متفرقات

shakeela sher ali

مخمصہ اور کنفیوژن ہے کہ بڑهتا ہی چلا جا رہا ہے.سمجهه سے باہر ہے کہ حکومت مسائل کے حل کی طرف بڑهه رہی ہے کہ مسائل کو ڈاج دے رہی ہے ذرا مسائل کے حل کے لیئے نئی تجاویز سنیئے اور سر دهنیئے :
خبر نمبر(1) : آئندہ کوئی ڈی چوک میں دهرنا نہ دے سکے،اسلیئے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ڈی چوک کے چاروں اطراف آہنی دیوار تعمیر کر دی جائے.
ماشاللہ کیا دور کی کوڑی لائے ہیں ہمارے وزیر داخلہ صاحب-  ایک طرف تو اس تجویز کے پدر گرامی(چوہدری نثار) کے مہا گرو(جنرل حمید گل مرحوم)  اس بات پر بے انتہا فخر مند تهے کے امریکی صدر نے خود انہیں  مسمارشدہ دیوار برلن کا ٹکڑا عنایت کیا تها کیونکہ بقول اس وقت کے امریکی آقائوں کے ایسا ان شاطرانہ چالوں کی بنا پہ ہی ممکن هوا جو(جنرل مرحوم) انہوں نے سابق سویت یونین کے انہدام کے لیئے اختیار کی تهیں تو دوسری طرف چیلا صاحب بجائے دیواریں گرانے کے،  دیواریں کهڑی کرنے جارہے ہیں اور وہ بهی آہنی.شاید یہ "دوامی بندوبست" ہی حکمرانوں کی  گرتی دیواروں کو سنبهالا دے سکے ورنہ تو ایک اکیلا 'سکندر' ہی ناتواں جان پر بهاری پڑ جاتا ہے اور ہر دیوار ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے-
خبر نمبر(2) : حکومت پنجاب نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام پارکس شام چهه بجے بند هو جایا کریں گے-
لیجئے جناب جب سورج چاچو ہی جاتے جاتے ساڑہے سات بجا دیا کریں گے تو عوام الناس کیا بهری دوپہر میں اپنی چمڑی سینکنے اور اسے مزید برائون بلکہ جامنی کرنے پارکوں میں جایا کریں گے - غالبا" حکومت پنجاب کا یہ فیصلہ اس ہوائی مفروضہ پر مبنی ہے کہ اس بار موسم گرما میں پنجاب میں لوڈ شیڈنگ یا تو بالکل نہیں ہو گی یا پهر بہت کم ہو گی کیونکہ جس قیامت کی گرمی اس دفعہ پڑنے کی پیشینگوئیاں ہیں،اس کے پیش نظر اور محترمہ لوڈ شیڈنگ کی موجودگی میں تو دڑبے جیسے گهروں میں بند ہو کے نہیں بیٹها جا سکتا لیکن اگر لوڈ شیڈنگ بهی انتہا کی ہونی ہے اور گرمی بهی تو بس سمجهو ہو گیا کام... پهر تو خاندانی منصوبہ بندی کی کوئی ضرورت ہی نہیں کہ بہت ہی فطری طریقے سے آبادی کم ہونا شروع ہو جائے گی - دہشت گردوں کو بهی خوامخواہ تردد نہیں کرنا پڑے گا-
یہ تو تهی ایک چهوٹی سی جهلک حکومتی حواس باختگیوں کی - اب ذرا ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں اپنے منه میاں مٹهو..... میرا مطلب ہے اپنے تیئں نظریاتی قائدین پر  جنہوں نے سوائے فکری انتشار اور پهر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی کے،اس بے حال ملک کو کچهه اور نہیں دیا - ذرا یہ خبر ملاحظہ کریں :
خبرنمبر(3) : 35 دینی جماعتوں کی نظام مصطفی کانفرنس مورخہ دو اپریل 2016 کو منصورہ لاہور میں ہوئی اور  مشترکہ اعلامیہ میں ایک عدد تابندہ گوہر تجدید عہد کیا گیا کہ ملک کو سیکیولر بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی چاہے 77 جیسی تحریک ہی کیوں نہ چلانی پڑے -
اے میرے دیس کے خود ساختہ نظری و فکری رہنمائوں ! کاش آپ نے ایسی ہی ایک تحریک کا اعلان (اور پهر اس پر شرح صدر سے عملدرآمد بهی) اس وقت بهی کیا ہوتا جب اے پی ایس ہوا تها یا چلو اب گلشن اقبال کے بعد ہی کر دو لیکن شاید آپ کی فہرست ترجیحات میں خون خاک نشیناں کہیں ہے ہی نہیں لہذا آپ کی بلا سے آئے روز بہنے والا یہ خون پانی سے سستا ہو جائے،رزق خاک ہو جائے یا پهر غرق دریا،آپ کو اس سے کیا - آپ کے کرنے کا اہم ترین کام سیکیولر اور نا سیکیولر کی لا یعنی بحث ہی ہے - ویسے گہرائی میں جا کر سوچا جائے تو موجودہ دہشت گردی کے تانے بانے کہیں نہ کہیں اسی سیکیولر اور نا سیکیولر کی بحث سے جا کر ہی ملتے ہیں -
خبرنمبر(4) : مارچ کے آخری ہفتے میں ڈی چوک پر سنی تحریک کے دهرنے کے دوران شمع رسالت کے پروانوں کے منه سے جو پهول جهڑتے رہے،انکی بهینی بهینی خوشبو یقینا" جہنم کے شعلوں میں گهرے ملعون سلمان تاثیر کو بهی پہنچی ہو گی اور اسکی روح بلکہ بد روح بهی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہو گی کہ مشک وعنبر میں ڈوبی یہ گفتگو زیادہ قابل اعتراض تهی یا پهر اس کے زہر میں بجهے ہوئے ارشادات عالیہ-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *