یہ ہے حویلی لکھا کا سرکاری سکول

school

حویلی لکھا(ظفر اقبال ظفر سے)تعلیمی اداروں کو محفوظ اور بہترسیکورٹی کے حوالے سے حکومت  کے نعرے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ چاردیواری،پانی،نہ بجلی،ٹوٹی چھتیں،اکھڑے فرش،گرتی دیواریں، ،گورنمنٹ ایلمنٹری سکول دلیکے ،کی خستہ حال عمارت کبھی بھی زمین بوس ہو کر اساتذہ اور ظلباء کی قیمتی جانئیں لے سکتی ہے۔بچے کمروں کی بجائے کھلے میدان میں درخت کے سائے تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور۔چاردیواری نہ ہونے سے مال مویشی،آوارہ کتے،سکول گراؤنڈ میں دندناتے پھرتے ہیں جن کو بھگاتے بھگاتے کئی بار طلباء زخمی ہو چکے ہیں۔لوگوں کے باتھ روموں،گٹروں کاگندہ پانی بھی سکول میں داخل ہو کر جوہڑ کی شکل اختیار کر گیا ڈینگی لاوا پیدا ہونے کا خدشہ منڈلانے لگا۔انتظامیہ نے عدم توجہ سے سینکڑوں بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دیں ہر ایک افسر نے خاموشی کا روزہ رکھ لیا ۔تفصیلات کے مطابق۔حکومت پنجاب کی طرف سے فول پروف سیکورٹی ،معیاری عمارت اور معیاری تعلیم کے نعرے ہوا چکے ہیں ۔نواحی گاؤں دلیکے مہار میں گوائمنٹ بوائزایلمنٹری سکول دلیکے مہار کی خستہ حال عمارت کسی بھی وقت گر کر سینکڑوں معصوم بچوں کی زندگیوں کے چراغ گل کر سکتی ہے ۔چار کمروں کی عمارت کی ٹوٹی چھتوں سے آسمان دیکھا جا سکتا ہے ،فرش جگہ جگہ سے اکھڑے ہوئے ہیں تقریبا چالیس سال پہلے بنے والی مذکورہ عمارت کی کمزور دیواریں کسی بھی لمحے زمین بوس ہو کر انتظامیہ کی عدم توجہ،لاپرواہی،افسر شاہی کا بھید کھول کر کئی معصوم بچوں اور اساتذہ سمیت کئی قیمتی جانوں سے کھیل سکتی ہیں ۔جانیں جانے کے خوف سے اساتذہ بیچارے درختوں کے ساؤں میں بچوں کو تعلیم دینے پر مجبور ہیں جس جس طرح درختوں کا سایہ اپنی جگہ تبدیل کرتا ہے سکول کے اساتذہ اور کلاسیں بھی اسی طرح گراؤنڈ میں گھومتی رہتی ہیں۔چار دیواری نہ ہونے سے سکول ہذا میں مال مویشیوں اور آوارہ کتوں کا مٹر گشت معمول بن چکا ہے جنکو بھگاتے ہوئے متعدد بار معصوم بچے زخمی بھی ہو چکے ہیں ۔چاردیواری نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے باتھ رومز،گٹروں کا آلودہ پانی سکول میں داخل ہو رہا ہے جس سے نہ صرف جوہڑ بن چکا ہے بلکہ مچھروں کی افزائش میں تیزی سے اضافہ ڈینگی لاوا پیدا ہونے کے خدشات پیدا کر رہا ہے ۔سکول میں صدیوں پرانا ہینڈ پمپ ،بند باتھ رومز،آج کے جدید دور میں حکومت پنجاب اور انتظامیہ کے منہ پر کسی طمانچہ سے کم نہیں ہے ۔اس حوالے سے جب سکول میں موجود اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر ملک اظہر سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے اپنا موقف دینے سے معذرت کر لی ۔جبکہ گاؤں ہذا کے مکینوں نے شیدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ہمارے بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں بچوں کوسکول نہیں بھیجتے تو انکے ان پڑھ رہنے کا خوف کھاتا ہے سکول بھجواتے ہیں تو سکول عمارت کے گرنے کا خوف جان لینے کو آتا ہے حکومت نے ہم والدین کو خوف کی چکی ڈال کر پیس کے رکھ دیا ہے خدا خدا کا خوف کریں اور منظور ہونے والی نئی عمارت کی تعمیر شروع کی جائے۔

byan

گورنمنٹ بوائز ایلمنٹری سکول دلیکے مہار سکول کی کمیٹی کے ممبر اور علاقائی سیاسی و سماجی شخصیت میاں فاروق احمدمہار ،مقامی رہائشی ،پرویز احمد مہار،سمیت درجنوں افرادنے نمائندہ کو بتایا کہ اس سکول کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے ۔سکول کی خستہ حال عمارت کو تعمیر ہوئے چالیس سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور آج کسی بھوت بنگلہ سء کم نہیں ہے مذکورہ عمارت چاروں طرف سے گرنے کی نوید سناتی ہے اس سکول میں ارد گرد کے درجنوں دیہات سے بچے پڑھنے کے لیے آ سکتے ہیں مگر گرتی عمارت،چاردیواری سے محروم،مچھروں،اور بیماریوں کا موجب بننے والے سکول میں کوئی شخص اپنا بچہ داخل کروانے کو تیار نہیں ہے ہم نے سینکڑوں بار تصاویر بنا کر ڈی سی او اوکاڑہ ،ای ڈی او ایجوکیشن اوکاڑہ کو بھجوائیں ہیں درخواستیں ارسال کی ہیں مگر کوئی کاروائی نہ ہوئی بلکہ ہماری درخواستوں کا اثر یہ ہوا ہے کہ خدا خدا کر کے نئے چار کمروں کی تعمیر کا ٹھیکہ ہوا تھا جسکی بنیادوں کی کھدائی بھی شروع ہو گئی تھی مگر نا معلوم مصلحت کے تحت ،ظلم کی انتہاء کرتے ہوئے ،ہمارے معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے لیے ٹھیکدار کو کام سے روک دیا گیا اور اب سنا ہے کہ ساڑھے ترتالیس لاکھ روپے کی گرانٹ کو انتہائی کم کر کے صرف چھت کا کام کروایا جائے گا جو کہ ظلم اور زیادتی کی انتہاء ہو گی کیونکہ مذکورہ عمارت کو کروڑ بار مرمتی کروانے کا کوئی فائدہ نہ ہے اور ضلعی انتظامیہ نے اگر اختیارات کی دھونس چلا کر ایسا کیا تو کسی بھی حادثے کی صورت میں ذمہ دار ضلعی حکومت،ای ڈی او ایجوکیشن،اور دیگر متعلقہ ملازمین ہونگے کیونکہ ہمارا کام ہے آگاہی دینا اس لیے ہم بار بار التجا کر رہے ہیں کہ پرانی عمارت کو مرمت کروانا گوارئمنٹ کا پیسہ ضائع کرنا و معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے انہوں نے بتایا کہ چاردیواری نہ ہونے سے جہاں لوگوں کے مال مویشی سکول میں داخل ہو جاتے ہیں وہاں چوری چکاری بھی ہو جاتی ہے دیہاتیوں کے گٹروں کا پانی بھی سکول میں داخل ہو رہا ہے سیکورٹی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ایک با اثر نائب قاصد،مرزا جمیل احمد تین سال سے سکول حاضر نہیں ہوا اور مفت کی تنخواہیں گھر بیٹھ کر لے رہا ہے۔افسران کو آگاہ کرنے کے باوجود کسی افسر کو نوٹس لینے کی توفیق نہ ہوئی ہے ۔انہوں نے وزیر اعلی پنجاب میاں شہاز شریف سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سینکڑوں بچوں کی زندگیوں کا مسلہ ہے اس لیے ہمارے بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی بجائے ضلعی انتظامیہ فوری طور پر نئی عمارت کی تعمیر شروع کروائے،چاردیواری مکمل کرے تا کہ میرٹ اور انصاف ہو سکے اور اگر مرمتی کروائی گئی تو آس پاس کے درجنوں دیہات کے ہمراہ اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کی خاطر پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *