یہ ہے پاکستان

Anjum Niazانجم نیاز

چند ہفتے پہلے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے قسم کھاتے ہوئے یقین دلایا کہ اسلام آباد دھشت گردوں کے حملے سے بالکل محفوظ ہے۔ لوگوں کو یقین ہونا چاہیے کہ اس کی سیکورٹی فول پروف ہے، چنانچہ وہ اُن کی یقین دہانی کو تسلیم کرتے ہوئے آرام سے زندگی بسر کریں۔ ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ اس یقین دہانی کے چند دن بعد اسلام آباد عدالت پر حملہ ہوجاتا ہے۔ کیا لوگ آئندہ بھی ان کی بات پر یقین کریں گے ؟یہ ایک عام فہم بات ہے کہ دنیا میں کہیں بھی ایسا واقعہ پیش آیا ہوتا ... وزیرِ داخلہ کی یقین دہانی کے چند دن بعد ٹھیک دارالحکومت میں حملہ ہوجاتا تو جھوٹے وعدے کرنے کی پاداش میں یا تو وزیرِ داخلہ مستعفی ہوجاتے یا اُنہیں برطرف کر دیا جاتا۔ لیکن ہمارے ہاں ان باتوں کی گنجائش نہیں، یہ پاکستان ہے۔
پاکستان میں چاہے سیاست ہو یا کاروبار، مذہبی معاملات ہوں یا سماجی رویے، ایسا لگتا ہے کہ نفسیاتی طور پر ہم سب اذیت پسندی کا شکار ہیں۔ خاص طو ر پر حکمران طبقے کو انسانی جان کی کوئی قدرو قیمت نہیں۔ اب تک دھشت گردوں کے ہاتھوں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اورمزید جانی نقصان کا خدشہ بھی ہے جبکہ حکمران اپنے محفوظ محلات میں بیٹھے بے معنی بیانات جاری کررہے ہیں۔ عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا تھا لیکن چوہدری نثار اور رحمان ملک میں کیا فرق ہے؟دونوں نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ وہ اس اہم منصب کے حق دار نہ تھے جس پر اُنہیں بٹھا دیا گیا۔ مہذب معاشروں میں وزیرِ داخلہ یا اس کے متوازی عہدیداران کی جان سولی پر ٹنگی رہتی ہے کیونکہ اُنھوں نے بہت سی باتوں کا جواب دینا ہوتا ہے، لیکن یہ پاکستان ہے۔ سابقہ دو ر میں صدر زرداری کو اس منصب پر ایسا شخص چاہیے تھاکہ غلط کام کرتے ہوئے اس کے پائے استقلال میں لرزش نہ آئے۔ چنانچہ مسٹر ملک نے اپنے انتخاب کی لاج رکھی۔ کراچی سے لے کر خیبر تک امن و امان کی ذمہ داری اُنھوں نے جس طرح رات کو دن ثابت کرتے ہوئے نبھائی وہ اپنی مثال آپ ہے.... مجھے کہنا چاہیے ’’تھا‘‘ کیونکہ چوہدری صاحب ان کو مات دینے کی کامیاب کوشش کررہے ہیں۔
نواز شریف صاحب کے سامنے مسلۂ یہ ہے کہ اُنھوں نے اپنے سیاسی قلعے کو محفوظ بنانا تھا۔ اگرچہ بطور اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار کی کارکردگی مایوس کن تھی لیکن اُنہیں یہ انتہائی اہم عہدہ، خاص طور پر جب پاکستان کو داخلی طورپر بہت گھمبیر چیلنجز درپیش ہیں، گفٹ کر دیا گیا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان اس پر ہنسے یا روئے۔ اﷲ کے بندو، اگر آپ اپنے وفاداروں کو نوازنا چاہتے ہیں تو کوئی اورراستہ اختیار کرلو لیکن پاکستان کی سالمیت سے تو نہ کھیلو!اگر آپ کے وفادار ایسی صلاحیتوں کے مالک ہیں تو اُنہیں ایسا عہدو دو جس سے وہ کم از کم انصاف کر سکیں ۔ اس سے پہلے رحمان ملک کو مخلوط حکومت کے لیے بہت سے عجیب وغریب کام کرنا پڑتے تھے اور اُنھوں نے وہ کام اچھے طریقے سرانجام دیے اور پھر عوام بھی صبر سے سب کچھ دیکھتے رہے یہاں تک کہ انتخابات میں اُنھوں نے حساب چکادیا۔ اب نوازشریف صاحب نے چوہدری نثار کو پاکستانی پولیس کا ہیڈ بنا دیا ہے ، تاہم رحمان ملک میں ایک خوبی تھی کہ وہ اپنی غلطی مان لیا کرتے تھے ، لیکن چوہدری نثار اس کا حوصلہ نہیں کرپارہے ہیں۔ اس کی بجائے وہ مشورہ دینے لگتے ہیں کہ ان معاملات پر سیاست نہ کی جائے۔ نہیں کی جائے گی لیکن قوم کو صرف یہ تو بتادیں کہ اسلام آباد میں کیا ہورہا ہے۔
میں کئی سالوں سے لکھ رہی ہوں کہ ہمیں وزارتِ داخلہ ختم کردینی چاہیے اور اس کی بجائے ہوم لینڈ سکیورٹی کی طرز کا ادارہ بنانا چاہیے۔ اسے اس حد تک بااختیار بنایا جائے کہ رحمان ملک یا چوہدری نثار جیسے افراد کا اس میں کوئی کردار نہ ہو۔ 9/11 کے سانحے کے بعد صدر بش نے یہ محکمہ قائم کیااور ایمانداری سے کہنا پڑتا ہے کہ اس نے بہت اعلیٰ کارکردگی دکھائی۔امریکی صدر نے ہوم لینڈ سیکورٹی کے سامنے قومی پالیسی رکھی۔ ہوم لینڈ سیکورٹی کا ماٹو’’ guide, organize and unify‘‘ہے اور وہ بغیر کسی دباؤ کے داخلی سیکورٹی کو یقینی بناتے ہیں۔اس ادارے کے سامنے ایک واضح حکمتِ عملی ہے۔ یہ اس کی روشنی میں یہ امریکہ کو لاحق خطرات کا ادراک کرکے اُن کا تدارک کرتا ہے۔ اس کے پاس طویل المدت منصوبہ بندی ہے۔ ہم بھی ان سے سبق سیکھ سکتے ہیں کہ اُنھوں نے کس طرح اپنے ملک کی سیکورٹی کو ہر چیز پر مقدم قرار دے کر اس کے لیے بے لچک کام کررہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک اس کی سربراہ ایک عورت ، جینٹ نپولیٹا (Janet Napolitano)۔ ان پر صدر اوباما کو بہت اعتماد ہے کیونکہ ایسے عہدوں پر چناؤ سیاسی مصلحتوں سے بالا تر ہو کرکیا جاتا ہے۔ ہوم لینڈ سیکورٹی ے موجودہ سربراہ جے چارلس جانسن ہیں۔
حال ہی میں مجھے ایک پاکستانی سائنسدان ،جو پیرس میں مقیم ہیں، کی ای میل وصول ہوئی۔ وہ لکھتے ہیں...’’مجھے یقین ہے کہ آپ کو مکمل احساس ہو گا کہ پاکستان میں طالبان کس طرح قدم جمارہے ہیں اورحکومت کس طرح احمقانہ مذاکرات کے ذریعے اُنہیں خوش کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کچھ لوگ خدشہ محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت ریاست خطرے کی زد میں ہے ۔ کچھ سوچتے ہیں کہ ریاست جس قدر گراوٹ کا شکار ہو چکی ہے، اس سے زیادہ خرابی ممکن نہیں۔ وزیرِ داخلہ اور عمران خان کے بیانات پڑھ کر دل گھبرانے لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان دونوں سیاست دانوں کا کام صرف اور صرف طالبان کا دفاع ہے اور وہ طالبان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت کی دوڑ میں ہیں۔ انہیں عوام کے تحفظ سے کوئی سروکار نہیں۔حکومت مفلو ج اور عوام کی جان و مال غیر محفوظ جبکہ بیانات کا تانتا بندھا ہواہے۔ بعض اوقات خدشہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ القاعدہ پاکستان پر عملی طورپر قبضہ کرچکی ہے۔ ‘‘اس ای میل سے اندازہ ہوتا ہے کہ دیارِ غیر میں رہنے والوں کو بھی شدت سے احساس ہے کہ وزیرِ داخلہ کے فرائض یہ نہیں جو چوہدری صاحب سرانجام دینے کی کوشش میں ہیں۔
پریس رپورٹس کے مطابق پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ کردیا گیا ہے۔کیا ہم یہ گمان کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اس کا مقصد طالبان کے خطرے سے نبرد�آزما ہونا ہے۔ پانچ سال پہلے ، 2009 میں، میں نے’’ نیویارک ٹائمز ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ پاکستان کے دفاعی اداروں کو امریکی سے اربوں ڈالر کے حساس آلات اور ہتھیار ملے ہیں۔ ان میں Mi-17 ہیلی کاپٹرز، کوبرا ہیلی کاپٹر ز کے اہم پرزے ، اندھیرے میں دیکھنے والے آلات اور بلٹ پروف جیکٹس بھی شامل تھیں۔ اس وقت امریکی اخبارات نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا...’’کیا پاکستان ملک میں طالبان اور انتہا پسندوں کے خلاف یہ ہتھیار استعمال کرپائے گا؟‘‘اُس وقت آئی ایس پی آر جنرل اطہر عباس کا بیان سامنے آیا تھا کہ یہ خالصتاً پاکستانی جنگ ہے اور یہ امریکہ یا کسی اور ملک کے تعاون کے بغیر لڑی جارہی ہے۔ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ جب ہمیں خطرے کاسامنا ہے اور دنیا ہماری مدد کرنے کے لیے تیار ہے تو ہم ریت میں سر چھپانے پر کیوں مصر ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے ، ہمیں امریکہ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے درخواست کرنی چاہیے کہ ہمیں ہوم لینڈ سیکورٹی کی طرز کا ادارہ قائم کرنے میں مدد فراہم کرے۔ اس سے روایتی سیکورٹی فورسز پر سے دباؤ کم ہوگا اور وہ دیگر معاملات پر توجہ دے سکیں گی۔ وہ ادارہ بغیر کسی سیاسی دباؤ کے اپنا کام کرے ۔ حیرت ہے کہ جب سی آئی اے کے سربراہ یا دیگر اہم امریکی شخصیات پاکستان آتی ہیں تو ہم اُنہیں کیا کہتے ہیں؟ جب ایک شخص بیمار ہو تو اُسے یقینادوا کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہماری وزارتِ داخلہ جیسے ’’یونانی نسخے‘‘ مرض کو بگاڑ رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *