سیاست دان اور نیا عمرانی معا ہدہ

Asghar Khan Askari Picture

اس میں کو ئی دو آراء نہیں ہے کہ پا کستان میں اس وقت مختلف طبقات کو ریاست اور دستور کے ساتھ نئے عمرانی معا ہدے کی ضرورت ہے۔پا کستان میں بہت سارے طبقات اور ادارے ایسے ہیں کہ اگر وہ ریاست اور آئین کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کر لیں تو ملک میں تر قی اور خوشحالی کی ایک نئی فضا بنا ئی جا سکتی ہے ان اہم طبقات میں سیاست دان،پارلیمنٹ، عوام ،فوج،عدلیہ،سو ل بیو روکریسی ،میڈیا ،سول سو سا ئٹی اور طلبہ اور مزدوروں کی انجمنیں شا مل ہیں۔اس بات پر پوری قوم کا اتفاق ہے کہ ملک سے بد عنوانی ،بدامنی،اقرباپروری،بے روزگاری،مہنگائی اور غربت کا خا تمہ ہو نا چا ہئے،لیکن پھر بات وہی آجا تی ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کو ن با ندھے گا؟ یعنی اس کا ر خیر کا آغاز کو ن کر یگا۔میر ے خیال میں اس بھلا ئی کو شروع کر نے کے لئے سیاست دانوں کو نہ صرف آگے آنا ہو گا۔ بلکہ اس کی ابتدا بھی ان کو کر نی ہو گی۔اگر سیاست دان اس کار عظیم کو انجام دینے کے لئے آگے بڑ ھتے ہیں، تو اس نئے عمرانی معا ہدے کے خدو خال کچھ اس طر ح ہو نے چا ہئے۔
* نئے عمرانی معا ہدے میں تمام سیاست دان اپنی سیاسی جما عتوں کو اس بات کا پا بند بنا ئیں کہ پارٹی میں مو روثیت نہیں ہو گی۔ہر پا نچ سال بعد انتخابات ہو نگے جو خفیہ رائے دہی کے زریعے سے ہو نگے ،جس میں ملک کے پا رٹی کے سر براہ اور صو با ئی سر برا ہوں کا انتخاب کیا جا ئے گا۔پارٹی انتخابات کے دوران اس بات پر مکمل پابندی ہو گی کہ کو ئی بھی امیدوار یا اس کا حما یتی کسی قسم کی انتخابی مہم نہیں چلا ئے گا۔
* ملک کے تمام سیا سی جما عتوں سے وابستہ سیاست دانوں کو از سر نو اس بات کا اقرار کر نا ہو گا کہ وہ ملک میں کسی بھی اس تبدیلی کی حمایت نہیں کر ینگے جس کی اجا زت دستور پا کستان نہیں دیتاچا ہے وہ ما رشلاء کی صورت میں فوجی آمر ہو یا جمہوریت کے لبادے میں سول ڈکٹیٹر ۔
* سپریم کو رٹ آف پا کستان میں کراچی میں بد امنی کے مقدمے میں یہ با ت سا منے آ گئی ہے کہ اس شہر میں موجود تمام سیاسی جما عتوں نے اپنی بقا کے لئے مسلح گر وہ بنا رکھے ہیں اس لئے سیاست دانوں کو اس نئے عمرانی معا ہدے میں اس بات کو شا مل کرنا ہوگا کہ وہ آئندہ کسی بھی مسلح گروہ کا ساتھ نہیں دیں گے اور نہ ہی جرائم پیشہ افراد کی پشت پنا ہی کر یں گے۔
* تمام سیاسی جما عتوں کو پار ٹی میں مو جود مالی اور اخلاقی بد عنوانی میں ملو ث لو گوں کا کھرا احتساب کر نا ہو گا۔اقربا پروری اور سفارش کے ظالمانہ نظام کو مسترد کر نا ہو گا۔سفارش نہ ہو نے کی وجہ سے آجکل بہت سارے با صلا حیت نوجوان دربدر کی ٹھو کر یں کھا رہے ہیں۔
* نظام حکومت کو چلا نے کے لئے تمام سیاست دانوں کو پو ری ایما نداری کے ساتھ ٹیکس دینا ہو گا۔کاروبار پاکستان میں ہی کر نا ہوگا اور جو با ہر بینکوں میں ان کا پیسا پڑا ہے اس کو ملک میں واپس لا کر یہاں پر ہی کا روبار شروع کر ینگے۔اپنے کا رخانوں میں بین الا قوامی قوانین کی مکمل پا سداری کر تے ہو ئے ملا زمین کو سہولتیں دینے کا عزم کر نا ہو گا۔
* نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے سیاست دان اس بات کو اپنے اوپر فرض کر ینگے کہ ان کے بچے سر کا ری سکو لوں میں پڑ ھیں گے۔اسی طر ح سرکاری ہسپتالو ں میں صحت کی سہو لیات کو بہتر بنا نے کے لئے بھی اس بات کو یقینی بنا ئیں گے کہ وہ علاج کے لئے ملک سے با ہر نہیں جا ئیں بلکہ ملک کے سر کا ری ہسپتالوں میں اپنا علاج کر وائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ ان اقدامات کی وجہ سے ملک میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں کو ئی بہتری آجا ئے۔
* سیاست دانوں کو نئے عمرا نی معا ہدے میں اس بات کا بھی اقرار کر نا ہو گا کہ وہ الیکشن کمیشن آف پا کستان اور پا کستان کی عدلیہ کو مکمل آزادی اور خود امختا ری دیں گے تا کہ دستور کے تقا ضوں کے مطا بق افراد منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچ جا ئے اور اگر کسی کے ساتھ ظلم اور زیاد تی ہو جا ئے تو اس کو اس بات کا یقین ہو کہ اس کو بندوق اٹھا نے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کو انصاف دلا نے کے لئے اس ملک کی عدا لتوں کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور ان کو انصاف کے لئے سا لو ں نہیں بلکہ صرف چند ہفتوں تک انتظا ر کر نا ہو گا۔
* ملک میں احتسا ب کے نظام کو بہتر بنا نے کے لئے نیب اور دوسرے متعلقہ اداروں کو سیاسی اثر ورسوخ سے آزاد کر نے کے لئے بھی سیاست دانوں کو نیا معا ہدہ کر نا ہو گا،جب تک ملک میں احتساب کا آزاد ادارہ وجود میں نہیں آئیگا اس وقت تک یہ ممکن نہیں ہے کہ اس ملک سے ما لی بد عنوانی کاخا تمہ ہو جا ئے۔
* ہمارے ہاں یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ سیاست دان کبھی ریٹا ئر ڈ نہیں ہو تااس لئے سیاست دانوں کو اب اس بات کا بھی ادراک کر نا ہو گا کہ جس طرح دوسرے انسانوں کی طر ح ان کو بھی ایک دن مر نا ہے اسی طر ح دوسرے شعبوں کے لو گوں کی طر ح ان کو بھی ایک دن ریٹا ئرڈ ہو نا ہوگا اس لئے پاکستان کے سیاست دانوں کو دستور میں لکھنا پڑے گا کہ کو ئی بھی شخص دو مر تبہ سے زیادہ ملک کا صدر،وزیر اعظم،وزیر اعلی اور صو بائی گورنر نہیں بن سکے گا۔ضروری نہیں کہ صرف ان ہی نکات پر اکتفا کیا جا ئے ، بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ سیا ست دان آپس میں سر جو ڑ کر بیٹھ جا ئیں اور اس بات پر غور و فکر کر لیں۔ کہ ملک میں بد امنی کیوں ہیں؟ انصاف کا حصول کیو ں ایک خواب بن گیا ہے ؟احتساب کا نظام کیوں کر پشن کو قا بو کر نے میں نا کا م ہیں؟ نظا م اور نصاب تعلیم کیوں تر بیت دینے سے عاری ہے؟سیا ست دان کا بیٹا ، بیٹی یا دوسرے قریبی رشتہ دارزیادہ تر سیاست دان کیوں بنتے ہیں؟صحت کے نظام پر عطا ئیوں کا قبضہ کیوں ہے؟پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام کیوں استحکام نہیں پا رہا ہے؟ معیشت کیوں ابتری کا شکار ہے ؟ بیر ونی قر ضو ں میں اضا فہ کیو ں ہو رہا ہے ؟عدم بر داشت کے رویوں میں روز بر وز اضا فہ کیو ں ہو رہا ہے ؟بے روزگار، مہنگا ئی اور غربت میں کمی کیو ں نہیں ہو رہی ہے۔عوام کا سیاست دانوں سے اعتماد کیو ں ختم ہو تا جا رہا ہے۔ آئندہ مضمون میں پارلیمنٹ کے دستور کے ساتھ نئے عمرانی معاہد ے کے با رے میں چند نکات کا تذکرہ کر یں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *