عاشق رسولﷺ ہونے کے دعویداروں نے دھرنے میں کیا گل کھلائے؟آپ سوچ بھی نہیں سکتے!

Pakistani Frontier Constabulary officials run from supporters of executed Islamist Mumtaz Qadri during an anti-government rally in Islamabad on March 27, 2016.

Pakistani police fired tear gas at thousands of stone-throwing supporters of an Islamist assassin, a month after he was hanged for killing a provincial governor for alleged blasphemy. / AFP / FAROOQ NAEEM

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ممتاز قادری کے چہلم پر ڈی چوک میں دھرنا دینے والوں نے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوے تو کیے لیکن عملی طور ہر کیا ہوتا رہا یہ جان کر ہر درد مند دل رکھنے والا مسلمان پریشان بھی ہے اور شرمندہ بھی- آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ناموس رسالت کے نام پر جمع ہونے والے کچھ افراد نے ڈی چوک کی مسجد میںمبینہ طور پروضو کرنے کے لیئے لگائی گئی ٹونٹیاں تک اتار لیں ، مسجد کی صفیں اور قالین اٹھا کر لے گئے اور مسجد کے پنکھوں اور وہاں موجود نمازیوں کے لیے رکھے گئے ہیٹر کو بھی نہیں بخشا- ڈی چوک کی مسجد کسی اجڑے دیار کا منظر پیش کرتی رہی- یہی نہیں، اپنے آپ کو مسلمان اور سنت رسول کے پروانے کہلوانے والوں نے سوشل میڈیا پر بڑے فخر سے اپنی وڈیوز اپ لوڈ کیں جس میں وہ غلیظ ترین گالیاں دیتے ہوئے نظر آئے- یہ وڈیوز دیکھ کر عام مسلمان سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ کیا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویدار کوئی شخص یہ زبان استعمال کر سکتا ہے- یہی نہیں ، اسلام کے دعویداروں نےاس حقیقت کو بھی یکسر بھلا دیا کہ صفائی نصف ایمان ہے- ڈی چوک پر جس کو جہاں جگہ ملی، غلاظت کا ڈھیر لگا دیا - دھرنا ختم ہونے کے بعد ڈی چوک کا یہ حال تھا کہ وہاں ناک پر رومال رکھ کر گزرنا بھی محال تھا- کئی مذہبی رہنماوں نے بھی اس موقع پر اپنے حواریوں کو  نہیں ٹوکا بلکہ ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ مل کر گالیاں دیتے اور نعرے لگاتے رہے-پاکستان کی عوام انگشت بدنداں ہے کہ اگر رسول کی محبت کا دعوی کرنے والوں کا یہ حال ہے تو کیا مذہبی طبقے میں واقعی تہذیب  اور اخلاق کا جنازہ اٹھ چکاہے؟؟؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *