تیرے جیہا ہور کوئی نہ

Ayaz Amirایازا میر

اچھی زندگی کیا ہے؟ کیا یہ نیکیوں میں بسر ہونے والی زندگی ہے؟ درست، لیکن یہ اچھائی یا نیکی کیا ہے؟ کیا اس کی کوئی جامع تعریف ممکن ہے؟ دراصل مختلف لوگوں کے لئے اچھائی کا معیار مختلف ہوتا ہے تاہم دنیا کے ہمارے حصے میں ہم چیز کو نیکی گردانتے ہیں اس کے اظہار سے یا تو گلے میں مرچیں سی چبھتی محسوس ہوتی ہیں یا دیوانہ وار قہقہے لگانے کو جی چاہتا ہے۔ عام طور پر نیکی اور منافقت کے درمیان بال برابر فرق ہوتا ہے... اور اس میں ملک میں ہم نے خود کو منافقت کا ماسٹر بنا رکھا ہے۔ ہم اس بات کو نہیں دیکھتے کہ اس دنیا میں ہمارے پلے کیا ہے لیکن ہر آن دوسری دنیا کی فکر میں رہتے ہیں۔ ہماری تمام تر توجہ کا مرکز دوسری دنیا ہوتی ہے۔ اگر ہمارے خشونت سنگھ ہمارے ہاں ہوتے تو وہ اپنے مخصوص انداز میں بیان کرتے کہ ہم کیسے ہیں...بالکل جس طرح وہ اپنے ہم وطنوں کے بارے میں بیان کیا کرتے تھے تاہم ہماری ’’خوش قسمتی‘‘ (یا بدقسمتی؟) ہے کہ ہمارے ہاں کوئی خشونت سنگھ گزارہ کرہی نہیں سکتا کیونکہ ہمارا ماحول ایسے انسان کو برادشت کرنے کا متحمل نہیں۔جن افعال و اقوال کے بعد وہ اپنے وطن میں آزادی سے سانس لے سکتے تھے، ہمارے ہاں وہ شجر ِ ممنوعہ کا درجہ رکھتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انڈیا آزادی ِ اظہار کے حوالے سے ایک مثالی ملک ہے بلکہ جہاں تک میں سمجھ سکتا ہوں وہاں کا میڈیا لکشمی دیوی کی زلفوں کا اسیر ہے۔ اس کے باوجود آپ وہاں وہ کچھ کہہ سکتے ہیں جس کا اظہار ہمارے ہاں جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مثال کے طور پر خشونت سنگھ ثقافتی طور پر ایک مثالی سکھ تھے لیکن وہ سکھ مذہب کے عقائد سے پرہیز کرتے تھے بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ وہ خدا پر روایتی مذہبی انداز میں یقین بھی نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی کائنات کی تخلیق اور اس کے الہامی انتظام کے بارے میں ان کے نظریات مذہب سے لگّا کھاتے تھے۔ ایسے نظریات رکھتے ہوئے ہمارے ہاں ان کا بچائو مشکل ہو جاتا کیونکہ آپ ان باتوں سے انکار کرتے ہوئے خود کو مہیب خطرے میں ڈال لیتے ہیں۔ انڈیا میں بھی مذہبی انتہا پسندی پائی جاتی ہے۔ خشونت سنگھ اپنی تحریروں میں اپنے پسندیدہ مشروب اور عورت کا ذکر بے باکی سے کرتے۔ اپنی تحریروں میں وہ پینے کے حوالے سے کچھ اپنی ہی وارفتگی کا احساس دلاتے۔ ایسا لگتا جیسے کوئی تہوار منارہے ہیں۔ اس کی ’’رسومات ‘‘ کی ادائیگی وہ شام سات بجے شروع کرتے اور ساڑھے آٹھ بجے ختم کر دیتے۔ اس معاملے میں وہ پابندی ِ وقت کے قائل تھے۔ کیا پاکستان میں ایسا ممکن ہے؟ بعض اوقات میں بھی ایسا ہی ذکر کرتا ہوں لیکن مجھے روایات کا لحاظ رکھتے ہوئے گول مول بات کرنا پڑتی ہے ۔ خشونت سنگھ جیسے باغیانہ اور غیر روایتی خیالات کی پاکستانی معاشرہ تاب نہیں لا سکتا۔
خشونت سنگھ کے حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ایک صاحب ِ طرز ادیب تھے۔ ان کا لہجہ دل کو موہ لینے والا ہے۔ اگر ایک مرتبہ آپ ان کی کتاب ہاتھ میں لیں تو پڑھے بغیر رکھنا ممکن ہی نہیں۔ اگر کسی سے ان کا موازنہ کیا جاسکتا ہے کہ میرے ذہن میں سمرسٹ میگم کا نام آتا ہے، جو آج تو زیادہ مقبول نہیں لیکن اپنے وقت میں وہ پڑھنے والوں کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے۔ میں نے اُنہیں اپنے لڑکپن میں پڑھا اور کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کہ ان کی تحریر بے کیف تھے...بالکل جیسے خشونت سنگھ بے کیف نہیں اور انہیں اس بات کا احساس تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں ان کا لکھا ہوا ایک مضمون پڑھ رہا تھا۔وہ جانتے تھے کہ بطور ایک انگلش رائٹر وہ بہت اعلیٰ لیکن انہیں اعتراف تھا کہ ایک شخص ان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ نراد جی چوہدری تھے ۔ مسٹر چوہدری کے قلم کا شاہکار ’’ایک گمنام ہندوستانی کی سوانح عمری‘‘ پڑھنے کے لائق ہے۔ بددیانتی اور منافقت پر طنز کے نشتر چلانا بہت موثر ہوتا ہے جب آپ کی شہرت پھیل چکی ہو۔
خشونت سنگھ کا بہت زیادہ پڑھا گیا ناول ’’Train to Pakistan‘‘ اور پھر ’’سکھوں کی تاریخ ‘‘، جس کے دو والیم شائع ہوئے اور آخر میں ان کے اخباری کالم پڑھنے والوں کو ان کے لہجے کا احساس دلاتے رہیں گے۔ ان کا لہجہ بے باک اور بناوٹ سے پاک تھا اور وہ اپنے بارے میں دوسروں کے بارے میں بے دھڑک ہوکر تبصرہ کرتے۔ مضمون نگاری میں انہیں فرانسیسی مضمون نگار Montaigne کے قریب دیکھا جا سکتا ہے۔ Montaigne بھی اپنی خامیوں کا بلاتامل اظہار کرتے لیکن اس بے باک پیرائے میں نہیں جس میں خشونت سنگھ کیا کرتے تھے۔ یہ اعتراف کرنے کی ہمت کس شخص میں ہے کہ اس کی بیوی کا کسی اور شخص کے ساتھ بھی تعلق رہا ہے... اور وہ دوچار دن کی بات نہیں، پورے بیس سال تک اور انھوں نے اس کا ذکر ایک ٹی وی پروگرام میں کیا۔ کیا یہ برداشت کرنے اور اس کا اظہار کرنے کے لئے ایک مطمئن روح کی ضرورت نہیں؟
تمام تر مذاق اور پُرلطف تحریروں کے باوجود وہ کوئی جنس زدہ نہ تھے۔ دراصل وہ ایک سنجیدہ اور باوقار انسان تھے ۔ ان کے دل میں بہت سے جذبات موجزن ہوں گے لیکن وہ بہت ہی باوقار اور پروضع انسان تھے۔ درحقیقت انھوں نے اپنے جذبات کو برادشت، انسان دوستی اور رواداری کے پیرائے میں ڈھال لیا تھا۔ وہ انتہاپسندی اور تنگ نظری کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ وہ بھارتی توہم پرستی بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ برصغیر کی توہم پرستی کیونکہ ہم پاکستانی بھی اس ضمن میں بھارتیوں سے کم نہیں، کا کھل کر مذاق اُڑاتے تھے۔ انہیں بجا طور پر بھارتی Montaigne کہا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی پاکستانی مصنف ان کا حریف ہوسکتا ہے تو وہ نامور کالم نویس اردشیر کائوس جی کے سوا کوئی اور نہیں۔
خشونت سنگھ اپنے روزمرہ کے معمولات کے بہت پابند تھے۔ وہ صبح سویرے اٹھتے، اپنے اور اپنے محافظوں کے لئے چائے بناتے(جب خالصتان کے حوالے سے بھارت میں شورش پسندی جاری تھی تو اُنہیں اپنے ساتھ محافظ رکھنا پڑتے کیونکہ وہ سکھ انتہا پسندوں کی ہٹ لسٹ پر تھے)، باقاعدگی سے ورزش کرتے۔ اس کے بعد وہ کام میں مصروف ہوجاتے۔ دوپہر کے بعد پینتالیس منٹ تک آرام کرتے۔ اس کے بعد پھر اپنے کام میں مصروف ہوجاتے۔ اس کے بعد شام سات بجے کے بعد ان کے گھر کے دروازے ہر کسی کے لئے کھلے تھے، ہر کسی کی ڈرنکس کے ساتھ تواضح کرتے۔ وہ اس بات کو یقینی بناتے کہ ڈنر پر ان کے ساتھ کوئی مہمان ضرور ہو اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کی بیوی ان سے ناراض ہوتیں۔ خشونت سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کبھی بھی مدہوش نہیں ہوئے اور اس بات پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ ان کا کہناہے کہ وہ خواتین کے ساتھ بے تکلف ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتے لیکن جو لوگ ان سے کبھی نہیں ملے اور اُنھوں نے صرف ان کی تحریر ہی پڑھی ہے، وہ اس پر یقین نہیں کریں گے۔
خشونت سنگھ کو موت سے کوئی خوف نہ تھا۔ انھوں نے طویل عمر پائی، نہایت جاندار زندگی بسر کی اور نہایت سکون سے اس دنیا کو الوداع کہا۔ اُنہیں فخر تھا کہ ان کا کوئی مذہب نہیں لیکن دل نہیں مانتا کہ آسمانی طاقتوں نے ان کا خیر مقدم نہ کیا ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *