ٹی وی چینلز پر نظر

ساجدہ فرحین فرحی

media
شعائر اسلام پر عمل پیرا ہونا جرم ٹہرا اُسکا وہ بھی ایک مظلوم تھا جو بے گناہ مارا گیامگر ۔ تفتیشی اداروں نے تفتیش کے بغیر اُسے دہشت گرد گرداننا ٹی وی چینلز نے بغیر تحقیق کے اسلام مدارس اور مذہبی انتہا پسندی کوجیسے موضوع بنایا اور تنقید کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ ۔ تفتیشی اداروں اور ٹی وی چینلز نے یوسف پر زلیخا جیسا وار کیا۔اور جب مجرم کوئی اور نکلا تو ان ٹی وی چینلز کو اپنے کےئے پر معصوم یوسف کے لواحقین سے معافی مانگنے کی توفیق ہوئی نہ شرمندگی محسوس ہوئی۔ٹی وی چینلز نے یہ طرز عمل نہ پہلی دفعہ اپنایا ہے اور نہ ہی آخری دفعہ اس سے پہلے سوات میں کوڑے مارجانے والی ویڈیو کوجسے تیرہ جنوری 2016کو سپریم کورٹ نے جعلی قرار دیا تو ٹی وی چینلز نے اس جعلی ویڈیو کی خبر کونہ مناسب جگہ دی نہ وقت نہ کسی ٹاک شوز میں موضوع بحث بنا نہ نیوز بلٹین کی زینت بس بریکنگ کی ٹکر چلا کر نمٹا دیا گیا۔ حالانکہ یہ صحافت کا اُصول ہے اگر کوئی خبر غلط ثابت ہوجائے تو اُسے اُتنی ہی جگہ اور اُتنا ہی وقت ملنا چاہے جتنا اُسے پہلے دیا گیا ہو۔کیا عزت صرف اپنی عزیز ہوتی ہے۔ملک و قوم کی عزت کی کوئی وقعت نہیں۔جس کا دل چاہے نیلام کردے کوئی پوچھنے والا نہیں۔اپنا قلم اُٹھاوُ اور اور میرے وطن کی حرمت کو داغدار کردو۔کیمرے سے خود ساختہ من گھڑت کہانیوں کی ویڈیوز بناکر خبروں کے بھوکے ڈالرز کے پجاری میڈیا کو ڈالو پھر دیکھو تماشا اگر رکھتے ہو دیدۂ بینائی تیزاب سے جھلسے چہروں کوفلما کر آسکر اور ایمی ایوارڈکے حقدار بن جاؤ فرسودہ علاقائی جاہلت کو ملکی و قومی روایات کا نام دے کر پھر پذیرائی کی کوشیش کرلو۔ اورغیرت کے نام پر بننے والی فلم کی تقریب رونمائی کاسرکاری سرپرستی میں و زیراعظم ہاوس میں انعقادہو۔کیا ضروری ہے کہ اپنے ملک کہ صرف متنازعہ اور قابل افسوس و شرم فرسودہ چند افراد کے عمل کو ملکی ترجمانی کے طور پر پیش کیا جائے۔بجائے اسکے کہ حکومت شرمین کو کچھ شرم دلائے اُلٹا اُسکی سرپرستی کی گئی۔وہ پیمرا جو حکومتی احکامات کو منوانے کیلئے فوری عملدارمد کروالیتی ہے ملکی عزت پر حرف آئے تو خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔پیمرا نے ملالہ کیلئے نامناسب الفاظ استعمال کرنے پر ایک ٹی وی چینل کو نوٹس جاری کیا ۔مذکورہ پروگرام میں اینکر نے ملالہ کی کتاب سے چند اقتباسات ٹی وی اسکرین پر نشر کےئے تھے جسمیں اسلام اور پاکستان پر تنقید کی گئی تھی۔ سکے علاوہ سماء کو پیمرا نے دس لاکھ کا جرمانہ کیا جرائم پر مبنی ڈرامہ میں غیر اخلاقی پیغام نشر کرنے پر۔ پیمرا نے حکم جاری کیا ہے کہ جرائم کی تشہیرکے پروگرام نہ دکھائیں تمام ٹی وی چینلز کو سپریم کورٹ کے نافذ کردہ ضابطہ اخلاق پاسداری کی ہدایت کی ہے۔MCR/PCR میں براہ راست نشریات میں مناسب تاخیری نظام کو یقینی بنائیں۔تاکہ کسی بھی براہ راست نشریات میں نفرت انگیز ،نامناسب اور تضحیک آمیز کلمات کو نشر ہونے سے روکا جاسکے۔ یاد رہے DG ISPR عاصم باجوہ کیPress briefing میں نامناسب الفاظ کے بعد پیمرا کو یہ ہدایت جاری کرنی پڑیں۔یہ نامناسب لفظ انگریزی کے لفظ B سے شروع ہوا تھا۔پیمرا نے نیوز اور انٹرٹنمٹ چینل کیساتھ کیساتھ پیمرا نے اسپورٹس چینلز پر بھی نامناسب مواد کے نشر ہونے کا نوٹس لیا خصوصا پاکستان سپر لیگ کی تقریب اور میچوں کے دوران دیکھائے جانے والے نازیبا مناظر۔پیمرا نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو ایک تازہ نوٹس میں معذور افراد کا مذاق اُڑانے کا الزام لگایا ہے ۔جبکہ اپنے پندرہ فروری کے پروگرام میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے طبقہ اشرافیہ کو شاہ دولہ کے معذور افراد سے تشبیہ دی تھی کہ طبقہ اشرافیہ کا دماغ چھوٹا رہتا ہے اور جسم بڑھتا رہتا ہے۔بقول ڈاکٹر شاہد مسعود کے پیمرا نے اپنے نوٹس میں لکھا ہے کی یہ صحافت کی تاریخ کی گھٹیا ترین حرکت ہے۔ اسی پروگرام میں ڈاکٹر شاہد نے صدر محترم کی قیمت دس روپے بتائی تھی،مگر پیمرا نے اس جملے کونوٹس لینے کے قابل نہیں سمجھا۔نوٹس ملنے کے بعد ڈاکٹر شاہد مسعود نے پیمرا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پیمرا کو شاہ دولہ والے کہہ دیا اور کہا کہ پیمرا کو کچھ ویلنٹائن ڈے پر نشر ہونے والے پروگرامز کا بھی نوٹس لینا چاہیے کیونکہ صدر پاکستان نے ویلنٹائن ڈے منانے سے منع کیا تھا۔صرف ایک ڈاکٹر شاہد مسعود ہیں جو پندرہ سال سے اپنے پروگرام کے اختتام پرکہتے ہیں کہ اپنا دوستوں رشتہ داروں گرد و نواح کے لوگوں سب کا خیال رکھیے گا۔کئی چینلز تبدیل کرلیے مگر اپنا جملہ نہیں۔رات کے ٹاک شوز ہوں یا مارننگ شوز سب میں خود غرضی اور خود پرستی کی ترغیب دی جاتی ہے۔سجنا سنوارنا اور اپنا بہت خیال رکھناہے چینلز کی صبح کا آغاز ہوتے ہی بناوٹی میک اپ زدہ مارننگ شوز اینکرز لاکھوں کے لباس اور زیورات لادے عوام کے اعصاب پر مسلط ہوجاتی ہیں ہلہ گلہ موسیقی رقص و سرور یہی ایک رائج رواج بن گیا ہے۔ جو لوگ موسیقی کو روح کی غذا قرار دیتے ہیں وہ اپنے کسی عزیز کی موت پر روح کے سکون کے لئے قرآن خونی کے بجائے محفل موسیقی کا انعقاد کیوں نہیں کرتے۔پیمرا کا ٹی وی چینلز کو نوٹسز جاری کرنا احسن اقدام ہے۔ورنہ یہ کام لوگ خود سرانجام دینے لگتے۔ ۶ ستمبر کو ہم ٹی وی کی ویب سائٹ ہیک کرلی گئی اور ہیکرز نے وجہ یہ لکھی کہ بیہودہ ڈرامے اور پروگرام نشر کرنے کرنے پر یہ اقدام کیا گیا۔ہے ہیکرز نے پیغام دیا کہ پیمرا تو کچھ کرنہیں سکی تو ہم نے ہم ٹی وی کیساتھ یہ کام کردیا مگر ہم ٹی وی والوں نے اپنی ویب سائٹ کو ہیکرز سے آزاد کرالیا۔اس وقت وطن عزیز میں درجنوں نجی چینلز اور لا تعداد پروڈکشن ہاوس کام کررہے ہیں مگر انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ گذشتہ دو سالوں سے یوم آزادی اور یوم دفاع پر کوئی نیا ڈرامہ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں اور جو خصوصی ڈرامے پیش بھی کےئے گئے وہ تمام آئی ایس پی آر کے تیار کردہ تھے۔البتہ ویلنٹائن ڈے پر تمام نجی چینلز بے شمار ڈرامے نشر کےئے جاتے ہیں۔اور اس ویلنٹائن ڈے پر بھی چینلز نے کئی ڈرامے نشر کےئے۔ایک رائٹرکے تین ڈرامے تین مختلف چینلز پردکھائے گئے۔ ۔البتہ اس ویلنٹائن ڈے پرنیوز چینلز نے ویلنٹائن ڈے پر تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھایا اور یکطرفہ کوریج نہیں کی اور تمام نکتہ نظر کو ٹی وی اسکرین پر جگہ دی مگر کچھ نیوز چینلز اپنی گذشتہ ڈگر پر ہی قائم رہے۔صدر پاکستان کے ویلنٹائن ڈے سے متعلق بیان نے نیوز چینلز ا کو بھی ایک موضوع دے دیا ٹاک شوز نے اس پر گرما گرم بحث ہوئی تو کہیں ماحول ٹھنڈا رہا ۔سما نے تو لاہور میں کچھ اُوباش نوجوانوں کی خبر یوں نشر کی لاہور میں محبت کے بھکاری سڑکوں پر نکل آئے۔مان نہ مان تو میری ویلنٹائن۔یہ لفنگے راہ چلتی لڑکیوں کو زبردستی پھول دینے کی کوششیں کررہے تھے۔زبردستی پھول دینے کی کوشش توماروی سرمد نے بھی کی اب تک چینل میں فریحہ ادریس کے پروگرام میں وہ بھی دارلعوم بنوریہ کے پرنسپل مفتی نعیم کو جسکے جواب میں مفتی نعیم نے کو ماروی سرمد کے پھول اور غباروں پر لعنت بھیجی اور لعنت کی وجہہ سے اب تک چینل نے اس پروگرام کو دو دن نشر کیا۔کیونکہ جن ٹاک شوز میں لڑائی جھگڑا ہوجائے اُسکی TRP زیادہ ہوجاتی ہے۔ابلاغیات کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے تین بنیادی مقاصد ہوتے ہیں پہلااطلاعات و معلومات کی فراہمی دوسرا تعلیم و تربیت اور تیسرا تفریح۔مگر عملی زندگی میں قدم رکھا تو یہ اچھی طرح سمجھ لیا کہ زندگی سے ملا وہ سبق جو کتابوں میں پڑھا نہ تھا۔TRP کی خاطر چینلز کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں چاہے وہ نیوز ہوں یا تفریحی۔ اس ویلنٹائن ڈے پرARYپر فلم Wrong Number نشر کی گئی یہ فلم 2003 میں بھارتی فلم WrongNumber کے نام سے متاثر تھی۔یہ فلمARYنے 2015 میں ریلز کی تھی۔ اسکا ایک گانا کنڈی لگ گئی دروازے کی عکس بندی کے دوران نازیبا مناظر دیکھائے گئے۔پاکستان میں گزرے وقتوں میں فلم اور ڈرامے کی کہانی جب منظور ہوتی تھی تو برے کردار کا برا انجام دیکھایا جاتا تھا ورنہ سنسر بورڈ ایسی فلم اور ڈرامے مسترد کردیتا تھا۔مگر اب تو نہ کوئی کہانی پڑھنے کی زحمت کرتا ہے نہ لباس مناظر اور مکالمے کو پرکھا جاتاہے۔جوانی پھر نہیں آنی کرلے مستی اور من مانی۔ناچ ناچ ناچ کے دیکھا۔قمیض سے پہلے آستین غائب ہوئی اور اب تو گلا بھی نہیں رہا خاص طور اس فلم کے مناظر اور لباس دیکھ کر واقعی لگتا ہے کہ اب غیر ملکی فلم دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔پاکستان کی فلم انڈسٹری پڑوسی ملک کی فلم انڈسٹری کا مقابلہ بخوبی کررہی ہے۔ ایک پاکستانی اداکارہ کی بھارتی فلم فلاپ ہو گئی مگر موصوفہ نے باتھ ٹب میں اکیس گھنٹے گذارکہ مشہوری حاصل کرلی۔ اسکے علاوہARYکا نیا ڈرامہ مولا میرا یار ملادے۔love ajkal فلم کے گانے آج دن چڑھیا(میں نے کونسی تجھ سے جنت مانگ لی۔کیسا خدا ہے تو بس نام کا ہے تو ربا جو تیری اتنی سی بھی نہ چلی۔چاہے جو مجھے کردے تو مجھکو عطا۔جیتی رہے سلطنت تیری۔جیتی رہے عاشقی میری۔دے مجھے زندگی میری تنوں دل دا واسطہ)سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔اس گانے میں نعوذ با للہ خدا کی خدائی کے متعلق نازیبا اشعار اسعمال کےئے گئے تھے اور دکھ کی پات یہ کہ ان اشعار کا لکھنے والا ارشدکامل بھی مسلمان اور گانے والا بھی مسلمان راحت فتح علی تھا اور یہ گانا بھی راحت فتح علی نے گایا ہے۔اس کے شاعر صابر ظفر ہیں جو پپویار اور جذبہ جنوں جیسے مشہور گانوں کے لکھنے والے ہیں۔اس گانے کے متنازعہ اشعار کچھ یوں ہیں۔ توڑنا تھا گر تو نے دل یہ بنایا کیوں۔دل نہ ملانے تھے تو عشق سیکھایا کیوں۔تو بدلے میں لے لے چاہے جان میری ملا دے میرا یار۔مولا مولا میرا یار ملا دے۔مولا مولا ایک بار ملا دے۔دل دے وے تنوں واسطہ پیار دا۔میں نے تو سنا تھا ربا ساتھ نہ چھوڑے تو ہاتھ نہ چھوڑے تو۔مولا میرا یار ملادے۔پیمرا کو تفریحی چینلز پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ARY زندگی کے ترکش ڈرامے عاشقی میں فرانسیسی اظہار محبت کے مناظر دیکھائے گئے جو فرانس میں تو معروف ہونگے مگر پاکستانی ٹی وی چینلز پر یہ پہلی دفعہ تھا۔ویسے تو ترکی کے ڈراموں میں ایسے سین ہوتے ہیں مگر جب یہ ڈرامے پاکستانی چینلز پر نشر ہوتے ہیں تو ایسے سین کاٹ دےئے جاتے ہیں۔آجکل اُردو ون چینل پر عشق ممنوع تیسری بار نشر کیا جارہا ہے یہ ڈرامہ بھی کافی متنازعہ رہا ہے ایک تو لباس کی قلت دوسرے بہلول اور بھیتر کی لو اسٹوری جنکا گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا تعلق چچی اور بھتیجے کا رشتہ قائم ہونے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ترکی کے مشہور ڈراموں میں ولن کا نام مصطفی ہوتا ہے جیسے فاطمہ گل ڈرامے میں ولن مصطفی تھا ۔مناہل اور خلیل ڈرامے میں بھی ولن کا نام مصطفی تھا۔ترکی کے کچھ اچھے ڈرامے بھی پاکستانی چینلز نے دیکھائے جیسے HUM ستارے کا ڈرامہ Dirilis: Ertugrul تھا۔اسمیں خلافت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے ارتغال غازی کی صیلبیوں کے خلاف جدوجہد اور فتح کو دیکھایا گیا۔اسکے علاوہ اگست میں شروع ہونے والاSEE TV و ہ چینل ہے ۔جسکی وسا طت سے پاکستانی عوام نے ترکی کا اسلامی تشخص جانا جس نے ترکی کا ایک نیا رخ پاکستانی عوام کے سامنے پیش کیا ترکی کے معاشرے کی اصل اقدار و روایت سے ، ترکی کی حقیقی تہذیب و ثقافت سے پاکستانی عوام روشناس کرارہا ہے جسکے کچھ ڈرامے قابل ذکرہیں جیسے چھوٹی سی قیامت جس میں برے کام کرنے والوں کا برا انجام دیکھایا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد قبر میں کیسے عذاب بھگتناپڑتا ہے۔اسکے علاوہ ایک ڈرامہ الف سرگزشت ہے جو شعائر اسلام پر عمل پیرا ایک باہمت لڑکی الف کی جدوجہد پر مبنی ڈرامہ ہے جس میں ترکی کے معاشرے میں دو تہذبوں کے تصادم کی جنگ۔ سیکولرازم اور اسلام پسندوں کے درمیان نظریاتی اور معاشرتی تقسیم کو دکھایا گیا ہے ظلم اور نا انصافی کے خلاف ایک نہتی لڑکی کی پُر امن کوشش۔ترکی کی سیکولر افواج کے رائج کردہ اسلام مخالف قوانین سے ٹکراننے والی الف اپنے سر ڈھانپے کے جرم میں ہر سزا کا سامنا کرنے کو تیار صرف اپنے رب کے آگے جھکنے والی الف اتاترک کے سیکولر آئین اور ترک افواج کے نافذ کردہ سیکولر قوانین کے آگے جھکنے سے انکار پر مصائب کا مقابلہ کرتی ہے استقامت اور صبر کیساتھ اسکارف پہننے کے جرم میں ہر سزا بھگتنے کو تیار۔ اسکارف کے مرکزی خیال پر مبنی ہم ٹی وی کا ڈرامہ شناخت ایک مثبت کوشیش تھی ۔شناخت میں حجاب کرنے والی لڑکی کا کردار ادا کرنے والی مایا علی ہم کے ڈرامے من مائل میں برقعہ کو گھر اس بھاگ کر اپنے عاشق سے ملنے کیلئے استعمال کرتی ہے تفریحی چینلز پر اسکارف اور حجاب کو تفریح کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ڈرامے ہوں یا اشتہارات انکو ہماری اقدار کی نمائندگی کرنی چاہیے اشتہار کسی بھی ملک و قوم کی اقدار و راویات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا جاتا ہے۔مگر اب دنیا چونکہ گلوبل ولیج بن چکی ہے شائد اس لئے اب اس زحمت کی ضرورت نہیں رہی۔ایک موبائل کمپنی کا اشتہار جب اُوندھی پڑی نرگس کے فخریہ انداز کیساتھ اخبارات کے صفحہ اُول پر شائع ہوا تو موبائل کمپنی کے اس اشتہار کوپذیرائی کے بجائے خفت اُٹھانا پڑی نہ صرف عوام کی جانب سے بلکہ مسابقتی موبائل کمپنی نے موقع کا بھرپور فائدہ اُٹھا کر تضحیک کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی اقدار کے مطابق اشتہار بنا کہ ثابت کیا کہ اشتہارات کسطرح اپنی قومی و ملکی اقدار و ثقافت کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا جاتا ہے۔صرف عورت کی نمائش کر کہ اپنی مصنوعات کی فروخت والا فارمولا ہر جگہ کامیاب نہیں ہوتا۔یہی ماڈل دو مختلف لوشنز کے اشتہارات میں جسم کی نمائش کرتی نظر آرہی ہیں مگر پیمرا کی نظر سے اُوجھل ہے ۔ایک بسکٹ کے اشتہار کو پڑوسی ملک کی فلم جوانی ہے دیوانی کے گانے بدتمیز دل کی دھن میں ڈھلا گیاہے اور کچھ بچے اور کچھ کم عقل بڑے بھی ایسے اشتہارات جلد متاثر ہوکر گاتے نظر آتے ہیں۔ایک شیمپو کے اشتہار لڑکیوں کو رات میں شائن کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ابلاغ کے ذرائع غیر محسوس انداز میں ہماری زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔کسی کی مصنوعات بکتی ہیں تو کسی کا کاروبار چلتا ہے۔ اس انڈسڑی میں آنسو بکتے ہیں آرزوں بکتی ہیں ادائیں بکتی ہیں۔اور یہ سب ہوتا ہے پیسے کیلئے۔کبھی رُلایا جاتا ہے کبھی ہنسایا جاتا ہے۔کبھی لڑائی تو کبھی پیار سب کمرشل لیز ہوتا ہے۔ اخلاقی قیود سے عاری پیسے کا پجاری میڈیا اپنی ضرورت کو عوام کی ڈیمانڈ قرار دے کر جو چاہتا ہے دکھاتا ہے۔کروڑوں کی آبادی میں گیارہ سو People's Meter سے اخذ کی گئی ریٹنگ کو عوام لی پسند گرداننا جاتا ہے اور اس سارے نظام پر ایک ادارے کی اجارہ داری ہے اور وہ ہے۔Medialogic Pakistan (Pvt) Ltd جس نے 2007 میں 675 گھروں میں People's Meter لگائے اور 2014 تک یہ تعداد 20 شہروں کے گیارہ سو گھروں تک پہنچ گئی۔میڈیا ریٹنگ کیا ہے اور یہ کیسے مرتب کی جاتی ہے۔ٹیلیوژن کیساتھ لگایا جانے والا آلہ جیسے People's Meter. کہتے ہیں یہ ناظرین کی رائے جاننے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر کچھ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس People's Meter. کو بنیاد بنا کر چینلز کی Television Rating Point (TRP) ریٹنگ طے کی جاتی ہے۔جسکی بدولت اشتہارات کی لین دین پر چینلز اپنا کاروبار بڑھاتے ہیں۔گذشتہ کچھ عرصے سےTelevision Rating Point (TRP) اور اسکا طریقہ کار اُسوقت متنازعہ ٹہرا جب Medialogic Pakistan (Pvt) Ltd اور ایک میڈیا گروپ نے ایک دوسرے پر اس نظام Television Rating Point (TRP) اور People's Meter کے حوالے سے الزامات لگائے اور سکی شفافیت پر کئی سوالات اُٹھائے جیسے کروڑوں کی آبادی میں صرف گیارہ سو People's Meter. کیےے ناظرین کی رائے اور پسندنا پسند کی ترجمانی کر سکتے ہیں۔اور یہ سارا نظام صرف ایک ہی ادارے Medialogic Pakistan (Pvt) Ltd کی اجارہ داری قائم ہے۔Medialogic Pakistan (Pvt) Ltd کا ایک بین الاقوامی ادارے Kantar Media سے الحاق ہے جس نےJuly , 2015 میں Licence کو TNS Israelکو ٹرانسفر کردیا۔پیمرا کو اس شعبے میں بھی کچھ اقدامات کرنے چاہیے تاکہ اس نظام کو شفاف اور غیر جانبدار بنایا جاسکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *