مودی کے لیے سعودی ایوارڈ

khursheed-
اہلِ عرب نے مودی صاحب کوا علیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا ہے‘یہ کن خدمات کا اعتراف ہے،خبر میں اس کا ذکر نہیں۔
بر صغیر کے لوگ تو اُن کی ایک خدمت سے واقف ہیں جو انہوں نے احمد آباد میں سرانجام دی۔انہیں اس خطے میںمسلمانوں کا قاتل کہا جاتا ہے۔ہمارے اہلِ مذہب نوازشریف صاحب پر برہم رہتے ہیں کہ انہوں نے مودی صاحب سے ہاتھ کیوں ملایا۔ابھی ہمارے ہاںبھارت اور ایران کے تعلقات پر بحث جاری تھی کہ مودی صاحب سعودی عرب جا پہنچے،جہاں سے ایورڈ کے ساتھ یہ خبر بھی آئی ہے کہ ان کے باہمی تعلقات معاشی دائرے سے نکل کر سٹریٹیجک دائرے میں داخل ہو چکے۔ عرب امارات میں مودی صاحب کے استقبال میں جو والہانہ پن تھا، اس کی صدائے بازگشت ابھی تک سنی جاتی ہے۔ایران بھی عالمِ اسلام اور سعودی عرب بھی عالمِ اسلام۔بھارت تو اس عالم کا حصہ نہیں۔سادہ مسلمان سوچ رہا ہے کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟دوقومی نظریے کی ایک خاص تعبیرمیں گرفتار برصغیر کا مسلمان توبطورِ خاص الجھن میں ہے۔فکرِ اقبال سے ،اس نے یہ اخذ کیا تھا کہ حرم کی پاسبانی کے لیے مسلمان ایک ہیں۔یا یہ کہ تہران اگر عالمِ مشرق کا جنیوا ہوتوکرہ ارض کی تقدیر بدل جائے گی۔یہ مسلمان سوچتا ہے کہ اب اس کی تقدیر میں کیا لکھا ہے؟
عالمِ اسلام مختلف جغرافی اکائیوں کا مجموعہ ہے۔ان کی اجتماعی شناخت اب جغرافیے سے متعین ہو رہی ہے۔تاریخ میں انسانوں کی اجتماعی عصبیت کبھی ایک نہیں رہی۔ رنگ، نسل، جغرافیہ، قبیلہ، مذہب، یہ تمام عصبیتیں انسانوں کو جمع کر تی رہی ہیں۔دورِ حاضر میں جغرافیہ سب پر مقدم ہے۔انڈونیشیا اورملائشیا میں بسنے والے آبائی شہری ایک نسل سے ہیں لیکن آج ان کی شناخت ان کے ملک سے متعین ہو رہی ہے۔بھارت اور پاکستان کے سکھ ہم مذہب ہیں لیکن ان کی شناخت پاکستان اور بھارت میں منقسم ہو چکی۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے شہری بھی ہم مذہب ہیں۔آج زمین پر کھنچی ایک لکیر نے ان کی شناخت الگ الگ کر دی ہے۔مو لانا حسین احمد مدنی نے یہی بات کہنے کی کوشش کی تھی۔انہوں نے اس کا ذکر بطورامرِ واقعہ کیا تھا۔ اسے ایک نظریاتی بحث بنا دیا گیا۔
آج عالم اسلام کی ہر جغرافی اکائی اپنی اجتماعی شنا خت کے بارے میں یک سو ہے کہ وہ اس کا ملک ہے، مذہب نہیں۔جہاں خوش قسمتی سے جغرافیہ اور مذہب جمع ہو گئے ہیں وہاں شناخت کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔جیسے ملائی قوم۔ملائشیا میں ملائی ہونے کا آئینی مطلب مسلمان ہو نا ہے۔جہاں مختلف مذاہب یا نسلوں کے افراد جمع ہو گئے ہیں،وہاں لوگوں نے جغرافیے کو اجتماعیت کی بنیاد مان لیا ہے۔ان اجتماعی مفاد کو جغرافیے کی روشنی میں سمجھاجا تاہے۔سعودی عرب ہو یا ایران،ان کی پہلی شناخت عربی اور ایرانی ہونا ہے۔پاکستان چین کا دوست ہے۔وہ ان مسلمانوں کا ساتھ نہیں دے سکتا جو چین سے آزادی چاہتے ہیں کیونکہ یہ بات چین کے قومی مفاد سے متصادم ہے۔پاکستان کا قومی مفاد بھی یہی ہے کہ ہم اس معاملے میں خاموش رہیں۔یہاں قومی مفاد کا تعین جغرافیے سے ہور ہا ہے مذہب سے نہیں۔
یہ اس عہد کا مسلمہ اصول ہے جو بین الاقوامی تعلقات کی اساس ہے۔اس کو مان لیا گیا ہے اوراسی بنیاد پر ممالک کے باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔سعودی عرب اور بھارت کے تعلقات ہو ں یا بھارت اور ایران کے،دونوں کی اساس ایک ہے اور وہ ہے بطور ایک جغرافی وحدت،ان کے مفادات۔اب اہلِ کشمیر کے لیے دونوں بھارت سے تعلقات خراب نہیں کر سکتے کہ وہ ان کے ہم ِمذہب ہیں۔اس بات کی تفہیم عالمِ اسلام میں کہیں مشکل نہیں۔اگر مسئلہ درپیش ہے تو یہاں کے مسلمانوں کو۔اس کی وجہ دو قومی نظریے کی وہ تفسیرہے جو مذہب کو اجتماعیت کی اساس مانتی ہے۔مقامی تناظر میں اس کے مفہوم کا تعین ، میرا خیال یہ ہے کہ علامہ ا قبال کے خطبہ الہ آباد کی روشنی میں کر نا چاہیے۔اس میں وہ واضح کر چکے کہ اختلاف کا اصل سبب سماج کی تفہیم ہے۔جو لوگ معاشرے کو طبقات میں بانٹے ہیں،ان کے ساتھ مل کر ایک معاشرہ یا ریاست تشکیل نہیں دی جا سکتی۔مختلف مذاہب کے لوگ اگر ایک سماجی تعبیر پر اتفاق رکھتے ہیں تو وہ مل کر ایک قوم بن سکتے ہیں۔
پاکستان میں مسلمانوں کی تعداد ستانوے فی صد ہے۔یہاں جو قومی شناخت بنے گی،ناگزیر ہے کہ اس پر اسلام کا رنگ غالب ہو۔تاہم پاکستان جب بیرونی دنیا سے تعلقات استوار کرے گا تو اس کی اساس بین الاقوامی تعلقات کے مسلمات ہوں گے اور بطور ایک جغرافی وحدت،اس کے مفادات ۔اسی اصول کو سعودی عرب مانتا ہے اور اسی کو ایران۔اس لیے اب لازم ہے کہ ہم قومی سطح پر اس بات کا اعتراف کریں۔ہمارے مذہبی یا سماجی تعلقات دوسرے ملکوں کے ساتھ گہرے ہو سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس میں ہمارے انفرادی رجحانات کا دخل بھی ہو گا۔اگر پاکستان کے شیعہ ایران کی جانب ایک جھکاؤ رکھتے ہیں تو یہ قابلِ فہم ہے یا اگر سلفی خیالات کے پاکستانی، سعودی عرب کے ساتھ قربت محسوس کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا جب یہ جھکاؤ مذہب اورقومی مفاد کا فرق نظر انداز کر دیتا ہے۔اس وقت بدقسمتی سے کچھ لوگ قومی مفاد کاتقابل مسلکی مفاد سے کرتے ہیں اور اپنا وزن مسلکی کے حق میں ڈال دیتے ہیں جس کا مرکز پاکستان سے باہر ہو تا ہے۔ان کے ہاں اسلام کا مطلب مسلک ہو تا ہے۔یوں وہ مسلکی شناخت کو قومی شناخت پر ترجیح دیتے ہیں۔
یہ ابہام صرف پاکستان میں ہے۔سعودی عرب کے شہریوں میں،اس باب میںکوئی اختلاف نہیں کہ باہمی تعلقات میں پاکستان کو ترجیح دی جائے یا بھارت کو۔اسی طرح ایرانی شہری بھی کسی ابہام میں مبتلا نہیں کہ انہیں بھارت اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کس پہلو کو اہمیت دینی ہے۔پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ یہاں کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان ان کے ہم مسلک ملک کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ رہے۔اسی ملک میں تحفظ ِحرمین اور تحفظ ِ بحرین کے نام پر لوگوں کو جمع کیا جا تا ہے۔ ہم نے تو کبھی نہیں سنا کہ کسی مسلمان ملک میں تحفظِ کشمیر یا تحفظِ فلسطین کے نام پر گروہ وجود میں آئے ہوں۔فلسطین کے حق میں اگر کہیں آوازیں اٹھتی ہیں تو وہ ریاست کی پالیسی سے ہم آہنگ ہو تی ہیں۔کشمیر کے مظلوموں کے حق میں تو خیر کم ہی کہیں سے آواز اٹھتی ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ کبھی سعودی عرب یا ایران میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے حق میں جلوس نکلاہو۔
آج امت ِمسلمہ ایک روحانی تصور ہے،سیاسی نہیں۔رسالت مآب ﷺ نے میثاق ِ مدینہ میںسیاسی وحدت کو بھی امت کانام دیا جو مسلمانوں اور یہودیوں کا اجتماع تھا۔اسلام بھی یقیناً اجتماعیت کی اساس ہے لیکن یہ روحانی اور سماجی ہے،سیاسی نہیں۔اس فرق کو جاننا ہم سب کی ضرورت ہے۔
اگر میرا یہ مقدمہ قابلِ فہم ہے تو پھرکل بھوشن یادیو کا چاہ بہار کو مرکز بنانا بھی قابلِ فہم ہو نا چاہیے۔پھر مودی کے لیے سعودی عرب کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ پر بھی کسی کوحیرت نہیں ہو گی۔اس کے بعد یہ بھی لاز م ہے کہ پاکستان کے مفادات کا تعین ریاست کے ذمہ داران پر چھوڑ دیا جائے۔خارجہ پالیسی کو گلی بازار کا موضوع نہیں بننا چاہیے۔ہم اپنی ریاست پرتنقیدکا حق رکھتے ہیں لیکن اس کایہ حق چیلنج نہیں کر سکتے کہ وہ خارجہ پالیسی میں کیا ترجیح قائم کر تی ہے۔خارجہ پالیسی کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں ہو سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *