میری کتاب کا انتساب

razia syed.
آج میری کتاب کی تقریب رونمائی ہے ، سٹیج سج چکا ہے اور مہمانان گرامی بھی جوق در جوق ہال میں داخل ہو رہے ہیں ۔ میرے صحافی دوستوں اور ادبی حلقے کے ساتھیوں نے میرے لئے اس تقریب کا انعقاد ایک فائیو سٹار ہوٹل میں کیا ہے ۔ آج میں تو خوش ہوں ہی لیکن مجھے علم ہے کہ مجھ سے زیادہ وہ مہربان ہستی خوش ہے جس نے مجھے پالنے کا فریضہ سرانجام دیا ہے ۔ ہاں لوگ کہتے ہیں کہ جنم دینے والی سے زیادہ احترام اسکا کرنا چاہیے جوپالنے کی ذمہ داری سرانجام دے ۔
میری زندگی میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے مجھے اس مقولے پر اور بھی زیادہ یقین ہو گیا ، مجھے یاد ہے کہ میں سولہ برس کی تھی تو میری والدہ فالج کا شکار ہو کر اس دنیا سے روٹھ گئیں اور ان کے جانے کے بعد میرے والد بھی کسی حد تک ہم تینوں بہنوں سے بے نیاز ہو گئے ۔ ہماری دلچسپیاں ، حسرتیں اور سرگرمیاں سبھی ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئیں ۔ اس وقت میری بڑی بہن فاطمہ نے نہ صرف میرے لئے ایک اچھی سہیلی کا کردار نبھایا بلکہ وہ ایک شفیق ماں بھی بن گئی ۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کوئی بھی مسئلہ ہو خواہ وہ سکول ، کالج یا اب نوکری کا ہو اور وہ میری بڑی بہن نے حل نہ کیا ہو ۔
میں اپنی تمام تر پریشانیاں فاطمہ کو بتا کے خود مطمئن ہو جایا کرتی تھی ۔ لیکن آج کل میں نے نوٹ کیا تھا کہ جیسے فاطمہ کسی الجھن کا شکار ہے شاید عید قریب آرہی تھی اور وہ یہ سوچتی تھی کہ امی تو ہم سب کے لئے بہت اہتمام کرتی تھیں ، سوٹ ، جوتے اور کئی طرح جیولری جو نوجوان لڑکیوں کی خواہش ہوتی ہے ۔ لیکن اس بار عید پر نئے کپڑے آنے کا کوئی چانس نہیں تھا کیونکہ ہمارا تعلق بھی معاشرے کے اس متوسط طبقے سے تھا جہاں بہت سے کپڑے بنانے کی فضول خرچی نہیں کی جا سکتی تھی ۔
خیر بات ہو رہی تھی فاطمہ کی ، اس دن پندرہ رمضان المبارک تھا جب میں سکول سے واپس آئی تو فاطمہ کے چہرے پر خوشی رقصاں تھی ۔ میرے کھانا کھانے سے پہلے ہی وہ ایک شاپر لے کر میرے سامنے آگئی جس میں دو بہت خوب صورت ریڈی میڈ ملبوسات تھے اور کہنے لگی پہلے تم پسند کر لو پھر ہاجرہ ( دوسری بہن ) بھی لے لے گی کیونکہ تم چھوٹی ہو سب سے اس لئے ۔ ہاجرہ اور میں دونوں خوش تو بہت تھے لیکن حیران بھی کہ آخر یہ کپڑے کیسے آگئے ؟ ابھی میں انہی سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی تو سب سمجھ میں آگیاان کے خالی کانوں کو دیکھ کر ذہن میں فورا یہ خیال آیا کہ وہ ہماری خوشی کے لئے وہ سونے کی بالیاں بھی فروخت کر آئی ہیں جو انھیں امی کی طرف سے ختم قرآن پاک پر تحفہ ملی تھیں ۔
میری بہن نے اس وقت تو اس سب کے بارے میں کچھ نہیں کہا لیکن آج میری کتاب کی تقریب رونمائی سے پہلے مجھے گلے لگا کر ان کا یہ کہنا کہ میرا زیور تو تم ہو مجھے اپنی نظروں میں ہی معتبر کر گیا ۔ اب آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ میں نے اپنی کتاب کا انتساب کس مہربان ہستی کے نام کیا ہے ۔۔!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *