حکومت کیا کرے

Haq Nawaz Jillani
پاناما لیکس آنے کے بعد حکومت کے مشکلات اور پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔قومی اسمبلی اجلاس میں پانامالیکس پر بحث نے کئی سوال مزید پیدا کیے ہیں۔ پاناما لیکس میں جہاں وزیر اعظم میاں نواز شریف کا خاندان اور دوسرے کئی پاکستانیوں کے نام آرہے ہیں وہاں پر پیپلز پارٹی کے رہنما رحمن ملک کے علاوہ دوسرے اہم نام بھی آرہے ہیں۔اس لئے پیپلز پارٹی اس اہم ایشو پرصرف سیاست کررہی ہے کہ اس میں پیپلزپارٹی کا نام بھی ہے تو دوسرا پیپلزپارٹی ملک میں شفاف تحقیقات اور احتساب کو سپورٹ کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ دوسری طرف اسمبلی میں اور اسمبلی سے باہر تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان ہے جنہوں نے اس ایشو کو اٹھایا ہے اسمبلی میں خطاب سے حکومت کو مزید مشکل میں ڈالا دیا ہے حکومت کا خیال تھا کہ ہم عمران خان پر شوکت خانم اور دوسرے الزامات لگا کر ان کو بلیک میل کر دینگے جس سے وہ خاموش ہوجائیں گے لیکن اس دفعہ بھی حکومت نے عمران خان کو غلط سوچا۔ عمران خان کی تقریر اگر چہ رولز کے مطابق پی ٹی وی پر نہیں دکھایا لیکن پرائیویٹ چینلز نے ان کو سکائب کے ذریعے بہت حد تک دکھایا ۔ ویسے حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اسمبلی کارروائی پی ٹی دی پر دکھائے چونکہ دوسرے چینلز کو اجازت نہیں ہوتی اس لئے پی ٹی وی ہی واحد ذریعہ ہوتاہے جس پر تمام میڈیا کو انحصار کرنا پڑتا ہے۔بحرکیف عمران خان نے اسمبلی میں خطاب کیا جس میں انہوں نے حکومت اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال ایک خیراتی ادارہ ہے جس کے خلاف پر وپیگنڈا کرکے حکومت اپنی پوزیشن کمزور کررہی ہے۔شوکت خانم میں میری حیثیت کچھ بھی نہیں ہے وہ ایک آزاد ادارے کے طور پر کام کررہی ہے ،حکومت وزارء نے جن رقم کی بات کی ہے وہ جون2015 میں لائی گئی تھی ، حکومت شوکت خانم ہسپتال ایک فون کرکے تمام معلومات حاصل کرسکتی تھی۔ عمران خان نے کہا کہ ہسپتال میں 70فی صدغریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے جو بین لااقوامی معیار کے مطابق ہوتا ہے جوپاکستان کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں بھی ممکن نہیں جب کہ ہم ادویات اور دوسرے آلات یورپ اور امریکا سے لاتے ہیں اسلئے وہاں سے ملنے والاچندہ پاکستان نہیں لاتے بلکہ ان سے دوائیاں اور آلات خریدے ہیں اور یہ تمام کام میں نہیں بلکہ ہسپتال کا بورڈ کرتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پھر بھی اگر میں یا شوکت خانم اس میں کرپشن کرتے ہیں تو حکومت کا کام ہے کہ وہ ہمارے خلاف کارروائی کرے۔ حکومت کیوں ڈر رہی ہے۔عمران خان نے اپنی گھربنی گلہ سمیت اپنے آپ کو پیش کیا کہ حکومت چیف جسٹس کے سرابرہی میں کمیشن بنائے اور تحقیقات کا آغاز مجھ سے کرے۔عمران خان نے کہا کہ ملک میں لوگ غربت کی وجہ سے خود کشیاں کررہے ہیں ،عوام کوصحت اور تعلیم کی سہولت نہیں جبکہ ملک اور حکمرانوں کا اربوں روپے بیرونی ممالک پڑاہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جب ہم خود انواسٹمنٹ نہیں کریں گے تو باہر سے لوگ نہیں آئیں گے، ہمیں خود ہی اپنے ملک میں سسٹم کو بہتر کرنا ہوگا۔ تحریک انصاف چےئرمین نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ میں اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کررہاہوں ،آپ بھی اپنے آپ کو پیش کر ے تاکہ سچائی معلوم ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ٹائم پاس کرے گی تو ہمیں مجبوراً حکومت کے خلاف تحریک چلانا پڑے گی۔
عمران خان کے تقریر کو میڈیا سمیت ہر زی شعوری نے اچھا اور ایک محب وطن کی آوازکہا لیکن عمران خان کے اس تقریر نے حکومت کے لئے مزید مشکلا ت پیدا کردی ، حکومتی اہلکاروں کی سوچ تھی کہ ہم عمران خان کو بلیک میل کردینگے لیکن عمران خان نے خود احتساب اور تحقیقات کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا جس پر حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اسمبلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں کو ن صاف ہے سب یہاں دغدار ہے یعنی اس کا مطلب ہے کہ میاں نواز شریف ہو یا دوسرے ارکین اسمبلی سب ہی کرپٹ اور لوٹ کا پیسہ رکھتے ہیں لہٰذازیادہ شور مچانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری ملک کی بدقسمتی یہی ہے کہ ہمارے سیاست دانوں پر جب بات آتی ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ یہاں پر کون صاف ہے کسی کی حکومت کرپشن سے پاک رہی ہے؟ اس لئے معاملات جوں کے توں رہتے ہیں ، احتساب کسی کا نہیں ہوتا۔ ہم جیسے لوگ یہ توقع رکھتے تھے کہ میاں نواز شریف کی حکومت آئے گی تو میاں صاحب پرویز مشرف کا بھی احتساب کرے گی جو پیسہ انہوں نے بنایا جو بیرونی ممالک کے بنکوں میں پڑاہے اورزرداری نے جو کرپشن کی ہے یا ان کے وزرا نے سب کا احتساب ہوجائے گا، ملک سے لوٹا ہوا پیسہ واپس آجائے گا ۔ اب معلوم ہوا کہ یہ ہماری خام خیالی تھی ۔ لوٹا ہوا پیسہ پرویز مشرف کا ہو یا آصف علی زرداری اور میاں نواز شرف کا کو ئی بھی ایک دوسرے کا احتساب نہیں کرے گے۔ سب کا مفا د ایک ہے۔ ایک دوسرے کا خیال رکھ رہے ہیں۔ ملک میں لوگ بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے خود کشیاں کر ے ۔ خواتین اپنی عزتیں نیلام کرے یا مجبوری کے تحت عام آدمی چوری اور ڈاکے شروع کر ے ۔ کسی بھی حکمران کو اس کا کوئی پروا نہیں ۔
عمران خان کے خلاف حکومتی پروپیگنڈا تو ناکام ہوگیا لیکن اب سوال یہ ہے کہ حکومت اب کیا کریں گی ؟جب عمران خان نے خود اپنے آپ کو پہلے احتساب کیلئے پیش کیا ۔ویسے عمران خان نے اسمبلی میں یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر میری حکومت آئی گی تو میں تم سب کا احتساب کروں گا اور سب کو جیل جانا پڑے گا۔ یہ تو وقت بتائے گا کہ عمران خان ملک کو لوٹنے والوں کے ساتھ کیا کریں گے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اگر حکومت حاضرسروس چیف جسٹس کی سرابرہی میں بھی کمیشن بنا دے تو اس کا کوئی فائد ہ ہوگا۔ ہمیشہ کی طرح یہ کمیشن بھی بے نتیجہ رہے گا اور اسی طرح معاملہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ کسی بھی ملک میں جب تک قانون سب کے لئے برابر نہیں ہوتا ، ادارے مضبوط اوراحتساب کاعمل شفاف نہیں ہوتا وہاں پر اسی طرح کا نظام ہوتا ہے جس طرح آج پاکستان میں ہے۔ ہمارمعاشرہ آج تباہی کی طرف گامزن ہے، عوام کا جمہوری نظام سے اعتماد اٹھ رہا ہے جبکہ ہمارے حکمرانوں کو پیسہ بنانے سے فرصت نہیں ۔حکومت عمران خان کی آفر کا کیا جواب دے گی اس کا انتظار پوری قوم کوہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *