کم کہو، اپنا کہو، اچھا کہو

Intizarانتظار حسین

ہمارے ادب میں جس مخلوق کا سب سے زیادہ چرچا ہوتا ہے وہ شاعر ہے۔ اس کی کمک پر ایک وہ ادارہ ہے جسے مشاعرہ کہتے ہیں۔ وہ اس کے شعر کو کہاں سے کہاں تک پہنچاتا ہے مگر ہم نے تو اپنے زمانے میں غزل سے ہٹ کر نئی شاعری کرنے والوں کو بھی دھوم مچاتے دیکھا ہے، بشرطیکہ وہ شاعری محض فیشن نہ ہو، شاعری کا جوہر بھی رکھتی ہو۔

مگر اسی گروہ میں شاعر کی وہ قسم بھی ملے گی جو کچھ تو اپنے مزاج کے اعتبار سے اور کچھ اپنی شاعری کے مزاج کی وجہ سے پردے میں رہتے ہیں۔ جیتے جی ان کا چرچا نہیں ہوتا۔ جب دنیا سے گزرتے ہیں تو بھی اتنی خاموشی سے کہ رفتہ رفتہ ہی شاعری کے قارئین کو ان کے گزرنے کی خبر ملتی ہے۔ خبر ملنے پر بھی سننے والوں پر ردعمل بس وقتی اداسی کی حد تک ہی ہوتا ہے۔

انھیں دنوں جب مختلف لکھنے والوں کے گزر جانے پر اخباروں میں کالم لکھے جا رہے تھے، تعزیتی جلسے ہو رہے تھے ایک شاعر جس کا نام محبوب خزاں تھا کس خاموشی سے گزر گیا کہ خود کراچی میں جہاں وہ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد خاموش زندگی بسر کر رہا تھا اس کے گزر جانے کی خبر آہستہ آہستہ یاران ادب تک پہنچی۔ ایسا ہی ہونا تھا۔ پچھلے چند برسوں میں کراچی میں کیسے کیسے ادبی فیسٹیول ہوئے، اردو کانفرنسیں ہوئیں، فیضؔ، راشدؔ، منٹو کے سال منائے گئے۔ محبوب خزاں کسی تقریب، کسی ادبی میلہ میں دکھائی نہیں دیے۔ جس شاعر کا جیتے جی طور یہ ہو اس کی وفات حسرت آیات کا طور بھی یہی ہونا تھا۔

ہمارے معاشرے میں وہ شاعر خوب پھلتے پھولتے ہیں جو خوبیٔ قسمت سے افسر بن جاتے ہیں۔ افسرانہ مصروفیات میں شاعری بیشک پھیکی پڑ جائے مگر افسرانہ چمک دمک سے اس کی تلافی ہو جاتی ہے بلکہ یار و اغیار کو اس پھیکی شاعری میں بھی چمک دمک نظر آنے لگتی ہے۔ ادھر محبوب خزاں نے شاعری بھی کی، ساتھ میں افسری بھی کی۔ مگر اس عزیز کے یہاں کبھی افسرانہ خوبو دیکھی گئی نہ شاعروں والا ٹھسا۔ لاہور میں جب تک اپنی ملازمت کے وسیلہ سے رہے تو ناصرؔ کاظمی سے الگ ملنے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی ٹی ہائوس بھی آ نکلتے مگر اتنی آہستگی سے داخل ہوتے جیسے سب سے پردہ کرتے ہوئے ناصرؔ کی میز کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ارے کم از کم موٹر ہی افسرانہ شان والی ہوتی کہ یاروں کو پتہ چل جاتا کہ اس وقت ایک افسر ٹی ہائوس میں بیٹھا ہے پھر کیسے اس شاعر کا ٹی ہائوس میں چرچا ہوتا اور شہر میں طوطی بولتا۔

لاہور سے تبادلہ کے بعد آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا معاملہ تھا۔ کبھی لاہور کا دورہ ہوا بھی تو ناصرؔ کاظمی کے سلسلہ میں جو اب مرحوم ہو چکے تھے۔ اس گھر پر حاضری دی اور ٹی ہائوس سے کنی کاٹ کر نکل گئے۔ ہم سے دو ڈھائی بار ملے مگر جب دیکھا کہ ناصرؔ کے اس دوست میں تو ناصرؔ والی کوئی خوبو نہیں ہے تو انھوں نے پھر ہم سے بھی کنارہ کر لیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی میں ڈیرا کیا مگر اس طرح کہ وہاں جس بھلے ادیب سے ان کے متعلق پوچھا وہ بے خبر نکلا۔ بہت پوچھ گچھ کے بعد کسی نے اتنا پتہ دیا کہ کراچی کے فلاں گوشے میں ایک لائبریری ہے وہ وہاں بیٹھے اور کتاب پر جُھکے پائے جاتے ہیں۔

نہ ہم نے اس لائبریری کا پتہ پانے کا تردد کیا نہ ان سے کبھی ملاقات ہو پائی۔ بس پھر ان کے گزر جانے کے بعد ہی ان کا تھوڑا ذکر سنا۔ اس کے بعد خاموشی۔

محبوب خزاں کا شاعر کے طور پر معاملہ یہ تھا کہ کم گو تھے۔ اس کی توجیہہ ان کے نقاد نظیر صدیقی نے اس طرح کی کہ ’’شاعری کے باب میں اس کا (محبوب خزاں کا) اصول جس پر ہر شاعر کو عمل کرنا چاہیے یہ رہا ہے کہ؎

کم کہو، اپنا کہو، اچھا کہو

اچھا کہنے کے لیے کم کہنا ضروری ہے

سو یہ بات تو ہے کہ انھوں نے کم کہا ہے جتنا کہا ہے، اچھا کہا ہے۔ مگر جو کہا اس طرح کہا کہ قریبی دوستوں کو سنا دیا اور مطمئن ہو گئے۔ رسالوں میں چھپے مگر بہت کم۔

کتابی شکل میں پہلے اس طرح چھپے کہ ایک مجموعہ میں تین شاعر اکٹھے۔ ان تین میں ایک یہ بھی۔ ہاں اس کے بعد ان کا اپنا ایک مجموعہ چھپا۔ ’اکیلی بستیاں‘ کے نام سے۔ مگر جیسے وہ پردے میں رہے ویسے ہی یہ مجموعہ بھی پردے میں رہا۔ ہاں ان کا ایک شعر شاعری کے اکثر قارئین کو ازبر ہے؎

ایک محبت کافی ہے

باقی عمر اضافی ہے

ویسے یہ قطعہ ہے۔ اگلا شعر سنئے ؎

کہتا ہے چپکے سے یہ کون

جینا وعدہ خلافی ہے

اسی سے اندازہ لگا لو کہ سہل اور سادہ کہنے میں انھیں کمال حاصل ہے چند شعر دیکھیے

چاہی تھی دل نے تجھ سے وفا، کم بہت ہی کم

شاید اسی لیے ہے گلہ، کم بہت ہی کم

……………

سفر نصیب قافلو، سفر ضرور ہے

چلے چلو کہ کچھ نہ کچھ ادھر ضرور ہے

……………

لیکن تجھے کیا، اداس ہم ہیں

راتیں ہیں بہت، چراغ کم ہیں

……………

محبوب خزاں اولاً غزل کے شاعر ہیں۔ مگر انھوں نے نظمیں بھی کہی ہیں اور خوب کہی ہیں۔ ایک نظم ہے ’دیوداسی، سنئے کیا کہہ رہے ہیں  ؎

میں تو بالکل تھک گئی اس ناچ سے

رقص و نغمہ کچھ نہیں

ضرب ہے، مضراب ہے

پھینک دے یہ پھول، اس کھڑکی سے باہر پھینک دے

پھول اب کس کے لیے

دیوتا سچے نہیں، وہ بھی نہیں

اس کتاب پر ان کے دو ہمسفروں کے دیباچے ہیں، قمر جمیل کا دیباچہ۔ اس سے آگے نظیر صدیقی کا دیباچہ۔

نظیر صدیقی کا خیال ہے کہ ’’مجموعی طور پر وہ جذبات کا نہیں افکار کا شاعر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی عشقیہ شاعری میں بھی جذبات یا جذباتی صورتحال کا بیان کم ہے اور اس پر تبصرہ یا اس کا تجزیہ زیادہ۔‘‘ انھوں نے اس ذیل میں خزاں کا ایک مصرعہ نقل کیا ہے؎

زندگی، اک خرامِ بے جہت

مگر اس مصرعہ میں ان کی دانست میں ’’جس تناظر میں وہ زندگی کو دیکھتا ہے اس کی فراہمی میں علم و فلسفہ کے بجائے اس کی زندگی کے مرکزی تجربے یعنی نا آسودہ محبت کو دخل ہے۔‘‘

اور یہ کہ اس کی ناآسودہ محبت ہی نے اسے ’’رواقی (Stoic) اور کلبی (Cynic) بنا دیا ہے۔‘‘

لیجیے اس کی شاعری کی کلید نقاد نے مہیا کر دی۔ اس حوالے سے غزلوں نظموں کو پڑھتے جائیے اور ان کی توجیہہ کرتے جائیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *