بھارت کا اصلی چہرہ

رانا اعجاز حسین

rana-ejaz-hussain

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بھارتی ظاہری بیانات اور درپردہ کاروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، بھارت کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ پاکستان کبھی ترقی نہ کرپائے۔دوسری جانب چور مچائے شور سے مصداق، آئے روز بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف شور و واویلہ کیا جاتا رہتا ہے، کبھی پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے ہیں تو کبھی ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی جاتی ہیں ، کبھی بھارتی خفیہ ایجنسی RAWکے ذریعے پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیاں کرواکر ملک کو کمزور کیا جاتا ہے۔ کہیں پاکستان کے حصے کے پانی کا حق سلب کیا جاتا ہے تو کہیں بے انتہاء پانی چھوڑ کر پاکستان کے زرعی علاقوں کو ڈبو دیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں بھی بلوچسان سے گرفتار بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر، اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹ کی گرفتاری عمل میں آئی ہے ، بھارتی ایجنٹ بھوشن یادیو نے دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ بلوچستان اور کراچی میں علیحدگی اور فرقہ ورانہ فسادات کے ٹاسک پر کام کررہا تھا۔
پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث متعدد بھارتی جاسوس پہلے بھی گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ ان بھارتی جاسوسوں نے دہشت گردی کی وارداتوں کے ذریعے پاکستان کی سا لمیت کو نقصان پہنچانے کی بھارتی سازشوں کا انکشاف اور اعتراف کیاہے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بھارتی سیاست دان نہ صرف ایسے اقدامات میں ملوث رہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے بلکہ وہ دیگر ممالک کے اندرونی معاملات پر مداخلت پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔بھارتی جاسوس کی گرفتاری سے، بھارتی حکومت کی منافقت ، پاکستان دشمنی اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں حائل ہونا، اقتصادی راہداری کی مخالفت کرنا، اور پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے بدامنی پیدا کرنامذید عیاں ہوجاتا ہے۔ ایک دشمن سے اس سے زیادہ توقع ہی کیا کی جاسکتی ہے، مگر بھارت نے روایتی دشمنوں سے کہیں زیادہ دشمنی نبھائی ہے جس سے اس کے مکروہ عظائم پوری دنیا کے سامنے عیاں ہوئے ہیں۔ ایک طرف تو بھارت اپنی ایجنسیوں کے ایما ء پر بلوچستان، کراچی اورملک کے دیگر علاقوں میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے زریعہ آگ اور خون کا ناپاک کھیل کھیل رہا ہے تو دوسری جانب پاکستان پر ہی دہشت گردی کے الزامات عائد کرتا رہتا ہے۔
بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور کراچی میں دہشت گردوں کی پیسے اور اسلحہ سے سرپرستی اب کوئی راز نہیں رہا۔ پاکستان کو RAW کی مداخلت کے ٹھوس ثبوت مل گئے ہیں۔ پاکستان جو خود دہشت گردی کا شکار ہے اور دہشت گردوں سے جنگ لڑ رہا ہے، کسی اور ملک میں دہشت گردی کا سوچ بھی نہیں سکتا، جبکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج پاکستان میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی اور قتل غارت کے واقعات رونماہورہے ہیں ان سب کے پس پردہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘سمیت دیگر ایجنسیاں اور بھارتی فوج، اور خطے کو آگ و خون کی ندی بنانے کا خواب دیکھنے والے بھارتی انتہاپسندجنونی ہندوؤں کی تنظیمیں ہی کارفرماہوتی ہیں۔سقوط ڈھاکہ کے پیچھے بھی بھارتی ہاتھ تھا اس کا اظہار بھارتی وزیر اعظم ازخود کر چکے ہیں۔ بھارت جہاں خطہ میں توازن کے بیگاڑ کا بارث بن رہا ہے وہیں پاکستان کی ترقی اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی اور محفوظ پاکستان اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اور ہمیشہ مسئلہ کشمیر سمیت دیگر امور پر پاک بھارت مذاکرات کو محض مذاق رات سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ آج پاکستان کا شمار دنیاکی ان عظیم ایٹمی طاقتوں میں ہوتاہے جس کا بھارت کبھی گما ن بھی نہیں کرسکتا، آج اگر پاکستان چاہے تو ایک پل بھی نہ لگے کہ بھارت کا جنگی جنون اورسازشیں سب خاک ہوجائیں مگر پاکستان امن چاہتاہے ۔ پاکستان اعلیٰ درجے کی ایٹمی صلاحیتوں سے مالامال ہوکر بھی خطے میں محبت اور بھائی چارگی اور امن و سکون اورطاقت کے توازن کے دائمی قیام کے خاطر بھارت کی ہٹ دھرمی برداشت کرتا آیا ہے ، بھارت کو چاہیے کہ پاکستانی علاقوں سے دراندازی اور اپنی ایجنسیوں کے ایماء پر بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں دہشت گردانہ کاروائیاں فوری طور پر مکمل بند کرے ورنہ وہ یہ بات اچھی طر ح سے سمجھ لے کہ پاکستان نہ تو بھارت سے کسی معاملے میں کم ہے اور نہ ہی کسی میدان میں پیچھے ہے، اگر اس کی برداشت کی حد جواب دے گئی تو بھارت کو خطے میں اپناوجود قائم رکھنابھی مشکل ہوجائے گا۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج اور پاکستان کے عوام نہ کسی طرح سے کمزور ہیں نہ ہی بزدل، اگر بھارت اپنے سیاہ کارناموں سے باز نہ آیا توافواج پاکستان اسے ایسی فاش شکست دے گی جو رہتی دنیا تک مثال ہوگی۔ پاکستان اپنی بقاء اور سا لمیت کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے بھی قطعاً دریغ نہیں کرے گا۔اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ بھارت کی پاکستان میں دراندازی، جارحیت اور اقتصادی ترقی کی راہ میں مداخلت کا نوٹس لے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *