تنقید بطور انصاف

babar sattarبابر ستار

ایک بے حد ظالم ریاست سے ایک بے حد ظالم معاشرے میں ہماری تبدیلی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ ہم اس حقیقت کے ساتھ مفاہمت کر چکے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی درمیان کا راستہ نہیں ہے۔آپ یا شکاری بن سکتے ہیںیا شکار بن سکتے ہیں، اور ظاہرہے کہ شکاری بننا شکار بننے سے بہتر ہے۔طبقہ اشرافیہ شکاری بن چکا ہے۔ اشرافیہ کے گروہوں میں داخل ہونے کے لئے مطلوب خصوصیات کمال، اصول پسندی یا ثابت قدمی نہیں بلکہ خاندانی پس منظر، اختیارات کا غیر مشروط حصول اور متزلزل نہ ہونے اور طے شدہ قوائد سے نہ کھیلنے کا غیرمشکوک عہد ہیں۔
اس عمومیت کا مطلب اُن چند مستثنیٰ لوگوں کی کوششوں کو کمزور کرنا نہیں کہ جو اشرافیہ کے گروہوں میں گھل مل گئے ہیں بلکہ مجموعی طور پر گھیرا تنگ کرنا ہے۔ایک گروہ کے اندر، درجہ بندی، گرفت اور وفاداری ضروری ہوتی ہیں۔ اگر آپ ان قوانین سے کھیلتے ہیں تو آپ کے مدارج میں اضافہ جاری رہتا ہے اور آپ اپنے مقابل گروہوں اور عام لوگوں سے محفوظ رہتے ہیں۔اگرآپ کوشش کرتے ہیں اور اصولوں کی بنیاد پر اپنے گروہ کے قوانین کو بھی بدلنا چاہتے ہیں یا ساتھی ارکان پراصول پسندی کے فقدان کا الزام لگا دیتے ہیں تو آپ فوری طور پر ایک اچھوت بن جاتے ہیں۔
صاف بات یہ ہے کہ ہم اس وقت سیاسی، فوجی، عدالتی اور بیوروکریسی کی اشرافیہ کے متعلق بات کر رہے ہیں جو ریاست اور معاشرے کے درمیان ایک عظیم رشتہ تخلیق کرتی ہے۔یہاں شاید ایک اداراجاتی معاملے کے طور پر مختلف مقابل گروہوں کے درمیان ایک رسہ کشی جاری ہے۔ لیکن اس کے باوجود، اشرافیہ کے گروہوں کے اندرذاتی مفادات کے معاملے میں، حتیٰ کہ ایک مقابل گروہ سے بھی یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ دوسرے گروہ کے افراد کے لئے ’احترام‘ کا اظہار کرے گا۔ کیا آپ کو یہ بات تمسخر آمیز معلوم ہوتی ہے؟ ہماری ریاست یا معاشرے نے آج تک کتنے سیاستدانوں، ججوں یا جرنیلوں کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کیا ہے؟
اگر آپ اشرافیہ کے ایک گروہ کے نئے یا کم عمر یا ناتجربہ کار یا خواہشوں سے بھرپور رکن ہیں تو تجربہ کار ارکان کی آپ کو نصیحت یہ ہوتی ہے کہ گروہ سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں بلکہ ہمیشہ گروہ کے اندر رہیں۔ قوائد و ضوابط کے نفاذ میں لچکداری اورکرپشن سے شدید دوری کا مظاہرہ کرکے عامیانہ پن اور انفرادیت کا تاثر پیش نہ کریں۔ ہمارے معاشرے کی اخلاقی سمت کے پس منظر میں یہ نصیحت، اولین نصیحت کا درجہ رکھتی ہے۔اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ خوشامد صرف خاندانی قیادت میں چلنے والی سیاسی جماعتوں میں مفید ثابت ہوتی ہے تو پھر ذرا ٹھہریں، یہاں تک کہ آپ اونچی اڑان رکھنے والے جرنیلوں اور ججوں کی جانب سے بھانڈوں کی طرح اس پر عملدرآمد کیا جاتا دیکھ لیں۔
فوج کے اداراجاتی ردعمل کو دیکھیں کہ جس نے اسامہ بن لادن کی پیچیدہ صورت حال کے متعلق ایک خصوصی ڈیسک تشکیل دیاہوا تھا۔یوں یہ ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے انٹیلی جنس اور تحفظ میں ناکامی کا اعتراف تھا۔انہوں نے مسلح افواج کے سربراہ اور پارلیمان کو اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا، جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ یوں محض عام تنقید ہی کو معقول احتساب سمجھ لیا گیا۔ اسی طرح ارسلان افتخار اور ملک ریاض والا قابل نفرت سکینڈل ، جس نے اعلیٰ عدلیہ کی اصول پسندی اور چیف جسٹس کے عہدے کو شدید نقصان پہنچایا،کو نہ صرف سابقہ چیف جسٹس کی جانب سے بلکہ بطور ادارہ پوری عدالت کی جانب سے خارج کر دیا گیا۔
آمنہ نے اپنے آپ کو آگ لگا کر زندہ جلا لیا، اس وقت نہیں جب انسان اس کے ساتھ زیادتی کر رہے تھے بلکہ اس وقت جب اس نے جان لیا کہ ہمارا مجرم عدالتی نظام ایک بار پھر اس کو بے عزت کرنے والا تھا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نمودار ہوئے، عوام کے سامنے پولیس افسران کے کان کھینچے، ایک دو لوگوں کو ہتھکڑیاں لگانے کے احکامات جاری کئے، مظلوم خاندان کے منہ پر کچھ پیسے مارے اور آگے بڑھ گئے۔نیک جذبات کا یہ نمونہ، پختہ سماجی اور اداراجاتی بیماریوں کے علاج پر نہیں بلکہ عوامی غضب کو دبانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے اور نسل در نسل نقائص سے بھرپور ہے کیونکہ یہ انصاف اور احتساب کے طور پر محض شدید تنقید کے چند جملے پیش کرتا ہے۔
سابقہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا ایجاد کردہ انصاف بطور تنقید کا کاروبار ہنوز جاری ہے۔موجودہ چیف جسٹس بھی ازخود نوٹسوں کے شوقین ہوتے جا رہے ہیں۔لیکن کب تک؟2005ء میں اعلیٰ عدلیہ نے مختاراں مائی کیس میں از خود نوٹس لیا۔ زیادتی کے مبینہ ملزمان کو قید کیا گیااور کسی ماتحت عدالت نے ان کی ضمانت منظور نہ کی۔چھ برس بعد سپریم کورٹ نے ان میں سے ایک کے سوا باقی سب کو بے گناہ قرار دے دیاجبکہ تنقید خوب کی گئی۔اداراجاتی اصلاح کے فوری آغاز یا حتیٰ کہ ایسی ضرورت کے بھرپور اعتراف کی کوئی قابل ذکر کوشش نہ کی گئی۔
تنقید بطور انصاف کا ایک اور مظاہرہ ، ایک بے مثال نظر ثانی کے معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے جس میں ہائی کورٹ کے ایک حاضر جج نے محض سپریم کورٹ کے ریمارکس کے بعد ایک مقدمے سے اپنی جان چھڑوالی، جس طرح سے جج کی ضمانت لی گئی وہ واقعی اختیارات کا ایک’’ رنگین‘‘ مظاہرہ تھا۔ نظر ثانی کو مسترد کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ نے مزید وضاحت کی کہ جج کی سرزنش اس لئے نہیں کی جارہی کہ اس نے قانون کا غلط اطلاق کیا ، بلکہ اس لئے کی جارہی ہے کہ اس نے غیر متعلقہ جائزوں کی بنیاد پر اپنے اختیارات کا استعمال کیا، یعنی مقدمے کے میرٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک وکیل کو خوش کرنے کے لئے۔
تنقید بطور انصاف زیادہ دیر تک نہیں چلے گا۔ہمیں جامع اداراجاتی اصلاح کی ضرورت ہے۔لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک ہمارے اشرافیہ کے گروہ، اپنے کام کرنے کے طریقے کو بدلنے کا فیصلہ نہیں کریں گے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتے توپھر ناراض عوام کے لئے تبدیلی کا مطلب نظام کی اصالاح نہیں بلکہ اس کی تبدیلی ہوگا۔یہ موقع جو پہلے سے ہمارے دروازوں پر دستک دے رہا ہے، کو متعصب اور حریص شکاریوں کا ایک نیا گروہ ختم کر دے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *