خبر در خبر

Asif

خبر ہے کہ پنجاب حکومت نے اب تک تقریباً ایک ہزار سکولز کو نجکاری کے تحت نجی شعبے کو دینے کے انتظامات مکمل کرلیے ہیں. اور اس شعبے کو فی کس ہر بچے کے حساب سے سات سو روپے ادا کیے جائیں گے.  پنجاب حکومت نے ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا ہے. وہ محنت اور جانفشانی جس کا وعدہ نواز شریف صاحب نے عہدِ اقتدار میں آنے سے پہلے عوام سے کیا, ایک ایک کر کے وفا ہو رہا ہے.
یاد دہانی کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ ایسے ہی وعدے ہر شعبے کے حوالے سے کیے گئے. بلکہ بجلی و پانی کے معاملے پر تو اس قدر وعدے سامنے آئے کہ کسی بھی سنجیدہ آدمی کو یہ گمان گزرنے لگا کہ شاید پرویز رشید نے اسی لمحے کے لیے کہا تھا کہ وعدہ پورا کرنے کے لیے بھی کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے. گوجرہ میں کی ہوئی نواز شریف کی تقریر کسے یاد نہیں جس میں آپ نے اپنی تجربہ کار ٹیم کی بنیاد پر ایسے ایسے دعوے کیے جو کم از کم مجھے نہ تب ہضم ہوئے اور اب جب کہ اس بات کو بھی تین سے زائد سال گزر چکے تو باقی کے وقت میں بھی ایسے وعدے شرمندہِ تعبیر ہوتے ہر گز دکھائی نہیں دیتے تو اب بھی ان پر یقین کرنا خود کو مومن کے درجے سے نیچے اتارنا ہے جو کم ازکم خاکسار کبھی نہ چاہے گا . آپ نے فرمایا کہ (الفاظ کی کمی بیشی معاف) ہم اس شہر میں کالج سکول یونیورسٹی قائم کریں گے یہ ہمارا وعدہ ہے. اگر اس بار ہمیں موقع ملا حالانکہ نوازشریف کے منہ سے موقع کا لفظ ہی نہیں جچتا)
نواز,شریف اور بنی اسرائیل کی قوم میں یہ مماثلت پائی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی چہیتی تھی اور نون لیگ پاکستانی عوام کی چہیتی ہے. اُس قوم نے ہمیشہ برے وقت میں معافی ترلوں اور خوشامد سے اپنا وقت پاس کیا نواز لیگ بھی یہی کرتی ہے. مگر جیسے ہی اقتدار حاصل ہوا اپنی اصل جون میں واپس آجاتی ہے. بنی اسرائیل بھی دو بار ملک سے نکالے گئے مگر پھر طاقت و منصب ملا. نون لیگ بھی دونوں بار اقتدار مکمل نہ کر سکی اور نکال باہر کی گئی.کچھ عرصہ پہلے ٹیکس ایمنسٹی کی اسکیم متعارف کروائی گئی جس میں وہ پیسہ جو چور دروازے سے حاصل کِیا گیا تھا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ٹیکس چوروں کو ایک راستہ فراہم کِیا گیا. اور آج وزیرِ خزانہ محترم اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ یہ اسکیم بھی ناکام ہوگئی.ایک دوست کا کہناتھا کہ غالب امکان یہی ہے کہ اسکیم کا بنیادی مقصد جن جن لوگوں کا پیسہ سفید,کروانا مقصود تھاوہ مکمل ہو چکا لہذا اس اسکیم نے بھی ناکامی کا بہانہ بنا کربند ہی ہونا تھا.  ابھی کل ہی کی خبر ہے کہ پانامہ نیوز اخبار ہے جس نے یہ انکشاف کیا کہ دنیا کے تقریباً 72 ممالک کے چوٹی کے سیاست دان جن میں کوریا, چین, کچھ اسلامی ممالک کے سربراہان بھی شامل ہیں, نے آف شور کمپنیز میں اربوں ڈالرز رکھے ہوئے ہیں ولادی میر پیوٹن بھی اپنے دو ملین پاونڈز کے ساتھ اسی لسٹ میں موجود ہیں. اور ہمارے عزتِ ماب وزیراعظم جناب نواز شریف صاحب بھلا کیسے پیچھے رہ سکتے تھے بھی شامل ہیں اور مریم نواز اپنے باپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑی ہیں. . گیارہ ملینز رسیدوں اور روز کی گئی ٹرنزیکشنز جو پچھلے چالیس سال سے ہورہی تھیں, کی بنیاد پر یہ سکینڈل سامنے آیا ہے. اور اب تک آئس لینڈ کے وزیراعظم استعفی دینے کے قریب ہیں جو خود اس سکینڈل میں ملوث ہیں. یہ سکینڈل ہمارے لیے کم از کم کسی بھی درجے میں حیرت ناک نہیں. ہماری عوام نواز شریف جیسی سوچ کی حامل ہے اور اپنی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے ہی ایسے حکمرانوں کو اپنا راہنماء چُنتی ہے ایسے میں اگر راہنماء اس طرح کی حرکتیں نہ کریں تو اللہ کے ان الفاظ کی صداقت کیسے سامنے آئے کہ حکمران تو عوام ہی کے جیسے ہوتے ہیں. سیاست دان ہمارے معاشرے کا آئینہ ہیں. یہ کوئی پہلی خبر نہیں سوئس بینکز سے کون واقف نہیں؟ سوائے نوازشریف کے. جو پچھلے تیس سال سے زرداری کی گردن پر پاوں رکھ کر یہ پیسہ ملک میں واپس لانے کے وعدے کررہا ہے اور اپنا پیسہ باہر منتقل کر رہا ہے.دوسری طرف نواز حسین صاحب کی وضاحت بھی سامنے آگئی کہ یہ سارا پیسہ ہم نے حق حلال طریقے سے کمایا ہے .یہ الگ بات ہے کہ بی بی سی کی آج سے سالوں پہلے کی ڈاکومینٹری رپورٹ اس بات کا انکشاف کر چکی کہ نواز فیملی آج تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکی کہ اتنا پیسہ باہر منتقل کیسے ہوا؟ مگر یہ بات بھی یاد رکھی جائے کہ ہماری لاکھ تنقید کے باوجود حکمران طبقہ اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے میں دن رات مصروف ہے. انھیں اگر فکر ہے تو بس یہی کہ جتنی جلدی ہوسکے اس ملک کو لوٹ لیں اس سے پہلے کہ یہ بھیڑ بکریوں جیسی عوام ہوش میں آئے اور ہمارا برا وقت شروع ہو.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *