سپر خاتون پہلی مرتبہ بڑی سکرین پر !

wonderونڈر وومن یعنی حیرت انگیز خاتون اب تک کی شاید سب سے معروف خواتین سپر ہیرو ہیں جو کئی دہائیوں سے نوجوان خواتین کو تحریک دیتی رہی ہیں لیکن پہلی مرتبہ وہ بڑے پردے پر تقریباً 70 سال بعد نظر آئی ہیں۔سنہ 1930 کی دہائی تک امریکی کامکس کے سپر ہیرو کے طور پر مرد چھائے ہوئے تھے لیکن سنہ 1941 میں یکایک اس رجحان میں تبدیلی آ جاتی ہے اور امریکی پرچم سے مشابہ لباس میں ایک خاتون اس پس منظر میں ابھرتی ہے۔دانستہ طور پر تیار کی گئی خاتون کی یہ سپر ہیرو والی شبیہہ پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھی جس میں فیمینسٹ سیاست کے عنصر تھے۔اسے امریکی ماہر نفسیات ولیم مولٹن مارسٹن نے غیر مرئی قوتوں کے ساتھ تیار کیا تھا جو کہ تھیمیسیرا کی پرنسس ڈائنا کی ثانوی شخصیت تھی کیونکہ اساطیر میں شہزادی ڈائنا کو سچائی کی سنہری لڑکی کہا جاتا ہے جس کے پاس یہ قوت ہوتی ہے کہ وہ کسی کو پکڑ کر اس سے سچ بلوانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔مارسٹن کی اہلیہ سیڈی الزابتھ ہولووے تربیت یافتہ وکیل اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تھیں اور انھوں نے اس کردار کی تخلیق میں اہم کردار ادا کیا تھا۔دا سکریٹ ہسٹری آف ونڈر وومن کی مصنفہ جل لیپور نے کہتی ہیں کہ وہ امریکہ اور برطانیہ کی ان نئی خواتین میں سے ایک تھیں جو کالج گئیں اور جنھوں نے اپنے لیے کریئر کے انتخاب کا حوصلہ دکھایا۔سپر وومن میں خواتین کے حقوق، خواتین کے لیے حق رائے دہی کی مہم اور سچائی کے علم سبھی کو پرو دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ سپر وومن بیٹ مین ورسز سپرمین: ڈان آف جسٹس میں موجود ہے اور گذشتہ 70 سال سے اشاعت میں ہونے کے باوجود ایسا پہلی بار ہے کہ اس کردار کو بڑی سکرین پر پیش کیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *