میں نے شادی کے بغیر نکاح کا فتوی کیوں دیا؟ مفتی عبدالقوی

دردانہ انجم 

main nay shadi kay bagair nikah ka

حال ہی میں مفتی عبدلقوی، مشیر فقہ شرعی عدالت، کا ایک فتویٰ سامنے آیا ہے۔ اس فتوے کے مطابق فی زمانہ کوئی بھی مسلمان چار شادیاں نہیں بلکہ ایک شادی اور چار نکاح کرے گا۔ اس فتوے کی منطق سمجھنے کے لیے ’ہم شہری‘ کی ٹیم مفتی صاحب کا انٹرویو کرنے ان کی عارضی رہائش گاہ گلبرک لاہور پہنچی۔بقول مفتی عبدلقوی اسلا م میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ اگر کوئی مرد اور عورت چاہیں تو وہ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر سکتے ہیں۔ ولی کی شرط ضروری نہیں۔ مولانا صاحب نے برملا تو نہیں کہا کہ وہ اس کوشش کو جنسی تسکین کا ایک جائز ذریعہ بنا کر پیش کر رہے ہیں، ان کی گفتگو سے بہر حال نتیجہ یہ ہی نکلتا ہے۔ مولانا صاحب کے جذبے کا یہ عالم ہے کہ اپنے یہاں آنے والی کسی بھی خاتون سے، چاہے وہ پروفیشنل کام ہی سے کیوں نہ آئی ہو، اسکی موجودہ ازدواجی زندگی سے مطلق سوال کرنے اور اگر ضرورت محسوس کریں تو حل پیش کرنے سے بھی نہیں چونکتے۔
مفتی صاحب کے ساتھ گفتگو کا آغاز حقوق نسواں بل سے کیا تاکہ پہلے یہ جانا جاسکے کہ مولوی حضرات اس قانون کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں اور کیا مفتی عبدلقوی بھی اسی صف میں کھڑے ہیں۔
س: دینی جماعتوں کی طرف سے حقوق نسواں بل کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے؟
ج: میں نے اس قانون میں جو کچھ پڑھا ہے میرے علم کے مطابق اس میں کوئی سقم نہیں۔ میرا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میرے علاقے میں خواتین پر کس کس انداز سے تشدد ہوتا ہے۔ وہاں خواتین کو صرف خاوند ہی نہیں خاوند کا بہنوئی بھی مارتا ہے۔ کسی بچی کو شادی کے معاملے میں اپنی پسند کا اظہار کر نے کا اختیار نہیں ہے اور وٹے سٹے کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ میری اسلامی عدالت انصاف 1999 سے اس قسم کے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ عورتوں پر تشدد کے پانچ سے سات مقدمات میں روزانہ سنتا ہوں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ اس قانون میں کوئی شق ایسی نہیں ہے جو قرآن و سنت سے متصادم ہو۔
س:اگر ایسا ہے تو پھر اس مخالفت کے پیچھے ایجنڈا کیا ہے؟
ج: ہمارے علمائے کرام دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ حکومت کے بقایا دو ڈھائی سال رہ گئے ہیں۔ ہمارے یہ علماء،دین والے کم اور سیاسی زیادہ ہیں۔ مستقبل کا جو زائچہ یہ اپنے لیے دیکھ رہے ہیں اس میں اپنی اہمیت بڑھانے کے لیے اس قانون کو ایک موضوع بنا یا گیا ہے۔ ورنہ اگر اس کو دینی حوالے سے دیکھا جائے تو ان کا اعتراض صفر ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اگر آپ غور کریں تو یہ لوگ اس قانون کی بات کم اور عافیہ صدیقی اور ممتاز قادری سے مطلق بات زیادہ کر رہے ہیں۔ جس کا مقصد لوگوں میں امریکہ کے خلاف منفی جذبات پیدا کرنا ہے۔ اگر آپ کو پنجاب اسمبلی کے قانون پر اعتراض ہے تو آپ یہ کہیں گے ہم صرف اور صرف پنجاب اسمبلی کو متعین کر کے میدان میں آرہے ہیں۔ پھر دیکھیں کہ ان کے جلسوں میں کتنے لوگ آتے ہیں۔ دوسو لوگ بھی آجائیں تو میں پنجاب چھوڑ دوں گا۔
جتنی بھی دینی جماعتیں اعتراض بلند کر رہی ہیں وہ پنجاب کے حوالے سے مردہ جماعتیں ہیں۔ انکی صوبے میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ سوائے جماعت اسلامی کے جن کا صرف ایک نمائندہ ہے وہ بھی پاکستان تحریک انصاف کا مرہون منت۔ جو زندہ جماعتیں ہیں، وہ ہیں نون لیگ، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، اور مسلم لیگ ق۔ یہ تمام جماعتیں اس قانون پر متفق ہیں۔
س : کیا عورت اسلام، مذہب، یا مردوں کے لے خطرہ ہے؟
ج: خواتین مسئلہ نہیں ہیں۔ پاکستان میں عورت،اور اس جیسے جتنے بھی مظلوم طبقات ہیں ہمارے علما ان کی نمائندگی نہیں کرتے۔ عورتوں سے متعلق تو قرآن نے خصوصی تعلیمات دی ہیں۔ اب تو مصری علما کا بھی فتویٰ موجود ہے کہ چہرے کا پردہ نہیں ہے۔ میں بھی اس بات کی تائید کرتا ہوں۔ اب اعلانیہ یہ بات کی جارہی ہے۔ تمام علمائے اسلام، جن کو اللہ نے عقل دی ہے کہہ رہے ہیں کہ خواتین اپنے رزق کے حصول کے لیے سفر بھی کرسکتی ہے۔ اب یہ بات بھی آرہی ہے کہ خواتین مخلوط نظام تعلیم میں علم حاصل کر سکتی ہے۔
س: آپ نے فتویٰ دیا ہے جس کے مطابق شادی ایک اور نکاح چار ہوسکیں گے ؟ اس کا مطلب واضح کریں۔
ج: اس فتوے کو سمجھنے کے لیے پہلے تین مختلف نوعیت کے حالات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ ان صورت حال کا سامنا مجھے براہ راست ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔
پہلی صورت تو ان نوجوان لوگوں کی ہے جو یورپ میں مقیم ہیں اور میرے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ شیعہ حضرات ان اہل سنت نوجوانوں کے لیے متاع کے ذریعے سہولیات پیدا کرنا چاہ رہے ہیں ۔ انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ یا تو ہم شیعہ ہو جاتے ہیںیاآپ ہمارے لیے کوئی راستہ نکالیں۔
دوسری صورت ایسی خواتین کی ہے جن کی عمر 35سے 40 کے درمیان ہے اور ان کے خاوند یا تو فوت ہو گئے ہیں یا ان کی طلاق ہو گئی ہے۔ اس عورت کے بچے بھی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق جاگیر دار خاندان سے بھی ہو ۔ ایسی صورت میں محترمہ نہیں چاہتی کہ وہ شادی کے نام سے کوئی رشتہ رکھے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے لیے کوئی راستہ نکالا جائے۔
تیسری صورت میں وہ سرکاری افسران آتے ہیں جو تبادلے کی صورت میں بیوی کو چھوڑ کر دوسرے شہروں میں رہنے کے پابندہیں ۔ ایسے لوگ مجھ سے رابطہ کرتے ہیں کہ ہمیں کوئی راسطہ بتائیں کہ ہم گناہ سے بھی بچ جائیں اور ہمارا شرعی طور پر کام بھی بن جائے۔
ان تمام صورتوں میں میرا ان محتر ماؤں اور حضرات سے کہنا ہے کہ وہ شادی نہیں بلکہ نکاح کریں گی ۔

durdana anjum

س: یہ نکاح کس نوعیت کا ہوگا؟
ج: اس نکاح کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تشہیر نہیں کی جائے گی۔ یہ نکاح دو گواہوں کی موجودگی ہی میں ہو گا اور اس میں عورت کا نان نفقہ اور مہر بھی طے پائے گا اور عورت کی رضامندی بھی شامل ہوگی ۔ مگر یہ معاہدہ صرف اور صرف دو لوگوں کے درمیان طے پائے گا اور ان ہی کی حد تک محدود رہے گا۔
س: شادی اور نکاح میں کیا فرق ہے؟
ج: شادی اعلانیہ ہے اور نکاح اعلانیہ نہیں ہے۔ میں خفیہ نہیں کہتا پھر مسائل پیدا ہونگے۔ ان میں خاندانوں کی شمولیت نہیں ہو گی۔
س: اور کوئی محرک اس فتوے کے پیچھے ؟
ج: اس فتوے کو دینے کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ ہمارے عائلی قانون کے مطابق کوئی بھی مرد پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتا ۔ جنھوں نے دوسری شادی کی ہمیں ان کے انجام کا پتا ہے۔ میرے پاس جب دوسری شادی کے بعد لوگ آتے ہیں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ خدارا اگر آپ مجھ سے پہلے پوچھ لیتے تو میںآپ کو شادی کی اجازت نہ دیتا بلکہ نکاح کرنے کا مشورہ دیتا۔
س: کیا اس فتوے سے یہ صورت بھی نکلتی ہے کہ اب ایک مرد اور عورت تنہائی میں ایجاب و قبول کے ساتھ لطف اندوز ہوسکتے ہیں ؟
ج: بغیر دو گواہوں کی موجودگی کے کسی بھی مرد و عورت کا ملنا جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی مرد وعورت تنہائی میں ملتے ہیں وہ نکاح نہیں ہے بلکہ بے حیائی ہے۔ ہم خدا نخواستہ گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کو جائز نہیں قرار دے رہے۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ نکاح ہے، نکاح ہے، نکاح ہے۔
س: آپ کے تجویز کردہ نکاح اور متاع میں کیا فرق ہے۔
ج: زمین وآسمان کا فرق ہے۔ ہمارے اہل تشیع حضرات کے یہاں گواہ کی شرط نہیں ہے۔ ایران میں جب اسلامی حکومت آئی تو ان پرمتاع کے حوالے سے بوچھاڑ ہوئی ۔ ان سے متاع اور زنا میں فرق پوچھا گیا۔ ایسے میں ان کے علماپھنس گئے۔ متاع میں محترم اور محترمہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ عرصے کے لیے اکٹھے رہیں گے۔ اس میں اور زنا میں کیا فرق ہے؟
س: اس طرح کے نکاح کی ایک اور صورت سعودی عربیہ میں بھی پائی جاتی ہے اسے مسیارکہتے ہیں۔ اس کی کیا صورت ہے؟
ج: سعودی علما کے سامنے بھی جب یہ بات آئی کہ ان کے نوجوان حصول تعلیم کے لیے جب بیرون ملک جاتے ہیں تو وہاں ان سے کچھ ایسی غلطیاں ہو جاتی ہیں جو بد اخلاقی اور بد کرداری میں شمار ہوتی ہیں تو انہوں نے اس کے لیے جو راستہ نکالا اسے نکاح مسیار کہتے ہیں۔
مسیار سیر سے ہے۔جس کے معنی ہیں سفر۔ ایک دورانیہ کے لیے انہوں نے اس قسم کے نکاح کو جائز قرار دے دیا۔
س: کیا اس قسم کے وقتی تعلقات کی اور بھی کوئی صورت ہے۔
ج: اس سے خوفناک کیفیت تو داعش نے پید ا کی ہے۔ جس کے مطابق جو محترمہ بھی کہیں سے ملک شام یا جہاں بھی داعش موجود ہیں جائے گی، وہ ان کے مجاہدین کے ساتھ رہ سکتی ہے۔ اس کا نام انہوں نے نکاح جہادرکھا ہے۔
الحمدللہ میں نے جو فتویٰ دیا ہے اس میں محترمہ نہ تو کسی کی منکوحہ ہو گی، اور نہ اس سے جبراً نکاح کیا جائے گا۔
نکاح جہاد کے نام پر انہوں نے یہ ظلم کیا ہے کہ اگر محترمہ کسی کی منکو حہ بھی ہو اور جہاد کے جذبے میںآ کر وہ ان تک پہنچ گئی، تو اسے مجاہدین کے درمیان پیش کیا جائے گا جہاں جو بھی مجاہد چاہے اس سے نکا ح کر لے گا۔
جس وقت نکاح جہاد، نکاح مسیار کی بات ہورہی ہے، ایسے میں ہمارا نکاح بہتر ہے جس میں تمام شرعی حدود کا لحاظ رکھا گیا ہے۔

 source:Humshehri

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *