اب تیل کی قیمتیں نیچے نہیں اوپر جائیں گی، عالمی تاجروں کی پیشین گوئی

oil

دنیا کے بہترین تاجروں کے مطابق تیل کا بحران اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ عالمی تیل مارکیٹ کے ماہر تاجروں کا کہنا ہے کہ تیل کی مارکیٹ کے مشکل حالات کادور ختم ہونے کوہے اور اگلے ایک سال میں تیل کی قیمت پچاس ڈالر فی بیرل پر پہنچ جائے گی۔ تیل مارکیٹ کا برا وقت پیچھے رہ گیا ہے۔ Torbjorn Tornqvist جو کہ Gunvor Group ltdکے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں نےبتایا۔ اب یقینا ہم اس مشکل وقت سے نکل رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں آئل کی قیمتیں پچھلے بارہ سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ دنیا کے سب سے بڑے تیل مارکیٹ کے سربراہ سوئزر لینڈ میںOPEC کے ممبرز کے طور پر اکھٹے ہوئے اور ۱۷ اپریل کو اگلی میٹنگ دوحہ میں ہونا قرار پائی۔ تیل کے تاجروں نے گزشتہ سال کے اتار چڑھاو سے فائدہ اٹھایا اور یہ فائدہ ان کو مزید ملتے رہنے کی توقع ہے۔ ہم اس اتار چڑھاو کے دور سے آگے نکلنے والے ہیں۔ اب قیمتوں کا رجحان اوپر کی طرف ہے۔سال کے تیسرے  حصے کے آخر تک خام تیل کی قیمتوں کا یہ اتار چڑھاو اپنا توازن حاصل کر لے گا۔ اگر آنے والے دنوں میں کوئی سیاسی یا کسی اور قسم کا کوئی حادثہ پیش نہیں آتا توہم اس مشکل دور کا اختتام دیکھ رہے ہیں ۔ پرائس ریکوری Mercuria Engergy Group Ltd کے سی ای او کے مطابق جب حال ہی میں خام تیل کی قیمتیں ۲۸ ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے گر گئی تو یہ بہت فائدہ مند ثابت ہوا کیونکہ باقی قسم کے آئل کی قیمیتں اور تیزی سے کم ہو گئی۔ اور کئی پراجیکٹ روک لئے گے۔ ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ پرائس ریکوری جلد شروع ہو گی اور ایک سال میں ہم ۵۰ ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔
تیل کی قیمتیں بڑھنے کا دور شروع ہونے کو ہے اور اس سال کے اختتام پر ۶۰ ڈالر اور ۲۰۱۷ تک ۸۰ ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت پہلے سے ہی ایک فیصد بڑھ کر ۴۳۔۲۷ ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔بڑے اسٹاک Alex Beard, گلینکور پی ایل سی کے ہیڈ زیادہ پر امید نظر نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی قیمت کو واپس استحکام دلانے میں وقت لگے گا۔ آئین ٹیلر جو کے وائٹل گروپ آف کمپنیز کے سی ای او ہیں نے بتایا کہ ایران سے تیل نکالنے کا عمل دوبارہ شروع کرنا مشکل ہے۔ یو ایس کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے بینک ایران سے تیل کی خریداری کے لیے قرض دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *