ظلم کی بولتی ہے زبان، مظلوم ہے بے زبان!

ڈاکٹر عطاء الودود

Ata ullah wadood
ظلم کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی جاتی ہے کہ کسی بھی چیز کا اس کے غیر محل پر رکھنا یا پھر کسی کام کاغیر محل پروقوع ظلم کہلاتا ہے۔
ہمارے معاشرہ کا سب سے بھیانک روپ بھی یہی سامنے آتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اقتدار سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی ذمہ داریوں تک کے ادا کرنے والے اور اس کی نگرانی کرنے والے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مفوضہ کاموں سے نہ صرف محض لاتعلق ہوتے ہیں بلکہ ان کو مفوضہ کاموں کی بعض اوقات الف ب بھی ٹھیک سے معلوم نہیں ہوتی اور خود اپنی ذات کو بھی جگ ہنسائی بناتے ہیں تو دوسری جانب اپنے اعمال وافعال سے دنیا بھر میں قومی منڈیٹ، عزت وناموس کابھی مذاق اڑاتے ہیں اس کے پیچھے نہ صرف محض کالی بھیڑیں سرگرم عمل نظر آتی ہیں بلکہ بعض اوقات ان پروفیشنز میں رہنے والے ہی اس کو تباہ کرنے کے لیے آلائے کار بن جاتے ہیں ۔
اس کی سب سے بڑی مثال ہمارا PCBبورڈ ہے کہ وسیم اکرم، انضمام الحق اور اسی طرح کے بڑے بڑے شہرہ آفاق کرکٹرز کے ہوتے ہوئے جن لوگوں کے ہاتھ بورڈ کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے نہ صرف محض وہ اس کھیل سے بے بہرہ ہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے خاندانوں میں ان کی اگلی نسل میں تو کرکٹ آہی رہی ہے مگرماضی میں ان خاندانوں میں نہ کسی نے کرکٹ کھیلی اور ہوسکتا ہے کہ بعضوں کے پرکھوں نے اس کھیل کو محض تمسخر ہی نہیں بلکہ اس کی مخالفت بھی کی ہوگی جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ حال میں جو صورتحال ہماری کرکٹ ٹیم کی ہے وہ نہ گفتہ بہ ہے اور بعض دفعہ تو سلیکٹرز کے بارے میں ایسا محسوس ہورہا ہوتا ہے کہ محض دلہے میاں کو خوش کرنے کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے یا پھر کسی ایسے لڑکے کو بلا گیند تھما دی گئی ہو جو اپنے مکلاوئے پر آیا ہو۔
دوسری طرف ہمارے قومی کھیل کا حال تو اس سے بھی ابتر ہے کہ اس بورڈ کے سارے کرتا دھرتا ایسے لوگ ہیں جن کو اگر قلم پکڑا کر کہا جائے کہ ہاکی کی شکل ہی بنا دو تو شاید وہ ہا کی جگہ بندوق اور ہاکی کے گول کی جگہ ٹینک بنا ڈالیں گے پھر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہاکی کے مستقبل کی تمام بھاگ دوڑ تھما دینا ایسا ہی ہے کہ ملک سے قومی کھیل کو ختم کردیا جائے۔
ایک طرف جب دنیا کا مشہور سائنسدان جب اپنی خدمات ملک کو دیتا ہے تو اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے کہ اس کو کالج کی فٹبال کمیٹی کا صدر بنا دیا جاتا ہے اوروہ نہ محض اپنی تمام عمر مینجمنٹ کے اس فیصلہ پر حیران نظر آتا ہے بلکہ بعض اوقات تو اپنے وقتِ عزیز کا ضیاع سمجھ کر اس پر آنسو بہاتا نظر آتا ہے۔
کبھی تو ہمارے ملک کو چلانے والے وہ ہوتے ہیں کہ جن کی حقیقی ذمہ داری ملک کی حفاظت ہوتی ہے مگر اس میں بھی ان کا قصور نہیں ہوتا بلکہ حقیقت یہ ہے وہ اس چیز پر مجبور کر دیئے جاتے ہیں کہ ملک کی اندرونی حالت اس قدر نازک ہوجاتی ہے کہ ملک کے اندر خانہ جنگی کا خطرہ ہوتا ہے جس کی روک تھام کے لیے ان کو ملک کی سیاست میں دخل دینا ہی پڑتا ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ اس کے دور کو Golden Eraکہا جائے خواہ کے اس کا سیاست سے تعلق نہ ہو مگر یہ اتفاقی حادثات ہوتے ہیں نہ کہ ہمیشہ ہونے والی چیزیں۔
حال ہی میں ایک بہت بڑاانکشاف ایک بڑے سہولت کار کے روپ میں سامنے آیا تو جب اس کی زندگی پر نظر ڈالی تو خواہ کے وہ ڈاکٹری کے شعبہ سے تعلق تو رکھتا تھا مگر ہرگز اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو منسٹر آف پٹرولیم بنا دیا جائے اور پھر مختلف بریفنگزمیں نہ محض اپنی عزت خراب کرے بلکہ سیندک جیسے ملکی معیشت افزاء اداروں کو بھی بدنام کرے اور جب قریب سے اس کی وجہ دیکھی جائے کہ کیا وجوہات تھیں کہ ایسے شخص کو اتنا بڑا عہدہ سپرد کیا گیا ہے تو اس کے پیچھے اس کی کوئی چھپی ہوئی قابلیت تو سامنے نہیں آتی ہاں اس کا ایک بڑا احسان یہ سامنے آتا ہے کہ سابق صدر جب جیل میں حالت خراب ہونے کے باعث ضیاء الدین میموریل میں اس کا معالج رہ چکا ہے۔
اسی طرح ہماری سیاست بھی سہولت کاروں کی آلائے کار بنی ہوئی ہے اور اس کی وجہ بھی نان پروفیشنلز کی یا تو کمی کہیے یا پھر ان کو جان بوجھ کر پیچھے رکھنا کہیے ہی سمجھ آتا ہے جس کی بدولت ہم دنیا میں تکلیف کا سامنا اٹھا رہے ہیں۔
ایک بادشاہ کے بارہ میں مشہور ہے کہ اس نے اپنے ایک وزیر کو اپنے ساتھ والی ریاست کے بادشاہ کے ساتھ ہمکلامی کے لیے بھیجا وہاں جو
گفت وشنید ہوئی اس کا احوال تو جانے دیجئے واپسی پر جب بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا کہ کیا بات چیت ہوئی تو اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت وہ چاند نگر کہتے رہے اور ہم لال پل کہتے رہے اس پر بادشاہ سلامت نے حکم دیا کہ پُرانے کاغذات نکالے جائیں اور جب وہ دیکھے تو معلوم ہوا کہ حقیقت بھی یہی تھی کہ جس کو اس زمانہ میں لال پُل کہا جاتا تھا برسوں پہلے اس جگہ کام نام چاند نگر ہی تھا اس پر اس بادشاہ کو بڑا دکھ ہوا اور اس نے کہا کہ ہم جو اس ملک کے باسی ہیں ہم کو تو اپنے ملک کا بھی سہی سے تعارف نہیں لیکن جو لوگ ایک عرصہ دراز قبل اس کے حکمران رہیں ہیں آج بھی انہیں اس ملک کے محل وقوع ہی نہیں بلکہ اس کے پُرانے ناموں سے بھی آشنائی ہے۔
آج ہمارے ملک کا بھی المیہ یہی ہے کہ ہمارے ملک کو چلانے والوں کو اس بات علم کاہی نہیں کہ اس ملک کی کل وسعت کیا ہے اور یہ بات تو اس جگہ بھی ظاہر ہوئی کہ جب چنیوٹ میں کہا گیا کہ یہاں سونے کی نہریں بہتی ہیں اور یہاں کے بچے اب پیرس میں پڑھیں گے تو ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ 1800kmتک اس ذخیرہ کی لمبائی بنتی ہے جو اگر حقیقت میں دیکھی جائے تو کراچی سے بھی آگے تک چلی چلتی ہے۔
بات محض یہاں تک ہی محدود نہیں ہمارے تو بعض وزیر ایسے بھی آئے جنہوں نے محض تفریح کی غرض سے یا لطیفوں کی کتاب بنانے کی غرض سے ایسی باتیں کیں کہ جس سے کچھ فائدہ ہوا تو یہ کہ لوگ کچھ دیر ہنسے مختلف پروگرمز میں ان کے اُپر تمسخر بنا سب ہوا مگر اس کا نتیجہ اگر نظر غور سے دیکھا جائے تو اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ان محترم کے ایسے بیانات سے وطن عزیز کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی اور اس کے سوا کچھ نہ ہوا اس لیے عرصہ ہوا کہ صحافت چیخ چیخ کر کہنے پر مجبور ہے خدایا اب سیاست کو بند کرو اور وطن عزیز کی عزت و ناموس دنیا میں پیدا کرو تا قائد کی امنگوں کی حقیقی تصویر ہمارا ملک محض اقبال کا خواب ہی نہ بن کہ رہ جائے بلکہ یہ وطن عزیز اس کی منہ بولتی تعبیر بھی ہو۔
مطمع نظر یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں ہاؤس پلاننگ سے لے کر ملکی اقتدار تک تمام ایسے لوگ برسرِ اقتدار نظر آتے ہیں جن کو نان پروفیشنلز کہنا ہر گز بے جا نہ ہوگااور اب تو یہ اصطلاح مشہور ہوتی جارہی ہے کہ (Jack of all master of non)اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اب دنیا کی آبادی کی طرح ہر گز وطن عزیز کی آبادی بھی ایسی کم نہیں کہ یہ سوچا جائے کہ چونکہ قحط الرجال ہے اس لیے ایک ہی بندہ سے زیادہ سے زیادہ کام لیے جائیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر مظلوم کی آواز بننا ہے تو زندگی کے مختلف شعبہ جات کی طرح اب (power of men)کا استعما ل کرتے ہوئے (Quanity)کی بجائے (Quality)کی طرف توجہ دینی ہی ہوگی اور یہی وہ طریق ہے جس سے مظلوم کی بھی زبان پیدا ہوسکے گی وگرنہ درصورت دیگر ہمیشہ یہی مشہور رہے گا کہ ظلم کی بولتی ہے زبان مظلوم ہے بے زبان!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *