حسینہ چار سو ابلیس

ali raza ahmed

بقول وقار مجروح یہ وہ شیخ نہیں جو کرنٹ پڑنے سے گرا اور اس کے گھر والے لپک کر اس کے ارگرد اکٹھے ہو گئے اور وہ اپنے گھر والوں کو ڈانٹ کے کہہ رہا تھا کہ مجھے اٹھانے سے پہلے یہ دیکھو کہ مجھے کرنٹ لگنے سے یونٹ کتنے گرے ہیں؟اس کے برعکس یہ وہ شیخ ہے جس نے ٹکے اکٹھے کرنے کے علاوہ آج تک علاقے کے مسلمان ملکوں کو ایک یونٹ پر اکٹھا ہونے نہیں دیا۔غیر ملکی دورہ ختم کرکے جب یہ وطن واپس لوٹ رہی ہو تو اخبارات کی شہ سرخیاں یہ تاثر دے رہی ہوتی ہیں کہ جیسے دبئی کا کوئی شیخ بنگلہ دیش میں ہیپی نیو ایئر منانے آرہا ہے۔ ستمبر 1947 میں’’تنگی پارا یہ‘‘ میں اسی وقت پیدا ہوئی جب پاکستان بنے ایک ماہ بھی نہیں ہوا تھا ۔بلکہ اس کے پیدا ہوتے ہی آفٹر شاکس شروع ہوئے تھے اور پورے برصغیر میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی۔شیخ مجیب نے اس کا نام ہی ایسا رکھا کہ آخر میں ’’نہ‘‘ بھی رکھ دی مگر 1971میں جب پاکستان دولخت ہوا تواس کے اپنے ساتھ ایسا ہونے کی شکایت نہیں ملی۔اپنے وقت کی ایسی حسینہ واقع ہوئی ہے کہ ہر لمحہ اس کے روپ سے ایک واقعہ ضرور رونما ہوا ہے۔یونیورٹی میں دوسرے ساتھی طلبا اسے پہلی نظر دیکھتے ہی فور اً اپنے لئے یوں منتخب کر لیتے تھے کہ کم از کم اِسے پرپوز نہیں کرناکہ کہیں ’’حسینہ مان ہی نہ جائے‘‘ایم اے واجد چونکہ ایٹمی سائنسدان تھے اور شاید’’ نر ‘‘ آدمی تھے انہوں نے اس خاص’’ مادے‘‘ کو اپنے لئے بطور تجربہ گاہ منتخب کر ہی لیااور جب یہ ایک کولڈ تجربے کی ’’ کامیابی ‘‘کی صورت میں اپنے ملک کی وزیراعظم بنی تو وہ راہی ملک عدم ہو گئے۔ اس کے نزدیک عورت ایک مکمل سبجیکٹ ہے اختیاری نہیں لازمی... لہذا کامیابی کے علاوہ اور گنجائش نکالناکسی کے لئے مشکل ہوتا ہے اوراسے سب سوالات حل کرنے کی شرط اورچوائس سے بھی محروم ہونا پڑتا ہے۔شہری ،شوہر اور شیف میں کیا فرق ہوتا ہے ؟ صرف یہ جاننے کے لئے اس نے اپنی شادی کروا ڈالی اوراس کے شوہر نے ایک عرصہ تک کھانا کھانے سے گریز بھی کیا۔جسے’’ ہتھکڑی ‘‘لگی ہو وہ اس لحاظ سے قابل اعتبار ہوتا ہے کہ وہ کم از کم آپ کا پرس نہیں چھین سکتا۔یہ عورتوں کی وہ قسم ہے جو خوداپنی بارات گھوڑے کو سہرے لگا کر لے کر جاتی ہے۔اکلاپا اسے پچپن ہی سے پسند نہیں اوراکیلا کا لفظ اس کی ڈکشنری میں نہیں اس لئے اکیلے اکیلے شادی کر لی ۔جوانی میں اداکاری کی شوقین رہی بلکہ یہ وہ اداکارہ ہے جس نے اپنی جوانی کواپنے ہی ہاتھوں ’’ شوٹ ‘‘کیا۔ اس نے کئی دفعہ سوچا کہ غیر شادی شدہ ہونے کا تجربہ بھی کر لیا جائے اس لحاظ سے یہ اپنے خاوند کی دور کی بیوی بھی لگتی رہی۔ایم اے واجد اس کا خاوند ہونے کے باوجود خود کو اکیلا بلکہ مجرد تصور کرتے رہے حالانکہ اس نے اس کے چناؤ میں خود ہی حصہ لیا تھا۔حسینہ نے اپنے خاوند کے لئے بھی بندے رکھے ہوئے تھے حفاظت کے لئے نہیں باہر جانے کی اجازت لینے کے لئے...اسکاشمار دنیائے سیاست کی آہنی عورتوں میں ہوتا ہے چنانچہ اس کے اپنے بچے اپنے ملک کے چنگل سے بھاگ کر امریکہ نکل گئے ہیں کہ ملک میں بیروزگاری بہت ہے ۔ایسی عورتیں اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے خاوند کو ٹھکانے لگا دیتی ہیں اور ٹھکانے لگنے کے باوجود خاوند کہلانیوالا باز نہیں آتا ۔حالانکہ روز مرہ کی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے خاوندکیلئے ایک وکیل کا انتخاب چاہتی تھی کیونکہ وہ جھوٹ بھی سچے انداز میں بول لیتے ہیں بلکہ جھوٹا کیس بھی ہضم کر لیاجائے تو آمدنی قابل ااعتبار رہتی ہے اوروہ قابل اعتبار اتنا ہوتا ہے کہ اگر وہ طلاق بھی دے دے تو بیوی اعتبار نہیں کرتی۔بھارت میں یہ بات مشہور ہے کہ وکیل ڈاکٹر سے اس لئے بہتر ہوتا ہے وہ صرف لوٹتا ہے مارتا نہیں۔اٹھائیس سا ل عمر میں سیاست میں قدم رکھااور پھر قدم قدم پر سیاسی راہیں مقدوم نظر آئیں۔یہ بھارت میں پروان چڑھی کیونکہ کلکتہ یونیورسٹی اس کی تربیت گاہ بنے رہے اور’’ سینا ‘‘اور’’سیوک‘‘ جنتا اور جگتو کے گینگ اس کے ارگرد منڈلاتے رہے۔ خالدہ ضیاء اس کی واحد حریفہ ہے ان دونوں میں سے جو نظر بند ہو وہ سمجھ لیں وہ وزیراعظم نہ بن سکی ہے اسی طرح جو کورٹ کچہری یا کمیشن کے سامنے پیش ہو رہی ہو اور ہاتھوں میں ضمانت کی فائل تھام رکھی ہو وہ لیڈر آف اپوزیشن کہلاتی ہے۔ ملک اوپر جائے نہ جائے لیکن ان دونوں میں سے کسی ایک کا بلڈ پریشر ضرور اوپر رہتا ہے کیونکہ حالات ان کو حوالات تک لے جاتے ہیں۔ لیکن آج کل خالدہ ضیا تو نظر بند ہے ہی لیکن ’’حسینہ ‘‘نے بھی خود کو اپنے درو دیوار میں ’’ڈھاکا‘‘ ہوا ہے۔جب ان سے کوئی وزیر اعظم بن جائے تو لوگ اس سے کہتے ہیں’’آپ ننے بہت زحمت کی‘‘ ایک دوسرے پر ایسا حملہ کرتی ہیں کہ بنگال ٹائیگر اپنا سا منہ لیکر رہ جاتا ہے ۔اتنی نفرت گالی سی نہیں جتنی اس بنگالی سے ہے جو عوامی لیگ کو ووٹ نہ دے ۔شیخ حسینہ کے طور طریقے ایسے ہیں اس لحاظ سے یہ پھولوں کی نہیں بلکہ حسیناؤں کی پھولن دیوی بن چکی ہے۔ اندرا گاندھی کی شاگرد ہے اس لئے حزب مخالف اسے حسینہ گاندھی کے لقب سے بھی یا کرتے ہیں۔ اس کا سیدھا اصول ہے کہ حزب مخالف کو اس بات کا ’’حوصلہ‘‘ دو کہ وہ اس سے ڈرے رہیں تو ان کے لئے بہتر ہو گا۔ان حالات میں دفتر میں عینک لگاتی ہے اور گھر میں صرف دھڑکا لگا رہتا ہے۔اس قسم کی کئی مجبوریوں کی وجہ سے غیر ملکی دورے بھی کم کرتی ہے اور اگر مجبورا کرنا بھی پڑے تو اس طرح واپس آتی ہے جیسے پیرا شوٹ میں خرابی کی کمپینٹ!کسی مسئلہ میں اپنا ذہن تبدیل نہیں کرتی کیوں کہ بنگلہ دیش میں ایسے ٹرانس پلانٹ کی سہولت میسر نہیں۔اتنی سیاست دان ہے کہ گھر کے کام کا شوق کام والی ساڑھی سے پہن کر پورا کر لیا جاتاہے اور اپوزیشن لیڈر اس کی ساڑھی سے مثاتر ہو کر متاثرین میں شمارہو جاتی ہے۔اب اتنا دھن جمع ہو گیا ہے کہ جہنم کے ایندھن کے لئے کافی ہے اور انسان کا کرداراسے کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ایک کتاب لکھنے کا ارادہ ہے جس میں حزب مخالف کی طرف کی گئی سازشوں سے پردہ اٹھا یا گیا ہے لیکن ابھی لکھنے والا نہیں ملا....شیریں گفتار خالدہ ضیا کی میٹھی تنقید کی وجہ اسے ضیابیطس ہو چکی ہے بلکہ ڈاکٹروں نے اس کی پانچ منٹ کی تقریر سننے کے بعد اسے پانچ کلومیٹر سیر کا مشورہ بھی دے رکھا ہے۔ہر معاملے میں اس کا اپنا انداز ہے یہ ہر لکھنے والے کو رائٹر نہیں کہتی۔اس کے بقول ایسے تو میرا سیکرٹیری ہر روز دس بارہ خط لکھتاہے ۔ ایک دفعہ اس کے کیک سے کاکروچ نکل آیا اب یہ اسے’’ کیک روچ‘‘ ہی کہتی ہے۔ 1971سے پہلے بھارت کے بنگلہ دیش پر بہت سے احسانات تھے اور وہ اسے ہر قسم کی ’’مدد‘‘ دیتا تھا اب صرف پاکستان کی مخالفت میں اسے صرف’’ حوصلہ ‘‘دیتا ہے۔ڈاکٹر لوگوں کی اچھی صحت کی وجہ سے متاثرین میں شمار ہو سکتے ہیںیا عوام کے رویے سے سیاستدان۔ملکی حالات کے باوجود اس کاسیاست سے دل نہیں بھرا لیکن آنکھیں ضرور بھر آتی ہیں۔بنگلہ دیش میں کی گئی تحقیق کے مطابق مرد عورتوں سے زیادہ بیوقوف ہوتے ہیں اسی لئے یہاں جتنی بھی حکومیتیں آئی ہیں انہیں زنانہ حزب مخالف کا سامنا رہانتیجاً حکومتیں بھی نازک اندام رہیں ہیں ۔ان دونوں کے نزدیک حزب مخالف ااندھیرا ہوتاہے اور اندھیراوہ بزدل شئے ہوتی ہے جو روشنی کے ظاہر ہوتے ہی دم دبا غائب ہو جاتا ہے لہذا ان دونوں میں سے ایک کو’’ زلاوطن‘‘ بھی ہونا پڑاہے کیونکہ بنگلا میں جیم کو ’’ز‘‘ میں بدل کو فوج ’’فوز‘‘ بن جاتی ہے شاید اس مجبوری کی وجہ سے یہاں کوئی جناح روڈ بھی نظر نہیں آتی ۔گوروں کوبنگلہ دیش آتے ہوئے اس بات کی تسلی ہوتی ہے کہ بنگلہ دیش میں کہیں بھی Jerms نہیں ہیں کیونکہ وہاں جرمز پر ’’ زرمز‘‘ نے پردہ ڈالا ہوتا ہے۔ یہاں مشہور ہے کہ بچوں کی چاکلیٹ پر اتنے جراثیم نہیں جتنے ٹیکس لگے ہوتے ہیں۔مارک ٹوئن کہتا ہے کہ’’ انکم ٹیکس اور جانور حنوط کرنے والے میں ایک واضع فرق یہ ہے کہ وہ کم از کم کھال چھوڑ دیتا ہے ‘‘ اس لئے بنگلہ دیش کا سب سے بڑا side effectٹیکس کی صورت میں سامنے آیا ہے۔حکومت کے حکیم بیمار معیشت کے Taxٹیسبلٹس سے صحت یا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے عوام کی معاشی صحت خزانے کی جھولی میں گر رہی ہے۔اس کا دوست کون ہے اور دشمن کون؟ ایسی حسینہ جس سے چار سو ابلیس بھی پناہ مانگتے ہوں کواس کسی کی پر واہ کہاں ہوتی ہے...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *