اُردو زبان میں ای کتاب پڑھیے

qasim yaqoob

ادبی میگزین دنیا زاد ۔۴۱کے آخری صفحات میں ایک اشتہار دیکھا تو کئی سولات ذہن میں گردش کرنے لگے ۔ اُردو کا اگلا پڑاؤ سکرین پہ ہو گا ؟ کیا سکرین تک کسی زبان کی رسائی اُس زبان کا معکوسی عمل ہے، تاریخ کا اگلا پڑاؤ یا پذیرائی کا درجہ؟___ان سوالات کے جواب کی کھوج سے پہلے اُس اشتہار کو ملاحظہ کیجیے:
’’اُردو زبان میں ای کتاب پڑھیے
ایپل ایپ اسٹور سے اُردو اسپیس ریڈرڈاؤن لوڈ کیجیے اور اپنے آئی پیڈ، آئی فون اور آئی پوڈ پر مفت اُردو کتابیں نستعلیق میں پڑھیے۔ یا اپنے آئی فون یا آئی پیڈ سے یہ کوڈ اسکین کیجیے، آپ کو اس کے لیے QR Readerکی ضرورت ہو گی۔ مصنف، ناشران کتب اپنی کتابیں اور رسائل ڈیجیٹل اشاعت کے لیے مہیا کریں اور ان کی فروخت پر رائلٹی حاصل کریں‘‘
مذکورہ اشتہار میں اُردو زبان میں ای کتابوں کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ اور ساتھ ہی اس کے حصول کاطریقہ کار بھی بتا دیا گیا ہے۔ای کلچر تیزی سے ہماری زندگیوں میں داخل ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں نظریات، تصاویر، آرٹس باہم ایک دوسرے سے مل کر سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر ان کی اہمیت مارکیٹ میں دکھائی دینے والی سائن بورڈز سے زیادہ نہیں جو پوری دکان کا ایک ویوژئیل امیج دکھا رہے ہوتے ہیں۔ ای کلچر اصل میں اُس ٹیکنالوجی کی مرہونِ منت ہے جس نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہماری زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ گھر، دفتر، تعلیمی ادارے، ہوٹلز، بازار اور حتیٰ کہ عبادت گاہوں میں بھی ای کلچر کا دوردورہ دیکھا جا سکتا ہے۔خبر محض خبر نہیں رہی بلکہ اپنے کلچر میں ایک سماجی سرگرمی بن کر سامنے آئی ہے اسی لیے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بھی سیاست اور اس سے منسلکہ سرگرمی کو ایک فیشن اور سماجی سرگرمی کا درجہ بھی ملتا جا رہا ہے۔ ای ٹیکنالوجی نے معاشرے میں ناگزیر اشیا کو تو اپنی ضرورت بنا ہی لیا تھا اب وہ اشیا بھی ای کلچر کا حصہ بننے لگی ہیں جو ای کلچر کا ناگزیر حصہ نہیں سمجھی جاتی تھیں۔ بہت پہلے جب لالٹین کی جگہ بجلی کے بلب آئے تو یہ سماجی ترقی کا ایک اگلا مرحلہ سمجھا گیا اور ہُوا بھی ایسے۔اسی طرح جانوروں کی باربرداری کی جگہ جب جدید موٹرز نے لی تو پہلے پہل کلچرل تصادم کا خطرہ پیدا ہُوا تھا۔ احمدندیم قاسمی کا افسانہ’’تھل‘‘ اس کی خوبصورت مثال ہے۔ مگر پھر رفتہ رفتہ اشیا ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر اپنائی لانے لگیں۔ اس تبدیلی کو محض تبادلۂ ذرائع تک محدود جانا گیا۔ مگر ای کلچر نے اس تبادلے(Exchange)کو محض تبادلہ نہیں قرار دیا بلکہ اپنے وجود کے اثبات سے تبدیل ہونے والی چیز کو رد بھی کر دیا اور یہ رد بھی اُس چیز کے سماجی، اورقدرِ ضروریہ کا رد بن گیا۔گویا ای کلچر اپنے اندر سمونے والے کلچر کو ایک فلسفے کے تحت قبول کر رہا ہے اور اُس فلسفے کی رُو سے ہر چیز رد ہو رہی ہے۔ میں تو اسے ایکHyperbolic تصورسمجھتا ہوں جو اشیا کی اصل جاننے کی بجائے اپنے کلچر کی طاقت کا اسیر ہونے کا فلسفہ ہے۔ ظاہری بات ہے ای کلچر کے مقابلے میں کسی بھی پرانی چیز کی سماجی فارم اور قدرِ ضروریہ کس طرح مقابلہ کر سکتی ہے۔ یوں یہاں ایک مسئلہ تو کھڑا ہو گیا ناں___
میری خیال میں ای کلچر کے اس دور میں ہم قدرِ ضروریہ کو ہی اگر مدِ نظر رکھیں تو ہم اس نام نہاد مسئلے کو کسی کروٹ بٹھا سکتے ہیں۔ مثلاً کیا تبادلے کی صورت میں سامنے آنے والی نئی صورت کیا قابلِ استعمال حالت میں زیادہ پُر آسائش بنی ہے یا پہلے والے حالت سے زیادہ مشکل حالت میں ہے۔
آئے اس اہم نکتے پر تفصیل سے بات کریں۔ ہم نے دیکھا کئی دہائیاں پہلے ٹرانسپورٹ کا اجتماعی نظام متعارف کروایا گیاتھا۔لوگ اپنی اپنی باری پہ ایک بس پہ سوار ہوتے اور اپنی منزلوں پر، تھوڑی دقت ہی سہی، پہنچ جاتے۔ ٹرین کلچر اس کی ایک مثال ہے مگر پھر پرائیویٹ کلچر نے جست بھری اور اجتماعی کلچر پرانا اور غیر اخلاقی دکھائی دینے لگا۔ یوں ہر آدمی نے ذاتی سواری کو ترجیح دینا شروع کر دی اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں یہ ایک سماجی اسٹیٹس کو کی شکل اختیار کرتا گیا۔ آج کل اس کی ایک نہایت بھیانک شکل اپنے چارٹرڈ طیارے اور سڑکوں پر خوفناک حد تک پھیلتی ٹریفک ہے۔ آپ خود اندازہ کریں کہ ایک سڑ ک پہ ایک بس ۱۰۰ مسافروں کو نہایت کم جگہ اور ایندھن کے ساتھ منزل تک پہنچاتی نظر آ تی ہے مگر ایک کار یا ذاتی سواریاں کتنے لوگوں کا حق مار کے اسی سڑک پر جگہ اور ایندھن کا بے دریغ استعمال کر رہی ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ ایک معکوسی عمل تھا جو عرصے بعد ترقی یافتہ اقوام کو محسوس ہُوا اور اب ماس ٹرانزٹ کا نظام دوبارہ پوری دنیا میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔
چلیے اپنے اس ’’ای کلچر‘‘ کی طرف آتے ہیں۔ اس ای کلچر میں جہاں تبادلے(Exchange)کا عمل مثبت اور تاریخ کے سفر کا اگلا پڑاؤ ہے وہیں یہ کئی جگہوں پہ معکوسی بھی ہے۔ مگر ہم کیسے فیصلہ کریں گے یہ معکوسی ہے یا تاریخ کا اگلا پڑاؤ ہے۔ اس کا فیصلہ تبادلۂ اشیا کی دونوں حالتوں کی قدرِ ضروریہ کرے گی۔اس کی ایک مثال حال ہی میں نافذ کیا جانے والے ایک نظام ہے۔ یہ نظام پولیس کو جرم کی اطلاع کے طور پر نافذ کیا گیا۔ اس نظام کی رُو سے آپ انٹرنیٹ پر ایک فارم پُر کرتے ہیں اور پولیس کو اس ’’ای کلچر‘‘ کے ذریعے اپنے ساتھ ہونے والے وقوعے سے باخبر کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ اور پھر فارم کی پُر کرنے کی طویل مشقت___اگر غور کیا جائے تو یہ تبادلہ ہے اس فون کال کا جو براہِ راست چند سیکنڈز میں کسی ای کلچر کا حصہ بنے بغیراطلاع فراہم کرتی تھی۔ سو میرے خیال میں یہ بھی ایک معکوسی عمل ہے مگر ای کلچر کی چکاچوند میں اپنا ثقافتی حصار بنانے میں کامیاب ہے مگر قدرِ ضروریہ کے ساتھ اپنے پہلے استعمال سے کم تر درجے پر کھڑا ہے۔
کچھ یہی حال ای کلچر میں ای کتابوں کا ہے۔ ای کتابیں کس طرح ہاتھ میں گھمائی جا سکتی کتابوں کا متبادل ہو سکتی ہیں! پاکٹ میں ڈال کے، بس میں اپنے بیگ میں رکھ کے اور سرہانے رکھنے جیسے سہولیات کے ساتھ ایک کتاب کسی طرح بھی مشین کتاب کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ آئی پیڈ کے کھو جانے سے سیکنڑوں کتابوں کا زیاں اور ایک طرف سینکڑوں کتابوں کی مادی حالتیں۔ ای کتابیں ایک ای فورم پر کتاب کی نمائندگی تو ہو سکتی ہے مگر کسی طرح بھی ہاتھ میں پکڑی کتاب کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ دنیا بھر میں اس تبادلے کو معکوسی سمجھا جانے لگا ہے۔ کتب بینی کا یہ سلسلہ ای کلچر پر ایک اطلاع کے طور پر تو زندہ ہے مگر کتاب بینی کا دقیق عمل کسی طور بھی ممکن نہیں۔
ادبی میگزین ’’دنیا زاد‘‘ کے اس اشتہار نے اُردو زبان کی ای کلچر میں شمولیت کا اعلان تو کیا ہے مگر شاید ان کتابوں کی اہمیت اُن ویوژئیل کلچر سے بڑھ کر نہیں ہو گی جو سوشل اور سائیڈ میڈیا پر روز بروز جڑ پکڑتا جا رہا ہے۔

اُردو زبان میں ای کتاب پڑھیے” پر بصرے

  • مارچ 24, 2016 at 6:35 PM
    Permalink

    ای کلچر کی معکوس حیثیت کی جو مثال آپ نے پولیس رپورٹننگ والی دی ہے کمال کی ہے۔ ظاہر ہے جہاں نا خواندگی کا انبوہ ہو اور نیٹ جیسی بنیادی ضرورت کا فقدان ہو، وہاں تو اس طریقے کی ترقی مشکل ہے، معکوس عمل تو ابھی سوچ میں کیسے آ سکتا۔ اور ای رپورٹننگ فقط اطلاع نہیں ہوتی، یہ ریکارڈ میں رہتی ہے اور اس کی ٹریکنگ ہو سکتی ہے، جو کسی بھی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ اور دوسرا یہ کہ ای بکس اگر آپ کا ٹیب، کمپیوٹر گم بھی ہو جائے تو ضائع نہیں ہوتی اور اب آپ ایک ضخیم لائبریری لیکر بس میں، کار میں یہاں تک کہ موٹر سائیکل پر سوار ہو سکتے ہیں۔ اور آپ پانچ منٹ میں پوری کتاب دنیا کے ایک کونے سے ( اگر ہے) دوسرے کونے بھیج سکتے ہیں۔ اس کا اگر کوئی نقصان ہے تو وہ یہ کہ سکرین پر نظر جمائے آنکھوں کی خرابی کا احتمال ہے۔

    Reply
  • مارچ 24, 2016 at 10:10 PM
    Permalink

    ارتقا کے اس عمل میں کئی تبدلیاں آئیں گی ۔ وقت خود فیصلہ کر لے گا کہ کسے اپنا وجود برقرار رکھنا ہے اور کسے وقت کے دھارے میں بہ جانا ہے ۔

    Reply
  • اپریل 1, 2016 at 2:09 PM
    Permalink

    جی کسی حد تک تو آپ کی بات میں وزن ہے لیکن کیوں نہ ہم اسے اس نگاہ سے دیکھیں جو ہمیں اس کے فوائد کی طرف دھکیل دے.تحقیق کے طالبعلم کی حیشیت سے میرا مشاہدہ ہے کہ ای ورژن بہت اہم ہے. ڈیجیٹل ڈیٹابیس تحقیقی عمل میں مہینوں کا کام منٹوں میں کر دیتا ہے. اسی طرح دنیا کے کسی کونے میں لکھی گئی کتاب مجھے بھی مستفید ہونے کے لیے حاصل ہو جاتی ہےاور وجہ ای ورژن ہے. Cloud Computingنے ہمارے مسلّے کو مزید حل کردیا ہے. اگر آئی پیڈ کھو جاتا ہے تو نئے آئی پیڈ کو پرانے کی طرز پر دوبارہ تیار کیا جا سکتا ہے جس میں وہی علوم اور کتب موجود ہوں گی جو پہلے والے میں محفوظ تھیں. لہٰذا ہمیں اس کلچر کی طرف ضرور جانا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ اردو جسے ہماری نئ نسل لکھنے میں دشواری محسوس کرتی ہے پڑھنے میں بھی مسائل کا شکار ہو جائے.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *