واپڈا ملازمین کی جوان لڑکی سے بدتمیزی، بھائی پر تشدد، باپ پرمقدمہ، ماں انصاف کے لیے دربدر

maan

حویلی لکھا( ظفر اقبال سے )نذرانہ نہ دینے پر واپڈا ملازمین نے مبینہ طور پر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر دیا۔جواں لڑکیوں سے بدتمیزی۔چھتوں اور کمروں کی تلاشی،دس سالہ بچے پر وحشیانہ تشدد۔جاتے ہوئے بلاوجہ میٹر اتار کر لے گئے اور مقدمہ درج کروا دیا۔تفصیلات کے مطابق۔محلہ جنڈی حویلی لکھا کی رہائشی خاتون کوثر بی بی صدر خواتین ونگ ،پاکستان پیپلز پارٹی محلہ جنڈی حویلی لکھا نے ،وفاقی وزیر پانی و بجلی،چوہدری عابد شیر علی،ڈائریکٹر ایف آئی اے،چیف واپڈا لاہور کو دی جانے والی درخواستوں میں الزام لگایا ہے کہ گذشتہ دنوں ضروری کام کے سلسلہ میں گھر سے باہر گئی ہوئی تھی اور میری جوان بیٹی اور بہوئیں خانہ داری میں مصروف تھی کہ اچانک،لائن سپرئینڈنٹ ساجد،اے ایل ایم ،ارسل ،میٹر انسپکٹر اسرار شاہ کئی ساتھیوں سمیت دروازہ کھٹکھٹائے بغیر گھر میں داخل ہو گئے اور گھر کی چھت و کمروں کی تلاشی لینے لگے بیٹی کے پوچھنے پر مذکورہ کرپٹ اور غنڈے ملازمین نے غیر اخلاقی گفتگو کرتے ہوئے بدتمیزی کی انتہاء کر دی اور میرے دس سالہ معصوم بیٹے کو تھپڑوں ،ٹھڈوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور جاتے ہوئے کسی وجہ کے بغیر گھریلو میٹر اتار کر چلے گئے ۔سائلہ نے معلوم ہونے واپڈا ملازمین مذکورہ سے میٹر اتارنے کی بابت دریافت کیا تو الزام علہیان آپے سے باہر ہو گئے اور بدتمیزی کرتے ہوئے الٹا سائلہ کے خاوند کے خلاف بجلی چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کر لیا ہے اور اب بلیک میل کر رہے ہیں ۔کوثر بی بی نے وفاقی وزیر پانی و بجلی،ڈائریکٹر ایف آئی اے اور چیف واپڈا لاہور سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بجلی چوری میں ملوث ہیں اور نہ ہی واپڈا کے ڈیفالٹر ہیں مذکورہ واپڈا ملازمین نے سرف رشوت نہ دینے اور انکے کہنے پر بجلی چوری نہ کرنے کا رنج مارتے ہوئے ،چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا ہے اور ظلم کی انتہاء کرتے ہوئے جھوٹا مقدمہ درج کروایا اور اب نہ صرف بھاری بل بجلی بھجوا دیا گیا ہے بلکہ درخواستیں واپس لینے کے زور دیا جا رہا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر درخواستیں واپس نہیں لیں تو اسکے معصوم بیٹوں پر بھی مقدمات درج کر دیے جائیں گے لہذا فوری ایکشن لیا جائے کاروائی کی جائے ۔اس سلسلہ میں جب ایس ڈی او واپڈا ،اسامہ طارق سے دریافت کرنے کے لیے سرکاری موبائل نمبر پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے موبائل ماتحت ملازم کو دے دیا اور موقف دینے سے بذریعہ ماتحت معذرت کر لی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *