پلیز! آفریدی کو معاف فرمائیے

khawaja mazhar nawaz

کرکٹ کا کھیل اب بہت تیز ترین کھیلوں میں شامل ہو گیا ہے. شائقین اس کھیل میں کھلاڑیوں سے 100 میٹر کی ریس جیسی تیز ترین کارکردگی کا سوال کرتے ہیں. اگر کوئی کھلاڑی اس معیار پر پورا نہ اترے، تو تجزیہ نگار و مبصر اس کے کپڑے اتارنا شروع کر دیتے ہیں. حالیہ مختصر دورانیے کے کرکٹ ورلڈ کپ میں قومی کھلاڑی شاہد خان آفریدی پر برا وقت آیا ہوا تھا. اس وقت حالیہ ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی انتہائی بری کارکردگی پر تنہا آفریدی پر خوب تنقید جاری ہے.
اس حوالے سے پہلا سوال جو فورا ذہن میں انگڑائی لیتا ہے. وہ یہ ہے کہ کیا پاکستان کی قومی ٹیم میں صرف ایک کھلاڑی کھیل رہا تھا؟ باقی کے کھلاڑی کیا چنے بیچنے گئے تھے؟ جیت یا ہار ایک ٹیم ورک کا نتیجہ ہوتی ہے. تو کیا باقی کے کھلاڑی ورلڈ کپ کھیلنے نہیں گئے تھے؟ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اکیلے آفریدی کو ہی نام نہاد تبصرہ نگاروں نے تختہء مشق کیوں بنا رکھا ہے؟ اس مخصوص لابی کے لئے ایسا لگتا ہے کہ آفریدی آسان ہدف ہے. اس لئے یار لوگوں کے نزدیک ، بہت نکلے میرے ارماں.. مگر پھر بھی کم نکلے.. سو وہ جی بھر کے اس پہ بھراس نکال  رہے ہیں.
یہ سچ ہے کہ کھیل کوئی بھی ہو،  قیادت کی ذمہ داری کپتان پر ہوتی ہے. کپتان کی کارکردگی ٹیم کا مورال بلند کرتی ہے. مگر افسوس کہ آفریدی اپنی کارکردگی کے سلسلے میں عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا، مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ کامیابی کے لئے تمام تر انحصار آفریدی پر ہی کر لیں. اس سکواڈ میں اور بھی تو کئی نامور و تجربہ کار کھلاڑی شامل تھے. تبصرہ نگار ان سے پہلو تہی کیوں اختیار کر رہے ہیں؟ شعیب ملک، حفیظ، عمر اکمل کیا اس ٹیم کا حصہ نہ تھے؟ انہوں نے کونسے تیر مار لئے.. اور کیا گل کھلائے؟میرا نقطہ نظر آفریدی کا دفاع کرنا نہیں. میرا کہنا صرف یہ ہے کہ ہم تنقید میں بہت آگے نکل جاتے ہیں. ہم گندی زبان کا سہارا لے لیتے ہیں. ہم ذاتیات پر اتر آتے ہیں. ہم پگڑی اتار کر پاؤں میں ڈال دیتے ہیں. یہ انتہائی اقدام ہے. ہمیں اختلاف کو مخالفت کا رنگ نہیں دینا چاہئے. شائستہ لب و لہجے کی تنقید برداشت ہے. بس اس سے زیادہ نہیں. ان دنوں سوشل میڈیا اور چینلوں پر جو بازاری زبان آفریدی کے لئے استعمال کی جارہی ہے. کم از کم میں اس کی مذمت کرتا ہوں.
ہم مانتے ہیں کہ یہ دنیا ہر لمحہ  آزمائش کی دنیا ہے. ہر انسان ہمہ وقت کسی نہ کسی آزمائش کی چکی میں پس رہا ہے. یہ بھی سچ ہے کہ کوئی شخص بھی کبھی مکمل نہیں ہوتا. اچھی اور بہترین کارکردگی کے ساتھ بری کارکردگی بھی جڑی ہوتی ہے. اچھی کارکردگی پر تعریفوں کے ڈونگرے اور بری پرفارمنس پر جوتوں کے ہار.. یہ ہے ہمارا قومی مزاج.. کیا یہی ہے ہمارا اجتماعی شعور؟
ملک میں وہ کون سی پارسا ہستی ہے. جس سے کبھی کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی. غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں؟ ہم نے اس قدر کسی کی مٹی پلید نہیں کی جس قدر نامور کھلاڑی شاہد خان آفریدی کی آج کل کر رہے ہیں. ملک سے بے وفائی کے مرتکب سیاستدانوں کے بارے میں کبھی یوں خیال آرائی کسی نے کیوں نہیں کی؟ ملک کو دو لخت کرنے والوں پر اس انداز میں کبھی کسی نے انگلی کیوں نہیں اٹھائی؟ کیا آئین توڑنے، اس کا مذاق اڑانے اور اسے کاغذ کا ٹکڑا کہنے والوں کو کبھی کسی نے یوں بے عزت کیا ہے؟ ملک کے دریاؤں کو بیچنے اور اس کی سلامتی کو بیچ کھانے والوں پر کبھی کسی نے یوں مضامین کیوں نہیں لکھے؟ بدعنوانی کے بادشاہوں پر کبھی اس طرح جملے کیوں نہیں کسے گئے؟ ملک کی دولت لوٹنے والوں پر کبھی اس انداز کی طعن و تشنیع کیوں نہیں  ہوئی.. خود سے پوچھئے کہ کبھی آگ اور خون کا کھیل کھیلنے اور بوری بند لاشوں کا کاروبار کرنے والے بھی کبھی یوں رسوا کیے گئے؟ جعلی ادویات بناکر موت کے پروانے جاری کرنے اور جعلی ڈگریوں سے ایوان سجانے والے بھی اس ملک کی تاریخ میں کبھی اس طرح کی بے جا اور حد سے بڑھی تنقید کا سامنا کر پائے؟ لینڈ مافیا،بھتہ خوروںاور ٹارگٹ کلرز کے کرتوتوں پر چپ سادھے تجزیہ کار آج کیوں شور سے آسمان سر پہ اٹھائے ہوئے ہیں؟
اس انداز کی بے عزتی سے ہمارے تجزیہ کار کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں؟ یہ کیسی قومی خدمت ہے کہ آپ اپنے ہی قومی کھلاڑیوں کی کارکردگی کو مٹی میں ملا رہے ہیں. سوال یہ بھی ہے کہ بیس سالہ خدمت کو یوں رسوا کرنے سے کتنوں کے کلیجے ٹھنڈے ہوں گے؟ کیا اگلا کپتان سو فیصد کی گارنٹی پر ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری اٹھا سکے گا؟
اگر آفریدی قومی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا، تو سوال ان پر بھی اٹھایا جائے جنہوں نے یہ قیادت اسے سونپی تھی. بہت، بہت اور اب بہت ہو چکی.. اب توپوں کا رخ کسی اور طرف کیوں نہ کر لیا جائے. اس قومی کھلاڑی شاہد خان  آفریدی کو معاف کر دیا جائے. آفریدی کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی میرا خیال ہے کہ گالیوں اور الزام تراشیوں سے کسی کے ارماں پورے نہیں ہوں گے...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *