طبقاتی نظامِ تعلیم اور نصاب

qasim yaqoob
طبقاتی نظامِ تعلیم سے کیا مُراد ہے؟عموماً یہ سوال سلیبس کی بنیاد پر تفریق کرتا ملتا ہے اور اس تفریق کے خاتمے کا آسان سا حل یکساں نصاب میں تلاش کیا جاتا ہے۔ پاکستانی نظامِ تعلیم میں بڑے پیمانے پر تین طرح کے نظام پائے جاتے ہیں۔ ایک سرکاری سکولوں میں پڑھایا جانے والا انتظامِ تعلیم و نصاب ہے ۔ جب کہ دوسری قسم اس نظام کے یک سر الٹ انگریزی نصاب پر مشتمل کیمرج کا اندازِ تعلیم ہے جس کا نصاب ہی صرف سرکاری سطح کے سکولوں سے مختلف نہیں بلکہ پورا نظام و انتظامِ تعلیم ہی ان سے مختلف اور معیارِ زندگی کے جدید اصولوں کی روشنی میں ترتیب دیا ہوا ملتا ہے، ایک اور نظامِ تعلیم بھی ان دونوں نظاموں کے ساتھ رائج ہے جس میں مذہبی اندازِ تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ ہے مدرسہ نظامِ تعلیم______یہ تینوں نظامات تین طرح کے مختلف زاویہ ہائے زندگی کی ترجمانی بھی کرتے ملتے ہیں۔ ان تینوں نظامات کے پیچھے اور آگے نظریہ، معیشت اور طرزِ حیات نے اپنی فکری و جمالیاتی ترجیحات متعین کر رکھی ہیں۔سرکاری سکولوں کا تجزیہ بہت دلچسپ ہے۔ یہاں پڑھنے والا بچہ کسی نظریاتی مجبوری کی وجہ سے اس نظام کا انتخاب نہیں کرتا اور نہ ہی وہ اس سسٹم کے اندر رہ کر کسی بڑے تحیر کا باعث بنتا ہے۔ سرکاری سکولوں کا سسٹم مروجہ اقدار سے باغی نظام نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ معاشرے کے مجموعی طرزِ حیات کا عکس ہی ان سکولوں کے تعلیمی معیار میں ملتا ہے۔ وہی مروجہ جمالیات جو معاشرے کا مجموعی مزاج قرار پا چکی ہوتی ہیں سرکاری سکولوں کے طلبا اور اساتذہ کا طرزِ تدریس ہوتا ہے۔اس کے بر عکس کیمبرج اور مدرسہ سسٹم کا بچہ اپنے مروجہ سسٹم سے کسی قدر انحراف کر کے ان نظاموں کا حصہ بنتا ہے۔مدرسہ طالب علم ایک نظریے کے تحت معاشرے کے مروجہ سسٹم یعنی سرکاری سکول سسٹم سے انحراف کرتا ہے۔ اُس کی ترجیحات میں مذہبی فکر کا حصول غلبہ گئے ہوتا ہے۔ مذہبی فکر اپنے ساتھ انتظام و نظامِ تعلیم بھی لاتی ہے۔ جس میں مذہب کی خود ساختہ یا قدیم اقدار کی ہی پیروی کی جاتی ہے۔ایسے بچے ماحول سے ایک فاصلے پر اپنی فکر کی تشکیل کرتے ملتے ہیں۔ ’’خود ساختہ‘‘ میں نے اس لیے کہا کیوں کہ ہر فرقہ اسے اپنے انداز سے ترتیب دیتا ہے۔
اگر آپ کیمبرج کے سسٹم کو دیکھیں تو وہاں بھی آپ کو ایسی ہی صورتِ حال ملے گی۔ کیمرج کا طالب علم ’’اے‘‘ یا ’’او‘‘ کا سلیبس زیادہ تراس لیے نہیں پڑھتا کہ وہ اُس کو پڑھنے کا اہل ہے بلکہ وہ اپنے طرز زندگی اور اقدار کی حفاظت کے لیے اس طرف رُخ کرتا ہے ۔ جس کی تشفی سرکاری مروجہ سسٹم سے نہیں مل سکتی۔وہ اپنی فکر کی تشکیل ایک نظریے کے مطابق کرتاہے۔وہ چوں کہ خود کو نظامِ حیات سے علیحدہ تصور کرتا ہے لہٰذا اُس کو اپنے تشخص کی بقا کے لیے مختلف ہونے کی بھی ضرورت ہے۔ کیمبرج سسٹم نے اس سلسلے میں ایک ایسے طبقے کی تشفی کا سامان پیدا کیا ہے جو ایک عرصے سے پاکستانی سماج میں ایک طبقے کا’’ سنگین مسئلہ‘‘ چلا آ رہا تھا۔ نہایت آسانی سے سلیبس کی بنیاد پر ’’کیمرج کلچر‘‘ کی بنیاد رکھ دی گئی ہے جس میں معاشرے کے اُن تمام طبقات سے علیحدگی بھی مل گئی جو یہ طبقہ اپنے لیے ممنوع قرار دیتا آرہا تھا۔
آئیے کچھ دیر کے لیے ان تینوں طرح کے نظامات کے پیچھے ان کی فکری اور طبقاتی تفریق کا مطالعہ کریں۔ آپ کو یہ جان کے حیرانی ہو گی کہ تینوں سسٹمز اپنے اندر کمال محنت اور لگن کا جذبہ رکھتے ہیں۔ تینوں نظامات کے اندر معاشرتی اقدار اور آداب بھی کسی قدر موجود ہیں۔مگر پھر کون سی ایسی تفریق ہے جس نے تینوں سسٹمز کو ایک دوسرے سے نہ صرف علیحدہ کیا بلکہ کلاسسز (طبقات) میں تقسیم کر دیا۔یہ ضروریاد رکھنا چاہیے کہ سلیبس کا انتخاب کسی ایک سسٹم کے اندر بھی موجود ہے یعنی سرکاری سکول میں پڑھنے والے بچے کے پاس نصاب کے انتخاب کا اختیار ہوتا ہے، ایک بچہ سائنس پڑھتا ہے تو دوسرا بچہ سماجی علوم کا انتخاب کر سکتا ہے۔حالاں کہ دونوں کے سلیبسز میں بہت فرق ہے۔ زبان کی تعلیم اور سائنس کی تعلیم اپنے معیار و نظام کے اعتبار سے کسی بھی ادارے کے اندر بہت واضح اور گہرا فرق رکھتی ہے۔ نصاب کی تقسیم بچے کا بنیادی حق ہے، وہ یہ حق اپنی صلاحیت اور ذہانت کے علاوہ اپنی معاشی حیثیت کے مطابق کرتا ہے۔بچے سے یہ حق چھیننا کہ وہ سائنس ہی پڑھے یا وہ صرف زبان و معاشرتی علوم کا مطالعہ کرے بچے کی نفسیات سے لا علمی ہی ہو سکتا ہے۔اسی طرح اگر ہم اس حق کو دینی علوم(مدرسہ) کی تعلیم اور ’’او‘‘ یا ’’اے‘‘ لیولز کی تعلیم سے محروم کر دیں تو بھی یہ ناانصافی ہے۔بچے کو ہر طرح کاا ختیارہونا چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق اپنے مضامین کا انتخاب کرے مگر ’’او‘‘ کا کیمبرج نصاب اور دوسری طرف مدرسہ نصاب صرف نصاب تک کا انتخاب نہیں ہیں۔ یہ افسوس ناک بات ہے کہ یہ تینوں سسٹمز تین طرح کی طبقاتی تفریق کا نتیجہ ہیں۔ میں نے ’’او اور اے‘‘ میں بہت کمزور طالب علم بھی دیکھے ہیں جو پاس بھی با مشکل ہوتے ہیں۔ ’’ او اور اے‘‘ میں زیادہ تر’’ میڈیاکر‘‘ طالب علم آ رہے ہیں۔مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ ایک کلاس کا نمائندہ نصاب ہے جو اپنے ساتھ ایک وسیع’’ برگر کلچر‘‘ بھی رکھتا ہے۔ وہ کلاس اس نصاب کو اگرنہ پڑھے تو پھر اپنی کلاس سے روگردانی کے مرتکب ہوتی ہے۔ مدرسہ فکر بھی طالب علموں پر زبردستی کا تھوپا ہوا نصاب ہوتا ہے۔ مدرسوں میں پڑھنے والے زیادہ تر بچے عمومی اندازِ تعلیم کو پسند کرتے ہیں مگر وہ مدرسہ تعلیم اپنی غربت یا کسی مذہبی جذبے کی تشفی کے باعث اپنے والدین یا کسی اور بڑے کے حکم سے لینے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں۔
ہمارے نظامِ تعلیم کو طبقاتی تقسیم کا شاخسانہ ہر کوئی قرار دے رہا ہے مگر اس نظام کی درستی صرف نصابات کے ایک کر دینے سے نہیں ہوگی۔ بلکہ نصابات کو ایک کر دینے سے طلبا سے مختلف طرز کے نصابات کے انتخاب کا حق چھن جائے گا۔ اس سلسلے میں مختلف قسم کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
۰ تینوں طرز کے اندازِ تعلیم کو ایک ہی جگہ مہیا کیا جائے۔ اس سے تفریق کا عنصر غائب ہوجانے میں مدد ملے گی ۔
۰ تعلیم کو نصابات میں تقسیم کرتے ہوئے بچوں کے متنوع اذہان کو مدِ نظر رکھا جائے نہ کہ اُن کی مذہب یا دولت کی ترجیح کو اولیت دی جائے۔
۰ ہر طرح کا نصاب ہر طرح کے طالب علم کی پہنچ میں ہو تاکہ کسی قسم کی تفریق پیسے کی بنیاد پر نہ بن پائے۔
۰ وہ نصاب جو کم تر اذہان کے طلبا کے لیے بنائیں جائیں اُن کو دیگر میدانوں میں نمایاں کرنے کے لیے اقدامات کئے جائیں۔ تاکہ اُن کی پوشدہ صلاحتیں صرف نصاب کے انتخاب تک محدود نہ ہوں اور وہ خود کو احساسِ کم تری کا شکار نہ سمجھیں۔
۰ سرکاری سکولوں کے معیارکوکیمبرج نصاب کے اندازِ تعلیم کے معیار تک لایا جائے۔سرکاری اور مدرسہ تعلیمی اداروں کو بھی مراعات دی جائیں تا کہ اُن میں پڑھنے والا بچہ ایک ہی طرز کا ماحول حاصل کر سکے۔
۰ مدرسہ تعلیم کو یکسانی علوم سے نکال کے معاشرے میں موجود دیگر علوم بھی شامل کئے جائیں۔
میرے خیال میں ان تین نظاموں میں متنوع نصابات کو ایک کر دینے سے ایک نظامِ تعلیم کا خواب پورا نہیں ہو گا بلکہ اور گنجلک کا شکار ہو جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر طرح کے تعلیمی ادارے میں ہر طرح کا بچہ بھیجا جائے۔ اِس کے لیے نصابات کو ہر عام طالب علم تک پہنچانے کے علاوہ کیا کیا اقدامات ہو سکتے ہیں، اُن کو سوچنے کی زیادہ ضرورت ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *