ٹوپی کی طاقت

saeed
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس ٹوپی کی طاقت کا ۔۔۔۔۔۔۔!
کسی بھی شخص کی نظریں بدل دیتی ہے یہ ٹوپی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے والد صاحب نے ایسی ہی ایک ٹوپی ہمارے لۓ ترکے میں چھوڑی تھی۔ یہ بڑے کام کی سلیمانی ٹوپی ہوتی ہے اس کو پانی پینے کے علاوہ بازار سے سودا سلف وغیرہ لانے کے لۓ بھی استعمال کرسکتے ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا کمال یہ بھی ہے کہ آپ اسے کسی گدھے کے سر پر سجا دیں تو وہ بھی خواہ مخواہ معزز نظر آنے لگتا ھے۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ یہ واٹر پروف ہونے کے علاوہ شیم پروف بھی ہوتی ہے۔ میرے والد صاحب خاص خاص موقعوں پر اس کو باقاعدہ پالش کرتے تھے۔۔۔ خاص طور پر عید کی نماز کے موقعہ پر۔۔۔۔ بر سبیل تذکرہ آپ کو بتاتا چلوں کہ میٹرک کے امتحان میں اس مقدس ٹوپی نے میرا بہت ساتھ دیا تھا۔ یہ نہ ہوتی تو ریاضی میں میرا فیل ہونا یقینی تھا۔۔ ریاضی کے سارے گیس پیپرز آسانی سے اس میں چھپ جاتے تھے۔ والد صاحب خوش تھے کہ میں ان کی چہیتی ٹوپی کو بابرکت سمجھ کر پرچے دینے جاتا تھا جبکہ ایکزامنر حضرات بھی مجھے شریف بچہ سمجھ کرمیری طرف سے غافل رہتے تھے ۔ ۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد ہم پانچ بھائیوں میں اس ٹوپی کی ملکیت کے بارے میں تنازعہ کھڑا ہوا ۔۔۔ میرے علاوہ ہرایک کی خواہش تھی کہ یہ اس کے حصہ میں آئے میری نظر در اصل اس زنگ آلود تلوار پر تھی جو ایک عرصہ سے گھر کی چھت کے شہتیر میں والد صاحب نے ٹھونس رکھی تھی ۔۔۔ جب
بھی میرے ماموں اور والد صاحب کا کسی مسلے پر اختلاف ہوتا تو یہ جس کے قبضے میں پہلے آجاتی اس کا فیصلہ گویا نوشتہء تلوار بن جاتا ۔۔۔ میری بہنوں اور یار دوستوں نے مجھے تاکید کی کہ ٹوپی پر قبضہ کر لو۔۔ ان کے خیال میں خاندانی برتری کی نمائش کے لئے یہ بہت ضروری تھا ۔۔ لیکن میں نسیم حجازی اور علامہ صاحب کی کتابیں پڑھ پڑھ کر جہاد کے جزبہ سے کچھ اس قدر سرشار رہتا تھا کہ اکثر نیند میں بھی سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کے ٹاپوں اور تلواروں کی جھنکار میرے کانوں میں سنائی دیتی تھی ۔۔ 

قراقلی ٹوپی کی تاریخ کچھ اتنی شاندار نہیں کہ ہم اس پر فخر کر سکیں .بھیڑوں کے معصوم بچوں کو میلوں بھگانے کے بعد ان کو ذبح کر کے ان کی ٹوپیاں بنا کر اکڑنے میں کیا حکمت اور عظمت پنہاں ہے؟ اس کی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی ۔۔۔البتہ ایک بات جس کی مجھے سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ انہی قرا قلیوں، پاجاموں اور شیروانیوں نے بنگالیوں کو ہم سے بد ظن کرنے میں ایک اہم کردار ضرور ادا کیا . جب بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے لوگوں کو کلچر کے نام پر اس قسم کی خرافات کی طرف دھونس ،دھاندلی اور لالچ کے ذریعہ راغب کیا جاتا ہے تو معاشرے میں نفرتیں ہی جنم لیتی ہیں . قرار داد لاہور پیش کرنے کے موقعہ پر بنگالیوں کو ہم نے شلوار،شیروانی اور جناح کیپ نہ پہننے کی پاداش میں پاکستان کے غدار قرار دے کر انہیں اپنے لئے ایک الگ ملک کے مطالبے پر مجبور کر دیا ۔ اب شاید پختونوں،بلوچیوں اور سندھیوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جا رہا ہے ۔۔ ایکُ پختون، بلوچ یا سندھی کا شیروانی سے آخر تعلق کیا ہے؟

ٹوپی کی طاقت” پر ایک تبصرہ

  • مارچ 18, 2016 at 1:11 PM
    Permalink

    محترم ایڈیٹر صاحب
    آپ نے تو میری تحریر کے ساتھ بھی ٹوپی ڈرامہ کر دیا ۔۔کم از کم وہ فوٹو ہی اس کے ساتھ چھپوا دیتے جسے دیکھ کر میں نے یہ تحریر قلم بند کی ۔۔ بہر کیف آپ کی مجبوریوں کا مجھے احساس ہے ۔۔ممنوں ہوں

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *