برسلز میں بارود کی بو‎

imad zafar

بیلجیئم کے دارلحکومت برسلز میں  بارود کی بو نے کہرام مچا دیا. برسلز  میں دہشت گردی کے ایک مکروہ اور گھناونے واقعے میں لگ بھگ 36  بے گناہ افراد لقمہ اجل بن گئے . دہشت گردوں نے برسلز ائیر پورٹ اور میٹرو ٹرین کو بم دھاکوں سے نشانہ بنایا. بیلجیئم  میں یہ دہشت گردی کا بدترین واقع ہے اور ساری دنیا اس پر رنجیدہ بھی ہے اور غم و غصہ کا اظہار بھی کر رہی ہے. برسلز  کی سڑکوں پر بکھرا خون اس بات کی غمازی بھی ہے کہ نائن الیون کے بعد کی دنیا اور بھی غیر محفوظ ہو چکی ہے.دہشت گردی کو مٹانے کے لیئے لیئے گئے اقدامات ابھی تک ناکافی ہیں. امریکہ اور عالمی طاقتوں نے بھی نائن الیون کے بعد گڈ اور بیڈ ٹیررسٹ کی پالیسی اپنائی اور نتیجتا اب دنیا بھر میں کبھی اسلامک سٹیٹ  کبھی داعش اور کبھی القائدہ کے نام سے یہ اچھے اور برے گروہ انسانیت کو روز ان مکروہ حملوں کے زریعے قتل کرتے ہیں .بیلجیئم  میں ہونے والا یہ اندوہناک واقعہ عالمی طاقتوں کے لیئے ایک پیغام بھی ہے کہ  محض اسلحے اور طاقت کے بل پر آپ ان نظریات کو کچل نہیں سکتے. یہ دہشت گرد جو زیادہ تر اسلام کا نام استعمال کر کے مسلم دنیا کے بہت سی خاموش اکثریت کی ہمدردی رکھتے ہیں اس امر سے نجوبی واقف ہیں کہ افغانستان عراق شام لیبیا سیریا ان تمام ممالک میں جاری جنگ کے رد عمل کے طور پر مسلمانوں کے جزبات کو کیش کرتے ہوئے اپنا اپنا ایجنڈہ پورا کیا جا سکتا ہے.دوسری جانب مسلم دنیا کے حکمران بھی اس وقت پراکسی جنگ لڑتے ہوئے کسی نہ کسی ملک میں انہی دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں کی پشت پناہی کرتے نظر آتے ہیں.وہ تمام افراد جو برسلز کے اس لرزہ خیز اور انسان دشمن واقعے کو یہ کہہ کر درست قرار دینے کی کوشش کر رہے تھے اور کرتے رہیں گے کہ یہ ری ایکشن کے طور پر ہے ایسے افراد بھی ایک طرح سے ان دہشت گردوں کے  اخلاقی معاونت کر رہے ہیں.جو ان سے ہمدردی رکھتے ہوئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح مغرب کو کوئی نقصان پہنچ جائے. برسلز میں ہونے والے اس انسانیت سوز واقعہ کو یہ کہتے ہوئے جسٹیفای کرنے والے  افراد  کہ برسلز ردعمل ہے، عراق، لیبیا، شام کا ،ان سے گزارش ہے کہ اب بیلجیم اور یورپ  ردعمل دے گا پھر اُس ردعمل پر  آپ ردعمل دیں گے.اور آگ وخون کی یہ ہولی اسی طرح جاری رہے گی اور یہ سائیکل چلتا رہے گا - .انسان کہیں پر بھی مرے دکھ کی بات ہے اور اپنے عقیدے یا نظریات کو بندوق کی زور پر نافذ کرنے والے خواہ مسلمان ہوں یا عالمی طاقتیں یہ سب دہشت گردی کی اس صنعت کا ایک حصہ ہیں.یقینا اب ان دھماکوں کے بعد پورے یورپ میں مسلمانوں کے لیئے مشکل پیش آئے گی اور یہ کوئی اچھی خبر نہیں.دنیا میں اب رہنماوں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے اور جنگی میدان سے نکل کر نظریاتی اور ذہنی شدت پسندانہ سوچ کے تدارک کی ضرورت ہے.دہشت گردی کی انڈسٹری صرف اسلحے کے زور پر نہیں چلتی بلکہ اسے نفرت کے ایندھن پر چلایا جاتا ہے.ایک ایسی ان دیکھی اور فرضی نفرت جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا.بھلا برسلز ائیرپورٹ یا میٹرو پر اپنے اپنے کام پر جاتے ہوئے  مارے جانے والے لوگوں کا عراق یا شام کی جنگ سے کیا تعلق اور وہ بیچارے کونسی سازش مسلم دنیا کے خلاف کر رہے تھے.اسی طرح عراق شام یا افغانستان میں بمباری کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے بے گناہ افراد کا دہشت گردی اور بندوق کے زور پر شریعت کے نفاز کا مطالبہ کرنے والوں سے کیسا اور کہاں کا تعلق. دنیا میں کسی بھی ملک یا شہر میں بسنے والے عام افراد اپنی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کی جنگ میں مصروف ہوتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ان افراد کا کسی بھی قسم کی پالیسی سازی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا.نفرت کے سوداگر اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لیئے انہیں چارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں.  عالمی سرمایہ داری اور اجارہ داری کا نظام بنا جنگ کیئے کبھی بھی قائم نہیں رہ سکتا اور دہشت گردی کی صنعت سے جڑے ہوئے تمام ممالک کو اب یہ بات سوچنی چاہیے کہ آخر کب تک دنیا کے وسائل پر قبضے کی لڑائی کو مذہب اور لسانیت کا لبادہ اوڑھ کر جاری رکھا جائے گا. کیا یہ واقع اس بات کی غمازی نہیں کرتا کہ یہ آگ خود ان ممالک کے دامن تک پہنچ چکی ہے.دوسری طرف اس خون ریز واقعے پر خوش ہونے والے اور اس کے حق میں دلائل دینے والے دانشوروں اور عام افراد سے بھی یہ سوال بنتا ہے کہ  ‏کیا یہ لازم ہے کہ 15ویں صدی عیسوی کے عیسائیوں کی طرح 15ویں ہجری صدی کی مسلمان تہزیب بھی قتال کی چھاننی میں سے ہی گزرے تو منزل پائے گی؟ انسانی شعور نے ترقی کی بے انتہا منازل طے کرنے کے بعد یہ جانا ہے کہ خونریزی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی.عدم برداشت اور ہتھیار اٹھانا اس بات کا ترجمان ہوتا ہے کہ ایسے گروہ یا معاشرے کے پاس کوئی دلیل باقی نہیں بچی اور علمی سائینسی اور معاشی محاز پر اپنی ناکامیوں کا ملبہ چھپانے کے لیئے یہ ہتھیار اٹھائے جا رہے ہیں. شدت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہے جب پوری دنیا متحد ہو کر شدت پسندی کی کسی بھی شکل کو قبول کرنے سے انکار کر دے گی.جہالت کے اندھیروں اور نفرت کا شکار قوموں کو علم کی روشنی اور محبت کے مفہوم سے آشنائی دلوانے کیلئے تمام عالمی طاقتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا. انسان اس دنیا میں خوف و دہشت کی فضا میں سانس لینے یا کسی جنونی گروہ کی خونی کاروائی میں ہلاک ہونے نہیں آتا. جو لوگ دلیل کی طاقت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں انہیں الگ کرنا ہو گا انہیں پہچاننا ہو گا اور پھر ان کا ذہنی علاج کرنا ہو گا. انسانی جان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور چیز نہیں ہوتی اور ویسے بھی  نفرت کے اندھیرے کبھی بھی روشنی کے علمبردار نہیں ہوتے. برسلز  میں جاں بحق ہونے والے تمام تر افراد پہلے انسان تھے اور پھر اس کے بعد ان کی کوئی اور شناخت تھی.اس واقع پر خوش ہونے والے یا اس کو درست قرار دینے والے  شعور اور عقل سے بالکل عاری اور اپنے ناکام نظریات اور مزہبی تعصب کا شکار بھیڑیے تو ہو سکتے ہیں لیکن انسان نہیں. ہم بچپن سے سنتے آئے تھے کہ لبنان مشرق وسطی کا  پیرس ہے ساری زندگی ہم نے اسے آگ میں ہی جلتے دیکھا اور اب برسلز سے لیکر پیرس تک  کو بھی جلتا دیکھ رہے ہیں. یہ نفرت اور ایک دوسرے پر اپنے عقائد و نظریات ٹھونسنتے گروہ اندھیروں تاریکیوں اور غاروں کے دور سے نکلنے کو ہرگز آمادہ نہیں دکھائی دیتے روشنیوں اور زندگی کی رمق سے بلا جواز نفرت کرتے ان ذہنوں کا دیوالیہ پن مہذب دنیا کے لیئے سب سے بڑا چیلنج ہے. اگر آپ بھی تشدد کی کسی بھی قسم کی شکل کو قبول کرتے ہیں یا جائز قرار دیتے ہیں تو آپ کا تعلق بھی اسی گروہ کے ساتھ ہے. خوشبو سے نفرت کرنا چھوڑ کر اپنے بدن اور روح سے آرہی بدبو کو دور کرنے کی کوشش کیجیئے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *