ملک ریاض نہیں ، یہ نظام مجرم ہے

imad zafar

یہ غالبا 1979 کی بات ہے جب ملک ریاض نے اپنے ایک دوست سے 1400 روپے کا قرضہ لے کر ملٹری انجینئرنگ کمپلیکس میں ایک ٹھیکہ پکڑا. آج کے پاکستان کا امیر ترین آدمی اور پراپرٹی کے کاروبار کا بادشاہ تیس سال قبل تک غربت کے ہاتھوں مارا مارا پھرتا تھا. اپنی بیٹی کو ہسپتال لے جانے کیلئے اس کو اپنے خاندان کا زیور تک بیچنا پڑ گیا. پھر اس معمولی سے ملٹری سپلائی ٹھیکے سے آغاز ہوا ایک سب سے بڑی پراپرٹی کاروباری سلطنت کا.ملک ریاض نے اس ٹھیکے کے بعد فوج میں اپنے تعلقات بہتر کیئے اور آہستہ آہستہ کنسٹرکشن کے کام کی جانب بڑھا. ملک ریاض نے غربت دیکھی تھی وہ جانتا تھا بچوں کی بھوک سے بڑھ کر دنیا میں کوئی بڑا عذاب نہیں ہوتا. اس نے بہت جلد سیکھ لیا کہ یہ ملک اور معاشرہ حیثیت اور مرتبے کو سلام کرتا ہے.آہسته آہسته ٹھیکیداری سے ہاوسنگ سوسائٹی کی تعمیر کی جانب ملک ریاض نے سفر شروع کیا. تعلقات آور پیسے کے بل پر بحریہ کا نام استعمال کر کے ملک کی سب سے بڑی ہاوسنگ کالونی بنا ڈالی.پاک بحریہ نے اپنے نام کے استعمال کے خلاف ملک ریاض پر کیس بھی کیا لیکن جو جج کیس سننے آتا وہ ملک ریاض سے یا تو پلاٹ لے چکا ہوتا یا پھر مالی فائدہ. ملک ریاض نے ملٹری ایسٹیبلیشمنٹ اور سیاسی ایسٹیبلیشمنٹ کے گٹھ جوڑ سے اپنے کاروبار کو پھیلایا. باری ملک اور تاجی کھوکھر کے زریعے ملک ریاض نے زمینوں پر قبضے بھی کیئے اور مہنگی زمینیں زبردستی سستے داموں بھی ہتھیائیں. جہاں کوئی قانونی رکاوٹ ملک ریاض کے سامنے آئی ملک ریاض نے پیسے کی طاقت سے اسے دور کر دیا. صحافیوں سے لیکر پولیس سیاستدانوں سے لیکر بیوروکریسی اور ملکی فوجی ایسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ملک ریاض نے منافع کا رشتہ جوڑا ،پیسہ پلاٹ اور گھر بانٹے. یوں آج ملک ریاض پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک شمار ہوتا ہے. ملک ریاض کی کامیابی ناجائز ہے یا جائز اس کا جواب یہ گلا سڑا نظام واشفگاف الفاظ میں دیتا ہے. ایک معمولی سے ٹھیکیدار نے اس نظام کو بہت پہلے اچھی طرح سے جان لیا تھا جب وہ روزگار کیلیے دھکے کھاتا تھا اور اپنی بیٹی کا علاج تک کروانے سے قاصر تھا.ایسے میں اگر اس نے عقلمندی سے ایک بزنس ایمپائر کھڑی کی تو اس کا کریڈٹ اس سے کوئی بھی نہیں چھین سکتا. کتنے ہی ٹھیکیدار پاکستان میں یہ اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ ملک ریاض جیسی بزنس ایمپائر کھڑی کر سکیں. ایمانداری پر بھاشن دیتے ریٹائرڈ جرنیل لفافہ صحافی اور سول سوسائٹی والے کیا بتا سکتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت کون سا ایسا بڑا کاروباری آدمی ہے جس نے اپنی بزنس کی سلطنت قانون اور اخلاقیات کی حدود میں رہ کر کھڑی کی ہو. میاں نواز شریف ہوں یا میاں منشا، عقیل کریم ڈیڈی ہوں یا پھر میڈیا کے بڑے بڑے بادشاہ میر شکیل سلطان لاکھانی اور میاں عامر ،ان سب نے بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق جہاں رشوت دھونس دھاندلی چل سکتی تھی چلائی اور آج یہ سب بھی کامیاب ہیں. تو پھر اکیلے ملک ریاض پر ہی تنقید کیوں؟ ملک ریاض کا جرم شاہد شعیب شیخ والا ہے اب ملک ریاض اس کھیل میں آنا چاہتا ہے جس کے بل پر اس گلے سڑے نظام کو چلانے والے کمزوروں کو دبا کر راج کرتے ہیں. ملک ریاض نے جب سے اپنے میڈیا گروپ کی لانچ کا اعلان کیا تب سے میڈیا مالکان اور مقتدر حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی. میڈیا کے سیٹھ جانتے ہیں کہ ملک ریاض پیسے کے بل پر بیسویوں جدید ترین اور مہنگے ترین ٹی وی چینلز چند ماہ کے اندر کھڑے کر سکتا ہے. میڈیا کے بڑے بڑے صحافتی نام جو خود ملک ریاض سے پلاٹ اور لفافے لیتے رہے ہیں انہیں علم ہے کہ انہیں چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ملک ریاض کے میڈیا گروپ کو جوائن کرنا پڑے گا وگرنہ ملک ریاض ان کے رازوں سے باآسانی پردہ اٹھا دے گا.دوسری جانب مقتدر حلقوں کو تشویش ہے کہ میڈیا گروپ بنا کر ملک ریاض نہ صرف بلیک میلنگ سے مجبور ہو کر اب تک جو اربوں روپیہ دیتا آیا ہے اب اس میں سے انہیں ایک پائی بھی نہیں دے گا بلکہ ٹی وی کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اس نظام میں بطور کنگ میکر اپنے آپ کو لائے گا. حال ہی میں ملک ریاض کا دیا سنسنی خیز انٹرویو جس میں ملک ریاض نے آرمی چیف سے بھی تعلقات کا سر عام اعتراف کیا تھا اس امر کی نشاندہی بھی ہے. اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کو وضاحتی بیان بھی دینا پڑ گیا کہ ملک ریاض اور راحیل شریف کے درمیان کوئی تعلق نہیں.بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی نے اس خبر کو اپنی سائٹ سے ہٹا بھی دیا. لیکن کیا اس حقیقت کو رد کیا جا سکتا ہے اس وقت ملک کے پانچ سب سے بڑی تعمیری ہاوسنگ پراجیکٹس میں ملک ریاض اور فوج کے درمیان شراکت داری ہے. کیا جنرل کیانی کے بھائی اور ملک ریاض ایک دوسرے کے قریب نہیں رہے. کیا آصف زرداری سے لیکر نواز شریف اور عمران خان سے لیکر معزز عدلیہ کے اعلی ترین ججز ملک ریاض کی مراعات سے مستفید نہیں ہوتے رہے. ملک ریاض شعیب شیخ کی طرح درمیانے ذہن کا کارپوریٹ کاروباری نہیں بلکہ نچلی سطح سے اٹھ کر اشرافیہ کے چند بڑے ناموں میں شمار ہونے والا آدمی ہے.اور جس حمام میں سب ننگے ہوں وہاں ملک ریاض پر ہاتھ کون ڈالے گا.آخر کو ملک ریاض کے کاروبار کو دوام اور ترقی دینے میں فوج سیاستدان بیوروکریسی سب کا اپنا بھی ہاتھ ہے.موجودہ دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ بھلے ہی ملک ریاض کے تعلقات خراب ہوں لیکن سینکڑوں حاضر سروس اور ریٹائرڈ اعلی افسران خود ملک ریاض کے مرید ہیں.رہی بات ملک ریاض کے میڈیا کے کاروبار کی تو یہ میڈیا کے سیٹھوں کی کاروباری رقابت اور نفع کی جنگ ہے.ملک ریاض کی فائلیں کھلوانے سے یا اس کے بیٹے پر اقدام قتل کی ایف آئی آر سے کچھ حاصل وصول ہونے نہیں والا. اور ملک ریاض کے میڈیا گروپ کی لانچ کے بعد بحریہ ٹاون تو بہت چھوٹی سلطنت لگے گی کہ اس کے بعد ہر قسم کی کاروباری سلطنت کو کھڑا کرنا ملک ریاض کیلئے مسئلہ نہیں ہو گا. ملک ریاض کی دولت کمانے کے طریقے یقینا ناجائز ہیں لیکن یہ نظام دولت کمانے کا کون سا جائز راستہ کسی سفید پوش آدمی کو دیتا ہے. معمولی سے معمولی کام کیلئے پیسے تعلق اور دھونس کی ضرورت ہوتی ہے.اور ملک ریاض تو علی اعلان گزشتہ تیس برس سے یہ سب کر رہا ہے اور مانتا بھی ہے.اگر ملک ریاض مجرم ہے تو پھر اس ملک کا ہر صنعت کار اور کاروباری فرد مجرم ہے. ملک ریاض نے اپنی سمجھ سے کام لیتے اس لولے لنگڑے نظام میں سے اپنا حصہ لے لیا.اور یہ ثابت کر دیا کہ یہ نظام طاقتور کیلیے ہے کمزوروں کیلیے نہیں.رشوت بدعنوانی کے خلاف دہائیاں اور اخلاقیات کے بھاشن ٹی وی سکرینوں کالمز سوشل میڈیا اور ایک دوسرے سے بحث میں تو اچھے لگتے ہیں لیکن حقیقت سے اور عملی زندگی سے ان کا دور دور کا بھی واسطہ نہیں.بچے کے برتھ سرٹیفیکیٹ سے لے کر علاج معالجہ سکول داخلے سے لے کر نوکری تک قدم قدم پر رشوت کا سہارا لیں یا پھر کسی طاقتور کے منت ترلے کریں یا ہاتھ پھیلائیں. ایسے نظام میں شرافت ایک کمزور آدمی کی ہی پہچان ہو سکتی ہے یا ایسے آدمی کی جسے رشوت بدعنوانی یا داو لگانے کا موقع نہ ملا ہو. ملک ریاض کو آپ برا کہیں یا بھلا اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ اپنے آنی والی نسلوں کو بھی مضبوط اور مستحکم کر گیا ہے.جو آدمی چند دہائیوں قبل بچوں کا علاج معالجہ نہیں کروا سکتا تھا آج اس کی خیرات سے ہزارہا بچوں کا علاج معالجہ ہوتا ہے اور یہ اس کی کامیابی کا ناقابل تردید ثبوت ہے. باقی قانون کی بالادستی کی باتیں اخلاقیاتکے بھاشن رشوت خوری ایک جرم جیسے نعرے صرف اور صرف کمزور افراد کو اس کھوکھلے نظام کی کھونٹی سے باندھے رکھنے کیلئے ہیں.ملک ریاض کو اس کھوکھلے نظام نے جنم دیا ہے اس گلے سڑے نظام کو تبدیل کر کے سب کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے تو آئیندہ ملک ریاض پیدا نہیں ہوں گے. قصور وار اور مجرم یہ نظام ہے نا کہ ملک ریاض.

ملک ریاض نہیں ، یہ نظام مجرم ہے” پر ایک تبصرہ

  • اپریل 1, 2016 at 3:47 PM
    Permalink

    بالکل صحیح
    یہ نظام مجرم ہے

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *