پاناما لیکس، جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

نعیم اقبال

naeem iqbal
روزمرہ زندگی معمولات کے مطابق رواں دواں تھی ۔ کسی کے فرشتوں کو بھی معلوم نہ تھا کہ پاناما لیکس کی صورت میں ملکی سیاست میں نہ تھمنے والا طوفان برپا ہو جائے گا۔ جس دن سے پاناما لیکس میں پاکستانی سیاست دانوں خصوصاً وزیراعظم، میاں محمد نوازشریف کے خاندان کے افراد کے نام آئے، سب سیاست دانوں کی موجیں لگ گئی ہیں۔ موجیں بھی ایسی کہ ’’شام سویرے ہون موجاں ای موجاں،،۔سب سے پہلے ہم سب کے ہر دلعزیز سابق کرکٹر اور پی ٹی آئی کے موجودہ چیئرمین عمران خان کی باچھیں کھلیں کیونکہ جب سے خان صاحب کی زندگی میں’’تبدیلی،، آئی ہے اس دن سے ہی ان کی سیاست والا چمکتاستارہ ڈانوں ڈول ہوتا جا رہا تھا۔ کافی تگ و دو کے باوجود، خان صاحب کی عوامی مقبولت میں کمی ہی واقع ہو رہی تھی۔ حالیہ ضمنی انتخابات سے لے کر پارٹی الیکشن تک، سب کچھ ڈاؤن اینڈ آؤٹ ہی جا رہا تھا۔ ان کی اپنی پارٹی میں اختلافات کی خبریں بھی تسلسل کے ساتھ سننے میں آرہی ہیں۔جس سے ظاہر ہے خوش تو وہ ہو نہیں سکتے ،پریشان ہی ہوں گے ۔شاید قدرت نے خان صاحب کو ایک اور موقع فراہم کر دیا جس سے وہ اپنی عوامی مقبولیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ خان صاحب ایک کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں اور کون ہے جو ان کے سحر میں مبتلا ہوئے بغیر رہ سکے؟ گزشتہ دنوں انڈین فلم انڈسٹری کے سٹار بلکہ سپر سٹار، شاہ رخ خان نے ایک ایسا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ خان صاحب واقعی کرشماتی شخصیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے اتنے بڑے فین ہیں کہ ان کا آٹو گراف حاصل کرنے کے لئے لائن میں بھی لگ چکے ہیں لیکن افسوس کہ خرابیِ موڈ کی وجہ سے وہ، خان صاحب کا آٹو گراف حاصل نہ کر پائے۔
عمران خان نے قوم سے اپنے حالیہ خطاب میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم نے استعفیٰ نہ دیا تو وہ رائیونڈ کا گھیراؤ کریں گے۔ خان صاحب کے اس بیان کے بعد ملکی سیاست میں طوفان برپا ہو گیا۔ ہر گلی محلے، چوراہوں میں یہی بازگشت ہو رہی ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں گے یا نہیں۔ کچھ مفکر تو اس بات پر بضد ہیں کہ وزیراعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہئے کیونکہ ان کے پاس اب کوئی اخلاقی جواز نہیں رہا۔کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ آپ ان سے استعفیٰ کا مطالبہ تو کر سکتے ہیں لیکن زبردستی بہر حال ٹھیک بات نہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق، نوازشریف احتجاج کی نوعیت دیکھ کر فیصلہ کریں گے کہ آگے کیا کرنا چاہئے۔کچھ تو کہتے ہیں کہ استعفیٰ کسی صورت نہیں آئے گا اور اسی تنخواہ پر مزید دو سال گزارہ کریں گے۔ جہاں تک پاناما لیکس کی وجہ سے استعفوں کا تعلق ہے تو آئس لینڈ کے وزیراعظم عوامی دباؤ کی تاب نہ لاتے ہوئے مستعفی ہو چکے ہیں۔ اسی طرح یوکرائن کے وزیراعظم نے کرسی چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی۔ جہاں تک اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہونے کا معاملہ ہے تو میاں صاحب ایسا کبھی نہیں کریں گے،جیسا کہ ان کا ماضی گواہ ہے ۔
اب آجاتے ہیں عوامی دباؤ کی طرف۔ اسی عوامی دباؤ کے پیش نظر نوازشریف نے عوام میں نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ دنوں فضائیہ کی تقریب میں انہوں نے نہ جانا ’’مناسب،، سمجھا اور وزیردفاع ، جناب خواجہ آصف کو وہاں مہمان خصوصی کو طور پر بھیج دیا کیونکہ وہاں عوامی دباؤ کچھ زیادہ ہی ہونا تھا۔ ایک دوسری بڑی تقریب او آئی سی کا اجلاس ہے جس میں بھی انہوں نے اپنی جگہ نمائندگی کے لئے صدر مملکت، جناب ممنون حسین کو بھیج دیا۔ یہ سب واضح اشارے ہیں جن سے یہ بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ کچھ تو دال میں کالا ضرور ہے۔ خالی الزامات کی بات ہوتی تو وزیراعظم اتنے بڑے فورم میں شرکت کے لئے عذر پیش نہ کرتے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ساری کی ساری دال ہی کالی ہو چکی ہے ا ور اب دوبارہ سے تازہ’’ کچھڑی،، پکانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کیونکہ اب تو میاں صاحب بیرون ملک علاج معالجہ کے لئے تشریف لے گئے ہیں۔دوسری طرف شریف فیملی میں اختلافات کی خبریں بھی کھل کر سامنے آرہی ہیں۔شریف خاندان خواہ جتنی بھی تردیدیں پیش کرے لیکن یہ خاندانی دوری ہی ہے کہ چچا اور بھتیجی کا رابطہ اب سوشل میڈیا کے ذریعے سے ہی ہو پارہا ہے، باقی سارے ذرائع دستیاب ہوتے ہوئے بھی کارآمد نہیں رہے۔وزیراعظم نوازشریف اوران کے بیٹے حسین نواز ملک سے باہر،وزیراعلی شہبازشریف کا پاناما لیکس کے حوالے سے بیان سے گریز کرنا اور حمزہ شہبازشریف کی ناسازی طبع ، یہ سب کچھ کیا ہے؟ سمجھنے والوں کے لئے یہ اشارے کسی طوفان سے کم نہیں۔
جیسا کہ میں اوپر عرض کر چکا ہوں کہ خان صاحب کو قدرت نے ایک ا ور موقع فراہم کیا ہے۔اب کی بار صحیح وقت پر درست فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔۔ جذباتیت سے مبرا، ہوش سے آگے بڑھنا خان صاحب کیلئے بہتر ہو گا۔ امید تو سب یہی کر رہے ہیں کہ خان صاحب نے’’ پچھلے دھرنے ،، سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب وہ ’’استعمال،، نہیں ہوں گے بلکہ استعمال کرنے والوں کے چنگل سے نکل کر اس ملک کو کرپشن، منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری ا ور اقر با پروری سے نجات دلا کر حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ ہم تو صرف اچھے کی امید دلا سکتے ہیں۔خیر سے پاناما لیکس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے اب ڈاکٹر طاہر القادری کی بھی بذریعہ ٹیلی فونک خطاب دھواں دھار انٹری ہو چکی ہے ا ور جیسا کہ با خبر حلقے جانتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کسی معاملے میں بلاوجہ نہیں کودتے۔ سابق وزیرداخلہ، رحمان ملک جو پاناما لیکس کو اپنے خلاف ’’را،، کی سازش قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں، اب انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئے کیونکہ اب شکنجہ کسا جا رہا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں بسا اوقات یہ بھی رواج ہے کہ کسا ہوا شکنجہ ڈھیلا بھی کر دیا جاتا ہے اوردوسرا معاملہ بھی ہو جاتا ہے کہ
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
باقی آنے والا وقت بتائے گا کہ پاناما لیکس کا شاخسانہ آگے کیا گل کھلائے گا۔ شکنجہ کسا جائے گا کہ ایک قطرہ خون بھی نہ نکلے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *