عوامی تنقید اوردباؤ، بھٹو فنڈ کا اجرا منسوخ

Bhutto

کراچی  -سندھ حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی 37 ویں برسی کے موقع پر انتظامات کے لیے جاری کیے گئے ڈھائی کروڑ روپے کے فنڈز روک دیئے۔ واضح رہے کہ 5 روز قبل صوبائی حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے انتظامات کے لیے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کے فنڈز لاڑکانہ کی انتظامیہ کو جاری کیے تھے۔  سرکاری خزانے سے اتنی بڑی رقم جاری ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو سیاسی مخالفین کے ساتھ عوامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس کا نوٹس لیا اور اب وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کی ہدایت پر کارروائی کی گئی۔

سیکشن افسر کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکشن میں بجٹ کے اجراء کا سابقہ اعلامیہ منسوخ کیا گیا ہے۔ نوٹیفیکیشن میں کمشنر لاڑکانہ کو فنڈز استعمال نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر پی پی پی کو سرکاری خزانے کے بجائے اپنی جماعت کا فنڈ استعمال کرنا چاہیے تھا۔  یاد رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے بانی تھے جو سندھ کی حکمران جماعت ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو 1963 سے 1966 تک ملک کے پہلے فوجی صدر جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وفاقی وزیر تھے جبکہ 1971 سے 1973 تک ملک کے پہلے سویلین صدر اور 1973 سے 5 جولائی 1977تک ملک کے وزیر اعظم رہے، 5 جولائی کو ملک میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا، اور ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر لیا گیا، ان پر ایک شخص کے قتل کا مقدمہ چلا، جس میں 18 مارچ 1978 کو ان کو ہائی کورٹ نے سزائے موت سنائی، 6 فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے بھی سزا کو برقرا رکھا اور 4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔  دوسری جانب پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو قتل قرار دیتی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کا مزار بھی سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ہے لیکن ان کے یوم پیدائش یا یوم وفات پر فنڈز مقرر نہیں ہوتے، جبکہ ان تقریبات پر سرکاری خزانے سے بڑے پیمانے پر کیے جانے والے اخراجات پر عوامی سطح پر شدید تنقید کی جاتی ہے۔

یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ حالیہ دنوں میں سندھ کے علاقے تھر میں بھی غذائی قلت سے 200 کے قریب بچوں کی ہلاکت ہو چکی ہے، یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، لیکن اس حوالے سے سندھ حکومت کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *