تعصب اور عدم برداشت

babar sattarبابر ستار

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ مسلم فیملی لاء آرڈیننس کے تحت بچوں کی شادی پر پابندی غیر اسلامی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ دوسری یا تیسری یا چوتھی شادی کرنے سے پہلے، پہلی بیوی سے اجازت لینا بھی غیر اسلامی ہے۔
چند ماہ پہلے، انہوں نے اعلان کیا تھا کہ فرانزک ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے حاصل ہونے والا ثبوت، زیادتی کے مقدمات میں بنیادی ثبوت کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ تمام معاملات میں ماضی کی طرف واپس جانے کے ان کے فطری رجحان کو مد نظر رکھتے ہوئے، یہ نتیجہ نکالنا غیر منصفانہ ہو گاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین صرف صنفی عدم مساوات کے ایک مبلغ ہیں۔
پاکستان میں مذہبی سوچ کا بحران محمد شیرانی کی پسندیدگیوں سے مستعار ہے۔ یہاں تقسیم صرف ان کے درمیان نہیں ہے کہ جو روایت کو قطعی طور پر محفوظ کرنے کی وکالت کرتے ہیں اور وہ جو ترقی پسند تبدیلی کی وکالت کرتے ہیں۔نہ ہی یہ تقسیم ان دوکے درمیان ہے کہ جو محدود مذہبی نقطہء نظر رکھتے ہیں اور جومذہب کے مکمل یا بھرپور اطلاق کی خواہش رکھتے ہیں۔ نہ ہی یہ تقسیم ان دو کے درمیان ہے کہ جو قرآن و حدیث کے لفظی مفہوم کی وکالت کرتے ہیں اور جو قرآن و حدیث کے سخت مفہوم کی وکالت کرتے ہیں۔
حقیقی مسئلہ ان زبردستی کرنے والوں کا اہمیت اختیار کرتے جانا ہے کہ جو قرآن و حدیث کے فہم پر اپنی اجارہ داری قائم کرتے ہیں اور معقول لوگوں کے لئے عقیدے کے معاملات پر بحث اور عدم اتفاق کا کوئی سیاسی یا سماجی راستہ نہیں چھوڑتے۔
پاکستان میں مذہب پر بحث کو اس متعصب اور عدم برداشت کی راہ پر گامزن مُلا بریگیڈ نے اغواء کر لیا ہے، جن کے لئے دریافت، بحث اور ترقی کوئی معنی ہی نہیں رکھتے۔
اس بریگیڈ کا مقصد ذاتی روایات اور ثقافتی رسوم کو تسلسل بخشناہے خواہ وہ کتنی ہی ظالمانہ کیوں نہ ہوں۔ اس بریگیڈ کا دوسرا مقصد روایت اور تبدیلی کے درمیان درست توازن کی جانب بڑھنے والی ہر تحریک کا راستہ روکنا ہے۔
’’اسلام اور جدیدیت‘‘ میں اسلامی سکالر فضل الرحمٰن دلیل دیتے ہیں کہ: ایک علمی روایت کو تبدیل کرتے وقت حقیقی چیلنج وحی کے متن کو سمجھنا اور قرآن و سنت کے وضع کردہ اصولوں کو سمجھنااور ان کی آج کے حالات کے مطابق تشریح و نفاذ ہوتا ہے۔
کیا متن کو اسی طرح نافذ کیا گیا ہے جس طرح اسے وحی کے وقت سمجھا گیا تھا یا اس سے اصول وضع کر کے انہیں موجودہ سماجی اور سیاسی اور معاشی حقائق کے پس منظر میں نافذ کیا گیا ہے؟ اس سوال کاجواب سخت اور ترقی پسند تشریح کرنے والوں کے درمیان بحث کو سمیٹ دیتا ہے۔
پاکستان کے سخت مؤقف رکھنے والے افراد صاف طور پر اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں کہ تشریح کے عمل میں انسان حصہ لیتے ہیں۔ جیسا کہ متن براہِ راست مخاطب کرتے ہیں، اپنے معانی کی وضاحت کرتے ہیں اوربلا تخصیص سب انسانوں کواس بارے میں نصیحت کرتے ہیں کہ وہ جانیں کہ بدلتی ہوئی دنیا میں قرآن و سنت کے اصول کس طرح وضع کئے جاتے اور کس طرح نافذ کئے جاتے ہیں۔
تشریح کے عمل میں انسانوں کے حصہ لینے کے اصول کو ماننے سے انکار کے ساتھ ساتھ ملا بریگیڈ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان (ملا بریگیڈ ) کا قرآن و سنت کے معنی کو سمجھنا بذات خود ایک آفاقی حقیقت ہے۔آپ ان سے تشریح کے چیلنج کے متعلق پوچھیں تو وہ آپ کو جواب دیں گے کہ یہ سوال بذات خود شریعت کے نفاذ کے خلاف ایک سازش ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کی تازہ ترین تشریحات کی کیا منطق ہے؟کونسل کویقین ہے کہ اس بات کے واقعاتی ثبوت موجود ہیں کہ اسلام کے ابتدائی ایام میں بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے خواتین کی شادیاں ہوا کرتی تھیں۔
لہٰذا کم عمر لڑکیوں کی شادی پر پابندی غیر اسلامی ہے۔ اسی منطق کے تحت ایک نہ جھٹلایا جا سکنے والا ثبوت یہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دنوں میں غلامی کا وجود تھا اور غلام رکھنے سے صاف طور پر منع نہیں کیا گیا تھا۔ اب کیا ہمارے آئین کا آرٹیکل 11جو غلامی پر پابندی لگاتا ہے، اسے شریعت کی متعین کردہ حدود سے باہر ہونے کے سبب غیر اسلامی قرار دے دیا جانا چاہئے؟
کیا اسلامی نظریاتی کونسل کا دعویٰ یہ ہے کہ اسلامی نظریات کے گہرے مطالعے کے نچوڑ یا عورت سے شدید نفرت کی ثقافتی روایت کے نچوڑکو مذہب کے نام پر مضبوطی سے تھام لیا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک سے زائد شادیوں یا بچوں کی شادیوں سے متعلق رائے نے اسے ساری دنیا کی نظروں میں گرا دیا ہے۔
بچوں کی شادیاں نہیں ہونی چاہیں کیونکہ انسان بلوغت سے قبل قوتِ عمل اور خودمختاری کی کمی کا شکار ہوتا ہے۔نہ ہی اسے اچھے برے کی تمیز ہوتی ہے اور نہ ہی اسے اس کے اعمال کا ذمہ دار ٹھہریا جاسکتا ہے۔
اگر ایک کم عمر لڑکی کے سرپرست اس کی عمر کا خیال کئے بغیر، اس کا نکاح کر سکتے ہیں اور اس کو شوہر کے حوالے اس وقت کرتے ہیں جب وہ اتنی بڑی ہو جائے کہ جنسی تعلق کوبرداشت کر سکے تو کیا ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ خواتین ایک متحرک جائیداد سے زیادہ کچھ نہیں ہیں اور شادی ایک تاخیر سے حوالے کر دئیے جانے کے معاہدے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے؟
اسلامی نظریاتی کونسل کے نظرئیے میں زیادہ تشویشناک بات منصوبے کا نقص ہے۔عدم برداشت کی سطح پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہمارا معاشرہ پہلے ہی اس کی حدیں پھلانگ چکا ہے۔ لہٰذا اب تو یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل، بنیادی نوعیت کی مزیدتبدیلی کے ایک آلے کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے اور یہ تبدیلی، کسی ترقی پسند تبدیلی کے آغاز کا اعلان نہیں ہو گی۔ کیا کونسل کے فیصلے مذہبی حق کے اندر رہتے ہوئے قبول عام حاصل کر پاتے ہیں بشرطیکہ وہ انتہائی حق کے معاملے میں کمزوری میں نہ پڑ جائیں اور مذہب کے نام پر غیر مہذبانہ ثقافتی روایات کی رسمی منظوری نہ دیں؟
پروفیسر خالد مسعود کی زیر قیادت، اسلامی نظریاتی کونسل نے خواتین کے تحفظ کے لئے جرائم کے قانون کے ترمیمی ضابطے مجریہ 2006ء کی حمایت کی تاکہ حدود کے قوانین کے غلط استعمال کے خلاف عورتوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ لہٰذا شدت پسند ملا بریگیڈ اسلامی نظریاتی کونسل کے خلاف کیل کانٹے سے لیس ہوکر ابھرنے لگا۔
چند برس بعد اسلامی نظریاتی کونسل نے نکاح کے فارم میں ترامیم تجویز کیں تاکہ عورتوں کواس فارم کی مدد سے حراساں کئے جانے اوراس فارم کے ممکنہ غلط استعمال سے بچانے میں مدد مل سکے۔ وہ خلع ملنے کے معاملے میں محکوم ہیں۔ ملا بریگیڈ اس پر بھی متحرک ہو گیا تھا اور اس اصلاح کا راستہ بھی روک دیا گیا تھا۔
اب تو یوں لگتا ہے کہ مذہب کی توہین کرنے والے قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے ان کی اصلاح کی کوئی بات کرنا بذات خود توہین مذہب بنتا جا رہا ہے۔
اوکسفورڈ کے تعلیم یافتہ فضل الرحمٰن جو 1961ء میں سینٹرل انسٹیٹیوٹ فار اسلامک ریسرچ کی سربراہی کے لئے پاکستان واپس آئے تھے، انہیں بھی آزادانہ طور پر اسلام پر تحقیق کرنے اور اس کے متعلق لکھنے کے لئے شکاگو یونیورسٹی جانا پڑا تھا۔
چاہے عزت یا روایت کے نام پر عورتوں کو زندہ جلانے یا قتل کرنے کو درست قرار دینے والے اسرار اللہ زہری ہوں یا مذہب کے نام پر بچوں کی شادی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے محمد شیرانی ہوں، ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ یہ انتہاء پسند افراد ایک ہی کپڑے کے مختلف ٹکٹرے ہیں۔ اور جب تک اس ملک میں یہ لوگ اپنا کام بھرپور انداز میں کرتے رہیں گے ، اس وقت تک مثبت تبدیلی نہیں آئے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *