تھیٹر کی بحالی کے لیئے ازسرنو محنت کرنا ہوگی، داستان تھیٹر کے روح رواں ، ارشد منہاس

razia syed

تفریح کے اچھے مواقع کی میں ہمیشہ منتظر رہتی ہوں ،میری نظر میں فنون لطیفہ سے رغبت بہت اہم ہے ۔ تفریح ہمیشہ ایسی ہونی چاہیے جو افورڈ ایبل بھی ہو اور ساتھ ہی ساتھ آپ اس سے کچھ اچھا کچھ مثبت بھی سیکھ سکیں ۔ ظفر صاحب میرے پرانے جاننے والے ہیں ، ہمارا پیشہ وارانہ لگ بھگ سات سال کا تعلق ہے ، وہ میرے لکھنے لکھانے کے شوق کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، ایک دن یونہی مذاق میں کہنے لگے ’’کہ چلو یار آج تم تھیٹر پر ہی کچھ لکھ لو کہ ہمارے ملک میں فنون لطیفہ کی یہ صنف اتنی تیزی سے کیوں معدوم ہو رہی ہے‘ تھیٹرکے فنکاروں کا کوئی مستقبل نہیں ہے ، ہاں لیکن میں ایک خدمت تمھارے لئے سرانجام دے سکتا ہوں کہ تمھیں کسی ریڈیو ، ٹی وی او رتھیٹرکے فنکار کے پاس لے جاؤں تاکہ بہتر معلومات تک رسائی ہو سکے - قصہ مختصر ہم دونوں پہلی فرصت میں ہی ماضی کے راولپنڈی کے ایک مقبول فنکار ارشد منہاس کے ’’ داستان تھیٹر ‘‘ میں جا پہنچے ، موسم تو بہار کا ہی تھا ، بارش کی ہلکی ہلکی بوندوں نے خنکی کے احساس کو بڑھا دیالیکن وہاں گرما گرم چائے اور ریفریشمنٹ اور پھر ارشد صاحب کی بے تکلفی نے اجنبیت کا احساس تک مٹا ڈالا ۔

11

میں نے بھی یہی کوشش کی کہ گفتگو غیر رسمی ہی رہے ۔ خیر ارشد صاحب نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1980 میں اداکاری سے کیا اور ریڈیو ، ٹی وی اور تھیٹر تینوں میڈیمز میں اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ اب آجاتے ہیں اصل موضوع کی جانب کہ 1984 میں انھوں نے ’’ داستان تھیٹر ‘‘ کے نام سے درحقیقتتھئیٹر کی بحالی کے لئے اپنا ایک پراجیکٹ شروع کیا ۔

12

اب منظر کچھ یوں ہے کہ ہم ایک ڈرامے کے سیٹ پر گھوم رہے ہیں جگہ جگہ کاسٹیو مز ، کیمرے اور دیگر تکینکی سامان دکھائی دے رہا ہے ۔ساتھ ساتھ ہم فنکاروں سے بھی متعارف ہو رہے ہیں ۔ باتوں باتوں میں ارشد صاحب کئی حقیقتوں سے پردہ اٹھاتے گئے ، ایک طرف وہ اس بات سے شاکی نظر آئے کہ ہمارے ملک میں آرٹ موویز اور ڈرامے نہیں بنتے نہ ہی یہاں اچھے اور معیاری ادب کا انتخاب کیا جا تا ہے ۔تھیٹر کی یہ بدقسمتی ہے کہ اسکے فنکار کو باوجود زیادہ باصلاحیت ہونے کے اور بڑا اداکار ہونے کے عام اور چھوٹا فنکار سمجھا جاتا ہے ۔

13

تھیٹر ایک ایسا میڈیم ہے جس میں آپ کو ریہرسل کی کوئی گنجائش نہیں دی جاتی فوری طور پر آپ کو آپ کی پیش کش کا رسپانس مل جاتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں مختلف ڈراموں کو سپانسر نہیں کیا جاتا ، علاقائی ڈرامے لکھنے کے لئے لکھاریوں کی کمی ہے ،فنڈز کی عدم دستیابی ہے جس کی وجہ سے ان فنکاروں کا کوئی مستقبل نہیں ۔ اگر وہ بیمار ہو جاتے ہیں تو کوئی ان کی مالی امداد نہیں کرتا ، وفات کی صورت میں پسماندگان بے آسرا ہوجاتے ہیں تو ان فنکاروں کا کیا مستقبل ہے ؟ ان کا خیال تھا کہ ہمیں تھیٹرکی بحالی کے لئے ازسر نو محنت کرنا ہو گی ، دوہرا رویہ ترک کرنا ہوگا اور اپنے شائقین کو متاثر کرنے کے لئے اچھے ادب کے انتخاب کو یقینی بنانا ہو گا ۔

14

پاکستان میں بڑے تھیٹرزکے حوالے سے متعلق سوال پر ان کا یہ کہنا تھا کہ اجوکا ت تھیٹر اور رفیع پیرزادہ بے شک بڑے نام ہیں لیکن کیا ہمارے ارباب اقتدار یہ نوٹ نہیں کرتے کہ یہ تھیٹرز ا یک مخصوص نظریے پر کام کر رہے ہیں جیسے بھارت کی بہت زیادہ ستائش اور آزاد خیالی ۔۔میرے اس سوال پر کہ کیا فن کی اس خاص صنف کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے انھوں نے کہا کہ اصل بات تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت فن و تہذیب کی اور فنکاروں کی قدر دان ہے اب حالیہ صورتحال یہ ہے کہ نیشنل کونسل آف آرٹس کے لئے ڈھائی لاکھ روپے کا بجٹ رکھا جاتا ہے ، NAPA جبکہ ایک پرائیوئٹ باڈی ہے اسکا کوئی آؤٹ پٹ نہیں اسے ساڑھے آٹھ کروڑ کے فنڈز جاری کئے جاتے ہیں ، اس کے برعکس ہم کوئی بھی ڈرامہ کرنا چاہیں تو ایک ایک لاکھ کا ہال بک کروانا ہوتا ہے ۔کیا یہ منصفانہ رویہ ہے ؟

15

داستاں تھیٹرکے زیر اہتمام بنائے گئے ڈراموں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ کرشن چندر ، سعادت حسن منٹو ، امتیاز علی تاج ، اور کئی دیگر مصنفین کی تحریروں کی ڈرامائی تشکیل کی گئی ہے ۔ جبکہ ’’ ابلیس کی مجلس شوریٰ ‘‘ نامی نظم کو بھی اسی طرح منظوم انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔اب مجھے یہ بھی اشتیاق تھا کہ ان سے پوچھوں کہ کیا آپ کے تھیٹر میں سیکھنے کے لئے کوئی فیس بھی ہے اور یہ بھی بتائیں کہ آپ کو کس طرح کے ناظرین سے پالا پڑتا ہے ۔ اب باری ان کے مسکرانے کی تھی ، ارشد صاحب نے کہا کہ داستان تھیٹر کے ناظرین عام تھیٹر کے ناظرین سے بالکل مختلف ہوتے ہیں ، ہم جو ڈرامے بناتے ہیں انھیں دیکھنے کے لئے جڑواں شہروں کے شہری آتے ہیں جو ایک خاص طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور تہذیب یافتہ بھی اس لیے یہاں پر تھیٹر کر کے ہمیں خود بھی خوشی ہوتی ہے کہ کسی قسم کی کوئی بھی عامیانہ حرکت نہیں کی جاتی ۔ باتیں تو اور بھی بہت سی ذہن میں تھیں لیکن اب انکے تیار کردہ ڈرامے کے کاسیٹومز اور فرنیچر کی سلیکشن باقی تھی سو ہم نے ان سے اجازت لی اور واپسی کی راہ لی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *