پہلا سوال

Asha’ar Rehmanاشعر رحمٰن

ماہرین کی جانب سے پیش کئے جانے والے اعداد وشمارہمارے اپنے حقائق کو جھٹلا دیتے ہیں۔بھرپور دن چڑھ آنے کے بعد گھروں اور دکانوں سے نکل آنے والے نوجوان چہروں کے ساتھ لاہور میں گھومتے پھرتے ہوئے،آپ یہ بات نہیں سمجھ سکتے کہ وہ بچے جنہیں سکول میں ہونا چاہئے تھا، ان میں سے صرف 11فیصد ایسے ہیں جو داخل نہیں ہو سکے۔
آپ واقعی اپنے کانوں پر یقین نہیں کرتے جب ایک سروے آپ کو بتاتا ہے کہ سرکاری شعبے کے پرائمری سکولوں میں سے صرف 11فیصدایسے ہیں جن میں بیت الخلاء نہیں ہے یا یہ کہ ایک سرکاری سکول میں پانچویں جماعت کے طالبعلموں میں سے تقریباً70فیصد ایسے ہوتے ہیں جو دوسری جماعت کے بچوں کو پڑھائی جانے والی اردو کی کسی کہانی کے مندرجات کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیںیا یہ کہ پانچویں جماعت کے طلباء میں سے دو تہائی بچے انگریزی کے جملے پڑھ سکتے ہیںیا یہ کہ ان میں سے ایک تہائی کامیابی سے دو ہندسوں والی تقسیم کر سکتے ہیں۔ لاہور کے تقریباً78فیصد سرکاری پرائمری سکولوں کے پاس اپنے ذاتی کھیل کے میدان ہیں!کون سے سکول؟ کون سے کھیل کے میدان؟ یہ لازماً کوئی اور لاہور ہو گا۔
گزشتہ ہفتے لاہور کے سکولوں میں ہونے والے ایک سروے کے حوالے سے مرتب کردہ اس نیوز رپورٹ نے منتخب کردہ سکولوں کی تعداد یاان علاقوں کی تقسیم کے متعلق کچھ نہیں بتایاکہ جن کو منتخب کیا گیا تھا۔ یوں یہ خود ہی ہمیں بات کرنے یا سوال اٹھانے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔
پنجاب حکومت ، جسے ہمیشہ لاہور کے لئے اس کی طرفداری یا اسے معیار سے بھی بلند تر مقام دینے کے سبب اس کے مشکوک روئیے کے باعث آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے ،اب اس کی تنقید کے لئے بنیاد کے طور پرپہلا سوال تو ان 11فیصد غیر حاضر بچوں ہی کے معاملے کو حل کرنے سے متعلق ہوگااور ساتھ ہی ساتھ حکومت کو89فیصد شرح داخلہ حاصل کرنے پر مبارک باد بھی دینا ہوگی۔ یہ اوسط پاکستان کی قومی اوسط سے نہایت بلند ہے اور اس کا دوسرے صوبوں کی حکومتوں کے زیرانتظام آنے والے ملک کے دوسرے حصوں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے تاکہ ان حکومتوں کو کچھ مزید شرم دلائی جا سکے۔
جہاں تعریف کرنی بنتی ہو، وہاں لازماً کی چاہئے لیکن سکول جانے کی عمر کے بچوں کا وہ ہجوم جس سے ہماری روزانہ شہر کی سڑکوں پر ملاقات ہوتی ہے اور وہ سکول جانے کے قابل نہیں ہیں، وہ 100میں سے صرف11سے کہیں زیادہ ہیں۔
کم عمر بچوں کو کاروباری اداروں اور دفاتر اور مختلف النوع ورکشاپوں پر چھوٹی موٹی ملازمتوں سے لے کر انتہائی تکنیکی کاموں تک میں الجھا دینے کے قدیم روئیے میں بظاہر کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دے رہی۔
یہ معاملہ شاید بڑی حد تک ایسا ہے کہ ان کم عمر، چالاک اور طابع فرمان بچوں کی بڑی تعداد لاہور کے لئے نئی ہے کیونکہ وہ گزشتہ چند برسوں ہی میں لاہور منتقل ہوئے ہیں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ابھی لاہور کے شہریوں کی فہرست کا باقاعدہ حصہ ہی نہ بنے ہوں اور ابھی تک یہاں کی آبادی میں ان کا اندراج ہی نہ کیا گیا ہو۔ یا شاید وہ ان آبادیوں تک ہی محدود رہتے ہیں ، جن کا سروے کیا ہی نہیں گیا۔ معاملہ کوئی بھی ہو، صورتِ حال کا وسیع تر ادراک حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اس سروے کے نتائج کو مزیدگہرائی میں جانچیں۔
اس سروے میں دکھائی گئی تصویر کے برعکس، ایک ناپسندیدہ تصویر اس لئے بھی بہت ضروری ہے کہ یہ سروے فراہم کی جانے والی تعلیم کے معیار کے متعلق کچھ نہایت افسوسناک باتوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔تناسبوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور نظام کو سیدھا کرنے کی بجائے ریکارڈ بنانے کی طرف ہمارے رجحان سے قطع نظر، یوں لگتا ہے کہ وہ جو داخل ہو جاتے ہیں، وہ نہ داخل ہو سکنے والے بدقسمتوں کی نسبت بس ذرا ہی اچھا کر پاتے ہیں۔
وہ جو سکول جاتے ہیں، ان کے متعلق زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ اپنے کمرہ جماعت سے بہت دور کسی دفتر میں جا کر اپنے جملے درست کروائیں گے اور کسی دکان میں جا کر اپنا حساب کتاب درست کروائیں گے۔درسگاہ کی بجائے وہ ایک ایسی جگہ پر ہیں جہاں انہیں مسلسل کسی جبر یا ظلم کی شکایت کرتے ہوئے پایا جا سکتا ہے۔ اگر نظریات اور معلومات ٹھونسنا کوئی چیز ہوتی ہے تو بھی ابھی انہوں نے ایسی کسی چیز کے متعلق کچھ نہیں جانا، اور قابل غور بات یہ ہے کہ کبھی جانیں گے بھی نہیں۔
گزشتہ ہفتے کے روز، اس سروے کو لانچ کرتے ہوئے، ایک مقرر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تعلیم کے اس بحران پر بات کرنے اور اس کو حل کرنے کے لئے آگے آئیں۔ جبکہ معقول حد تک بڑھ چکنے والی موجودہ پیچیدگی، اسی طرح برقرار رہے گی، البتہ کمیونٹی کو دیا جانے والا یہ بلاوا، اگر والدین سن لیں تو یہ سب سے اچھی بات ہوگی کیونکہ صرف وہی ہیں کہ جو تبدیلی کے لئے دباؤ ڈال سکتے ہیں ۔
اس کا کوئی فائدہ نہیں کہ والدین اپنے آپ کو صبح سویرے بچوں کو بیدار کرنے اور انہیں تقریباً نیند کی حالت میں سکول بھیجنے کی محض خود کو تسلی دینے والی رسم تک محدود رکھیں۔بڑے خواب کی تعبیر ان سے کچھ مزید مستعدی کا مطالبہ کرتی ہے۔
یہ غیرمعمولی بات ہے کہ ہم میں سے کتنے لوگوں نے کب اور کس دن لاہور کے مختلف حصوں میں بنیادی سماجی ضروریات کی عدم فراہمی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے؟لوگ بجلی، گیس، پانی اور انصاف کی عدم فراہمی کے خلاف ناراضگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج کرتے ہیں۔ تاہم اس وقت کوئی احتجاج نہیں کرتا جب اس کے بچے کو کمرہ جماعت میں اس کا حق نہیں دیا جاتاکیونکہ وہ جنہیں ان کی ابتدائی عمر میں تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے، وہ اپنی عمر کے بعد کے ادوار میں بھی کبھی یہ سوال اٹھانے کے قابل نہیں ہوتے کہ انہیں کیا سکھایا یاپڑھایا گیا ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *