سزایافتہ شعیب ملک ناگزیر کیوں؟

ملک محمد سلمان

Malik Salman
نیوزی لینڈ کے خلاف شرمناک اور ناقابل یقین شکست پر کسی کو بھی یقین نہیں ہورہا۔سب چکرا کہ رہ گئے ہیں کہ بہترین آغاز کے بعد انتہائی سست روی کاشکار بیٹنگ کسی کو بھی ہضم نہیں ہورہی۔پاکستان کی اننگز کے دورن انڈین سپورٹس چینل پر کمنٹیٹر حیرانگی سے تبصرہ کرتے ہیں کہ عمر اکمل اور احمد شہزادکیا کر رہے ہو ؟باؤنڈری کیوں نہیں لگارہے ،اگر ایسی ہی خراب اور سست بیٹنگ کرنی ہے تو آؤٹ ہو جاؤاور کسی کو موقع دو ،اس طرح میچ نہ گنواؤ۔شائقین کرکٹ چیخ رہے ہیں کہ محمد عرفان کی خراب باؤلنگ ،احمد شہزاد ،عمر اکمل اور شعیب ملک کی سست رفتار بیٹنگ ناقابل فہم ہے۔پاورپلے کیپہلے چھے اورز میں66اسکوراور پھر عمر اکمل، احمد شہزاداور شعیب ملک نے ٹی ٹونٹی کوٹیسٹ بنا کرمیچ پاکستان کی پہنچ سے نکال کرنیوزی لینڈ کی جھولی میں ڈال دیا ۔جس وقت ٹیم کو 10سے زائد رنز پراوور کی ضرورت ہے اس وقت احمد شہزاد آخری 17گیندوں پر 8رنزکرتا ہے۔عمر اکمل نے 26گیندیں کھیل کر ایک بھی باؤنڈری نہ لگانے والے پہلے پاکستانی کا ریکارڈ قائم کردیا،ریکارڈ کی اس ڈور میں شعیب ملک اور سرفراز بھی کہاں پیچھے رہنے والے تھے انھوں نے آخری پانچ اوور میں ایک بھی گیند باؤنڈری تک نہ پہنچائی۔
گزشتہ روز کوچ وقار یونس نے ٹیم مینجر انتخاب عالم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی شدید حیرانگی اور غصے کاا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ( احمد اور عمر )تم نے جیتا ہوا میچ ہروا دیا۔تم ٹیم کیلئے نہیں اپنے لیے کھیلتے ہو۔ انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ ہمیں نظر نہیں آتا کہ سب کیا ہو رہا تھا۔آخر باؤنڈری کیوں نہیں لگائی گئی۔
ایک نیام میں دو تلواریں نہیں ہو سکتیں تو قومی ٹیم میں دو ٹیمیں کیسے بن سکتی ہیں؟نجی ٹی وی چینل پر ٹیم کی گروپ بندی کے حوالے سے انکشاف کشا رپورٹ بھی پیش کی گئی ،مگر ٹیم مینجمنٹ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ روایتی حریف بھارت کے خلاف میچ میں بھی پاکستان ٹیم یکجا نہیں ہوسکی اور شرمناک شکست مقدر بنی ۔20فروری کو نجی ٹی وی پردوبارہ ٹیم کی گروپنگ اور دھرے بازی پر رپورٹ پیش کی گئی اور انکشاف کیا گیا کہ ٹی ٹونٹی کپتان شاہد آفریدی کے خلاف شعیب ملک کی سربراہی میں گروپنگ ہے جس میں شعیب ملک کے ساتھ محمد عرفان اور احمد شہزاد شامل ہیں جبکہ سابق کپتان محمد حفیظ بظاہر کسی گروپ میں نہیں مگر وہ بھارت کے خلاف نمبر سات پر بیٹنگ دینے کی وجہ سے ناراض ہیں اور اگلا میچ کھیلنے سے گریزاں ہیں۔کپتان شاہد آفریدی نے عمران خان سے بیٹنگ آرڈر کی بات کرنے پر عمر اکمل کی سرزنش کی کہ ٹیم کے معاملات میں مداخلت کیوں کروائی تو عمر اکمل نے منہ بناتے ہوئے فوری طور کامران اکمل کو ٹیلی فون کھڑکا دیاکہ مجھے شاہد آفریدی نے ڈانٹا ہے۔پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا نیوزی لینڈ کے خلاف اہم میچ میں حفیظ نے مبینہ طور پرانجری کا بہانہ بنا کر میچ میں شرکت سے معذرت کر لی اور عمر اکمل نے ڈانٹ کا بدلہ لینے کی ٹھان لی اور آفریدی مخالف گروپ شعیب ملک میں شامل ہوگئے۔جس کے بعد حفیظ کی طرف سے نہ کھیل کر اوران چاروں کی طرف سے جو کھیل کھیلا گیا وہ سب آپ کے سامنے ہے۔
سنیئر صحافی رانا عظیم نے گزشتہ ماہ 20فروری کو ایک نجی ٹی وی کے شو میں انکشاف کیا تھا کہ عمر اکمل اور کامران اکمل دونوں میچ فکسنگ میں ملوث ہیں۔انھوں نے مذید انکشاف کرتے ہوئے کہاتھا کہ دونوں بھائی مبینہ طور پر فیصل آباد کے ایک بکی سے باقاعدہ رابطے میں ہیں ۔ اکمل برادران نے مال روڈ پر بیش قیمت کوٹھی اپنے ڈرائیور کے نام پر لے رکھی ہے اور ڈیفنس میں ایسی محافل میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں جہاں پر مشہور بک میکر ز موجود ہوتے۔پرواگرام کے آخر میں رانا عظیم نے اکمل برادران کو چیلنج کیا تھا میرے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں اگر اعتراض ہے تو سامنے آئیں ۔یاد رہے اسی پروگرام میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز احمد نے الزام عائد کیا تھا کہ شعیب ملک بھی میچ فکسنگ میں ملوث ہے۔اگر تھوڑا پیچھے ماضی میں جھانکیں تو 2013میں جب کامران اکمل کی جگہ پر عمر اکمل وکٹ کیپر کے فرائض سرانجام دے رہاتھاتو اس نے اپنے بھائی کامران اکمل کو ٹیم میں شامل کروانے کیلئے جان بوجھ کے بیماری کا بہانہ لگایا تاکہ کامران اکمل کو ٹیم میں جگہ مل سکے،جس پر پی سی بی نے صرف بیان بازی کی حد تک کاروائی کی۔عمر اکمل کرکٹ کے علاوہ ڈانس و ٹھمکوں کے حوالے سے بھی اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ماڈل ریچل خان کے لگائے گئے الزامات کی بھی کوئی تحقیقات نہ کروائی جا سکیں۔
احمد شہزاد بھی اپنی اوٹ پٹانگ حرکات اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہمیشہ خبروں میں ہوتے ہیں۔2013میں ایک نجی پاکستانی ٹی وی چینل پر ایک بکی نے الزام لگایا تھا کہ احمد شہزاد ڈومیسٹک میچز میں فکسنگ کرتا ہے ۔محمد حفیظ کی انا پرستی اور سنئیرز کو راستے سے ہٹانے کی پالیسی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔عبدالرزاق جیسا رولڈ کلاس آل راؤنڈر بھی محمد حفیظ کی مضبوط لابی اور انا پرستی کا ہی شکار ہو کر ٹیم سے باہر ہوا تھا۔ شعیب ملک کا ماضی بھی خاصا روشن ہے ۔ابھی حال ہی میں پاکستان سپر لیگ میں جب شعیب ملک کراچی کنگز کے کپتان تھے تو روی بوپارہ نے شدید شکوک شبہات کا اظہار کیا تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہے میری سمجھ سے باہر ہے کہ میچ ہاتھوں سے نکالاجاتا ہے۔2005پہلے قومی ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں سیالکوٹ سٹالینز کے کپتان کے طور پر کراچی زیبراسے جان بوجھ کے ہارنے پر شعیب ملک ایک ٹیسٹ میچ کی پابندی اور2ون ڈے میچز کی 75%میچ فیس بطور جرمانہ بھی برداشت کرچکے ہیں۔2014میں بھی سیالکوٹ سٹالینز کی مشکوک شکست پر سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی نے شعیب ملک پر کھل کر تنقید کی تھی۔ شعیب ملک جب محمد یوسف کی کپتانی میں سازشوں اور گروپنگ کا اہم کردار تھا تواس وقت سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو خبردار کیا تھا کہ شعیب کی دلچسپی کرکٹ سے زیادی جوڑ توڑ میں ہے بورڈ کو اسکی سرگرمیوں کا جائزہ لینا چاہئیے۔جرائم کی اتنی لمبی تاریخ رقم کرنے کے باوجود بھی سزایافتہ شعیب ملک پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے ناگزیر کیوں ہے،آخر وہ کونسی طاقتیں ہیں جو ایک انتشار پسند اور کرپشن میں سزایافتہ کو ٹیم میں شامل کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔؟
کرکٹ بورڈ اور حکومتی ارباب اختیارکوپاکستانی کرکٹ کی تباہی کے اصل ذمہ دار کرکٹرز کے ماضی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے اس سارے واقعے کا از خود نوٹس لینا چاہئیے اور ان پانچوں کھلاڑیوں کے خلاف کسی بااختیار اور ایماندارتحقیقاتی ٹیم سے تحقیقات کروائی جائیں اور ملکی وقار کا سودا کرنے والے مجرموں کو سامنے لایا جائے ،ان پر غداری کے مقدمات چلائے جائیں اور ایسی سزائیں تجویز کر یں جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک سبق ہو۔ تاکہ پھر کوئی اور ایسی گھناونی حرکت نہ کر سکے۔ملک کی عزت و توقیر کا سوداکرنے والوں کو نشانِ عبرت بنا نا چا ہیے۔بے حِسی کا یہ عالم ہے کہ آج پاکستان میں ایک کھلاڑی اپنا کھیل بیچ رہا ہے ا،پنی ہوس پوری کرنے کے لیئے اپنا ملک بیچ رہاہے۔ہمارے ملک کی موجودہ کرکٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہمیں اس وقت انتہائی سخت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔تاکہ آئندہ کسی کو یہ جرات نہ ہو کہ کوئی اپنے ذاتی مفادات کے لیے پاکستان کے نام کو بدنام کرے، چاہے وہ ہمارے حکمران ،سیاستدان ، بیورو کریٹس ہوںیا پھر شعیب ملک ، احمد شہزادمحمد عرفان،عمر اکمل اور محمد حفیظ ہی کیوں نہ ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *