کو عطا نہیں کررہی ہوتی یا دے کر واپس لے بھی لے تو سب سے قیمتی متاع وہ زندگی اور وہ سانسیں ہیں جو انسان کے پاس ہوتی ہیں۔ انسان پھر سے effort کرسکتا ہے۔ زندگی ہی نہ رہے تو یہ خواہشات‘ منصوبے‘ ڈگریاں‘ تجربہ‘ قابلیت‘ کمیونیکیشن سِکلز‘ ڈیشنگ پرسنلٹی اور یہ سب کچھ تہ خاک ہو جاتا ہے۔ ہرحال میں خدا کا شکر بجا لانا ہی درحقیقت زندگی ہے۔ خدا کسی کو کوئی ہنر یا مقام عطا کرتا ہے تو پھر وہ اس کا متقاضی ہوتا ہے کہ اُس کام کو دل لگا کر یوں کیا جائے کہ اُس کی contribution قوم‘ ملک اور انسانیت کے کام آئے۔ کسی ٹیچر کا یہ کام نہیں کہ وہ ملک کو اچھی اچھی پالیسیاں وضع کرکے دے۔ اُسے تو اپنے سکول میں آنے والے بچوں کی اچھی تربیت اور پڑھائی پر توجہ دینی ہوتی ہے کہ کل کو یہ بچے اپنے اپنے میدان میں خدمات سرانجام دیں گے۔
محدود نالج کے لوگ محدود وقت کے لئے اچھا کام کرسکتے ہیں وہ قوم و ملک کو دیر پا پالیسیاں نہیں دے سکتے۔ مانیٹری پالیسی وہ شخص تیار کرے جو پچھلے چالیس سال سے اُسی شعبے میں ہو۔ معاشی پالیسی والے کومعاشیات کی اونچ نیچ کی خبر ہونا اور اُس شعبے کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔ کسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ شعبہ تدریس سے وابستہ رہے ہوں جبکہ یہاں متعدد یونیورسٹیوں میں ریٹائر لوگوں کو لگا دیا جاتا ہے جیسے وائس چانسلر ہونا صرف ایڈمنسٹریشن کی کوئی پوسٹ ہے اور اس کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گویا بڑے بڑے عہدوں پر ’چھوٹے لوگ‘ لگائے جاتے ہیں۔ عہدے انسان کو بڑا نہیں بنا سکتے۔ عہدے صرف اچھی تنخواہ اور اچھے فوائد دیتے ہیں۔ ایک انسان کا کردار اُسے دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ بعض معاشرے چھوٹے لوگوں کے گرد ہی گھومتے رہتے ہیں یوں معاشرے بھی چھوٹے رہ جاتے ہیں،وہgrowنہیں کر پاتے۔ معاشرے ٹھہرے ہوئے تالاب بن جائیں تو معاشرتی تعفن سماجی رویوں کو بھی کھا جاتا ہے۔ عقل‘ شعور‘ کردار کہیں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ کٹھن راستوں سے ہوتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ اس معاشرے کی اصل طاقت اس کے وہ افراد ہیں جو اس کی ترقی اور وقار میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں۔ وہ خود زندگی کی دوڑ میں کہیں پیچھے رہ چکے ہوتے ہیں لیکن اُن کی contribution اتنی مضبوط ہوتی ہے جو معاشرے کو intactرکھتی ہے۔ وہ قومی ترقی میں معاونت کا باعث ہوا کرتے ہیں۔ بھٹہ مزدور کی زندگی کسمپرسی اور محرومی کی علامت ہوتی ہے۔ لیکن اُس کی بنائی ہوئی مضبوط اینٹیں ملک کی بڑی بڑی عمارتوں کا حصہ بن کر اُس کی طاقت اور وقار کا باعث بنتی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے والے ریڑھی بان‘ سبزی اور فروٹ کے کھوکھے والے صبح سحری کے وقت سبزی و فروٹ منڈی میں بیٹھے ہوتے ہیں صبح ہوتے ہی اپنی اپنی دکانوں میں آبیٹھتے ہیں اور رات گئے تک کام کرتے ہیں۔ وہ حکومت سے کوئی قرضہ نہیں لیتے(قرضہ لیتے نہیں تو معاف بھی نہیں کراتے اور ڈیفالٹر بھی نہیں ہوتے) اور اپنے بیوی ‘ بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ بچوں کو تعلیم دلوانے کی سعی کرتے ہیں۔ بوڑھے والدین کے لئے دوائیاں خریدتے ہیں۔ وہ خود بے مزہ اور مشکل
زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ میرے ملک کے چھوٹے چھوٹے کام کرنے والے ہی معاشرے کے ’بڑے لوگ‘ ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ چل رہا ہے۔ زندگی چل رہی ہے۔ ملک رواں دواں ہے۔ ملک کے اربوں‘ کروڑوں روپے ڈکارجانے والے‘ زمینوں پر قبضے کرنے والے‘ ٹیکس چھپانے والے‘ سرکاری فنڈز کو خردبرد کرنے والے‘ غریبوں کا مال کھانے والے ‘ آئین و انصاف کی دھجیاں بکھیرنے والے ملک و قوم سے فریب کرنے والے درحقیقت وہ ’چھوٹے لوگ‘ ہیں جنہوں نے ملک کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ میرے وطن کی بنیاد اور شان وہ لوگ ہیں جو بھلے چھوٹے چھوٹے کاروبار کرکے روزی روٹی کمارہے ہیں‘مزدوری کرکے اپنے گھر چلا رہے ہیں۔ چلچلاتی دھوپ میں سڑکوں پرجسمانی مشقت کرکے پسینے کے موتی بہانے والے غریب و بے کس لوگ اس معاشرے کے وہ ’بڑے لوگ‘ ہیں جو خود کو ہر قسم کی علتوں سے بچائے رکھتے ہیں اور زندگی بھر محنت و مزدوری کرکے اپنی زندگی کی گاڑی کھینچتے ہیں۔ سلام ہے ان تمام کاریگروں کو جن کے دم سے فیکٹریاں رواں دواں ہیں‘ جو جوتے مرمت کرکے روزی کماتے ہیں جو سائیکلوں کے ٹائر ٹیوب تبدیل کرکے اپنی زندگی کا پہیہ گھما رہے ہوتے ہیں اور معاشرے سے اپنی تھوڑی سی مزدوری کے سوا کچھ بھی طلب نہیں کرتے۔ حکومت سے کچھ نہیں مانگتے۔ انہوں نے ملک کی ایک پائی بھی نہیں لُوٹی۔ اُنہیں شاید معاشرے نے وہ کچھ نہیں دیا جو اُن کا حق ہے اس کے باوجود وہ اپنی اپنی جگہ محنت کرکے معاشرے کی ترقی اور خوبصورتی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں۔ بلاشبہ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے معاشرہ خوب سے خوب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ معاشرے کے یہی لوگ وہ ’’بڑے لوگ‘‘ ہیں جو معاشرے کا حقیقی حُسن ہیں۔ خدا ہمیں معاشرے کو بڑے بڑے ٹیکے لگانے والے ’’چھوٹے لوگوں‘‘ سے محفوظ رکھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *