ریاستی قوت کے استعمال میں امتیاز کیوں؟

Irfan Hussainعرفان حسین

رمیش کراچی میں میرے والدین کے پرانے گھر میں گزشتہ پچیس سال سے صفائی کا کام کاج کررہا ہے ۔ وہ بہت ہی خوش مزاج اور ملنسار ہے۔تاہم جب میں نے اُسے حال ہی میں ’’ہولی مبارک ‘‘ کہا تو اُس نے اداسی سے جواب دیا کہ اُس کی ہندو آبادی نے اس مرتبہ ہولی کا تہوار نہیں منایا کیونکہ لاڑکانہ میں ہجوم نے ان کے ایک مندر کوجلا ڈالا تھا۔ یہ افسوس ناک واقعہ ہمیں ایک مرتبہ پھر یاد دلاتا ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے لیے جگہ تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ یہاں ایک غیر سنی مسلمان کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ ایک تلخ لیکن ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اگر آپ کا عقیدہ ملک کے مرکزی گروہ کے عقیدے سے مختلف ہے تو پھر آپ دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر رکھنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔
یہ صرف ریاست ہی نہیں جو معاشرے کے نسبتاً کمزور اور ظلم کاشکارافراد کی داد رسی کرنے میں ناکام رہتی ہے بلکہ میڈیا، جس کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ اس میں لبرل اور تعلیم یافتہ افراد پائے جاتے ہیں، بھی ان کے حال سے لاتعلق رہتا ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال بلوچستان سے گم شدہ افراد کے اہلِ خانہ کا طویل مارچ تھا، جس کو میڈیا نے درخورِ اعتنا نہ گردانا۔ یہ ایک فقید المثال مارچ تھا ۔ تقریباً تیس مردوں، عورتوں اور بچوں نے کوئٹہ سے کراچی اور پھر کراچی سے اسلام آباد تک مارچ کیا۔ اس دوران اُنھوں نے جسمانی مشقت ، موسم کی سختی اور بھوک پیاس کے علاوہ خفیہ اداروں کی طرف ملنے والی دھمکیوں کو بھی برداشت کیا۔ ان کو صرف اُن لوگوں کی طرف سے میزبانی کی سہولت ملی جو اس دباؤ کو برداشت کرسکتے تھے۔
مجھے یقین ہے کہ اگر لاہور سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد اپنے مطالبات، جیسا کہ اپنے عزیز و اقارب کو پاکستان کی کسی جیل سے رہائی دلانا، کے لیے ایسا کوئی سفر اختیار کرنے پر مجبور ہوتے تو انہیں بہت سی میڈیا کوریج ملتی۔ تاہم بلوچ افراد کو جس مسلے کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ اپنی قوم پرستی کے جذبے سے وہ جو جدوجہد کررہے ہیں، اس کی بنا پر اُنہیں دھشت گردسمجھا جاتا ہے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر موجود کہ بلوچ نیشنل آرمی کی طرف سے غیر بلوچ آبادکاروں ، غریب مزدوروں اور دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، جو کئی نسلوں سے بلوچستان میں مقیم تھے، کو چن چن کر ہلاک کرنے کے عمل سے بھی وہ عوامی ہمدردی سے محروم ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹبلشمنٹ کی طرف سے بلوچ قوم پرستوں پر یہ الزام بھی تواتر سے لگایاجاتا ہے کہ بھارت ان کی پشت پناہی کررہا ہے۔ تاہم اگر وہ کسی ’’اسلامی ریاست ‘‘ کے لیے جنگ کررہے ہوتے تو پھر وفاقی حکومت کا رویہ مختلف ہوتا ۔ گمان ہے کہ پھر ان پر اتنی سختی نہ کی جاتی اور ملک بھر کی دینی جماعتیں ان کی حمایت میں نکل کھڑی ہوتیں۔
درحقیقت گم شدہ افراد کا طویل عرصے سے موجود مسلہ ہمارے ملک کے ایک جمہوری ریاست ہونے ، انسانی حقوق کی پاسداری اور آئین اور قانون کی حکمرانی کے دعوے پر ایک بدنما داغ ہے۔ اس کے باوجود اس صوبے میں عام بلوچ عوام کو درپیش مسائل کی میڈیا کوریج نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کی علیحدگی کی تحریک کو ملک کے دیگر صوبوں کے عوام کی حمایت حاصل نہیں اور پھر اُنہیں ملک دشمن عناصر کے آل�ۂ کار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچ پاکستان کے معاشرے میں گھل مل کے نہیں رہتے ہیں، اس لیے اُنہیں سول سوسائٹی اور میڈیا سے تعاون نہیں ملتا ہے۔ دوسری طرف صحافی بھائیوں کوبھی شکوہ ہے کہ یہ صوبہ صحافیوں کے لیے ’’نو گو ‘‘ ایریا بن چکا ہے۔ اس کے جواب میں قوم پرستوں کو ایف سی اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہل کار نشانہ بناتے ہیں لیکن مختلف جہادی تنظیموں کے کارکن، پاکستانی طالبان اور افغان طالبان پر مشتمل ’’کوئٹہ شوریٰ‘‘ کے ارکان کو ریاست کی طر ف سے اس سختی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا... ہمارے ملک میں انصاف تو کجا، ریاستی جبر بھی فیئر اور غیر جانبدار نہیں۔ شنید ہے کہ شوری کے ارکان کوئٹہ میں مہمانوں کی طرح رہتے ہیں... یا رکھے جاتے ہیں۔
کچھ ناخوشگوار نسلی بنیاد پرستی پر مبنی حقائق ہیں جن پر ہم مٹی ڈالنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ چونکہ ملک پر حکمران طبقے اور اسٹبلشمنٹ میں پنجابیوں کی اکثریت ہے جبکہ پشتون ان کے ’’جونیئر پارٹنر ‘‘ ہیں، اس لیے ریاست کراچی اور بلوچستان میں تو اپریشن کا فیصلہ آسانی سے کرلیتی ہے لیکن فاٹا یا جنوبی پنجاب میں موجود جہادیوں کے خلاف فوجی اپریشن کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑے گا۔ 1983 میں جنرل ضیا نے بلا تامل فوج کی طاقت سے ایم آر ڈی کوسندھ میں کچل دیالیکن جب 1977 میں لاہور میں پی پی پی مخالف مظاہرین کے خلاف فوج استعمال کرنے کی نوبت آئی تو ایک بریگیڈئر نے استعفیٰ دے دیا۔ اگر وہی بریگیڈئر صاحب کوئٹہ میں تعینات ہوتے تو کیا ان کا طرزِ عمل یہی ہوتا؟اگرچہ اس بات کوچار دہائیاں بیت گئی ہیں اور پلوں کے نیچے سے بہت ساپانی بہہ چکا لیکن دنیا کو مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں ہماری فوج کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم یاد ہیں۔ تاہم ہمارے ملک میں اس پر بات کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا ، بلکہ یہ ہمارے معاشرے کا موضوع کبھی بھی نہیں رہا، لیکن اس پر لب کشائی کی جائے یا نہ کی جائے، ریاست کی طرف سے قوت کے استعمال میں تعصب برتا جاتا ہے۔ اگر آپ ریاست کے باغی ہیں لیکن آپ نے مذہب کا لبادہ اُڑھ رکھا ہے تو آپ کو نہ کوئی ایجنسی اٹھائے گی اور نہ ہی آپ کی مسخ شدہ لاش کہیں سے ملے گی، لیکن اگر آپ اپنے سیاسی حقوق کی بات کریں (اس پر بحث ہوسکتی ہے کہ وہ درست ہیں یا غلط) اور اگر آپ کا تعلق معاشرے کے مرکزی دھارے سے نہ ہوتو سمجھ لیں آپ پر مصائب کا جہنم کھل جائے گا۔ بلوچ انتہا پسندوں کو بھی یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر اُنھوں نے پرتشدد کاروائیاں بند نہ کیں تو وہ پاکستانی عوام کی حمایت حاصل نہیں کرپائیں گے اور ریاست کے پاس اتنی قوت بہرحال موجود ہے کہ وہ سب سے بڑے صوبے کو علیحدہ ہونے سے روکے۔ عقل مندی کا تقاضا ہے کہ انتہا ئی رویوں کی بجائے سیاسی طور پر مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ حقوق اور خود مختاری کی بات کی جائے۔ بلوچ بھائی اس بات کی تفہیم جتنی جلدی کرلیں گے ، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *