منگل، یکم اپریل

اشعر رحمٰنAsha’ar Rehman

حواس باختہ اور نڈھال، ماننے سے منکر اور بہت زیادہ حیران پاکستانی، ابھی گزشتہ منگل کے محض چند گھنٹوں میں اپنی تاریخ کے سب سے زیادہ پر جوش ادوار میں سے ایک سے گزرے ہیں۔
آخر میں، یہ دن اپنے سے وابستہ کی گئی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہا۔ہوائی جہاز، جو غالباً ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو کسی محفوظ مقام پر لے جانے کے لئے آیا تھا، خالی ہی رہا۔ لیکن جب ڈھاکہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہتھیار ڈالنے کا عمل مکمل ہو گیا تو یہ ہمیشہ سے جاری اور لازمی ، اس پاکستانی مباحثے کوچند نئے زاوئیے دئیے بغیررخصت نہ ہواکہ جس میں ہم اس بارے میں غور کرتے ہیں کہ قومی غدار کون ہے اور یہ کہ ایک مخصوص وقت میں کون سی غداری ہمیں زیادہ تکلیف پہنچاتی ہے۔کیا اب ہم کسی نہ کسی طرح، جدید سپن کے خالق، ثقلین مشتاق پر یہ الزام لگاسکتے ہیں کہ ویسٹ انڈیز کے مشیر کے طور پرانہوں نے ہماری کرکٹ کے راز انہیں دئیے ہیں؟
اس میچ کے بعد، زیادہ تر لوگ شاید مشرف کے متعلق تحقیقات کرنے کی بجائے کرکٹ کے غداروں کے متعلق تحقیقات کررہے ہیں، لیکن ایک اچھے آغاز کے بعداس ناکامی سے طویل عرصہ قبل، دو بڑھتی ہوئی کہانیاں ایک ہی انداز اختیار کر چکی تھیں یا کم از کم ان کے متعلق ایک ہی جیسی شدت پائی جاتی تھی۔جوش ایک ہی وقت مین اپنے عروج پر پہنچا اور عین اس وقت جب ہم میں سے کچھ یہ سوچ رہے تھے کہ جنرل مشرف ملک چھوڑنے کے لئے عین تیار تھے، پاکستان اسی وقت، ڈھاکہ میں اپنی حکومت کو قائم رکھنے کے لئے آگے بڑھا۔۔۔
اس کے بعد دونوں واقعات میں بیک وقت موڑ آیا۔ جیسے براوو نے سٹیڈیم کے اندر اپنے بدقسمت پاکستانی مخالفین پر اپنی دہشت کی حکمرانی قائم کر دی تھی، بالکل اسی طرح اسلام آباد میں موجود قیادت نے مشرف کو جانے کی اجازت دینے سے انکار کرکے بہادری کی کتاب میں اپنا باب تحریر کرا لیا ہے۔
ذرا اس بارے میں سوچیں کہ جنرل مشرف اس دن کچھ نہ کیا کرتے جس دن وہ اپنی توجہ کرکٹ پر مرکوز کئے ہوئے ہوتے۔ دراصل وہ تمام خبریں جو ان کے حق میں چل رہی ہوتیں، وہ بھی انہیں کرکٹ سے توجہ ہٹانے کے قابل کم ہی ہونے دیتیں۔
سکرپٹ نویس ہر چیز کی نہایت باریک بینی سے منصوبہ بندی کر چکے تھے۔نشست گاہوں میں سنے جا سکنے والے موضوعات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ مشرف کس ملک میں جانے والے تھے۔۔۔جشن کے شور شرابے میں، توجہ حاصل کئے بغیر۔۔۔۔ عین اس وقت جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم ٹی 20کے ایک اہم میچ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دینے والی تھی۔
ہمیں نہایت باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے ن لیگ کے ان تمام اجلاسوں میں موجود ہر شخص نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ صرف یہی نہیں، مجموعی طور پر شرکاء کی آراء ملک میں موجود کم و بیش تمام طرز ہائے فکر کی ترجمانی کرتی تھیں۔ یوں ان کے ذریعے وزیر اعظم کو عوامی سوچ کی ایک بھرپور تصویر میسر آگئی تھی۔
اس بات کی بجا طور پر نشاندہی کی گئی کہ جنرل مشرف کو جانے دینے کا فیصلہ، حکمران جماعت کی سیاست پر کچھ بہت برے اثرات مرتب کر سکتا تھا۔ ان اجلاسوں میں وہ لوگ بھی موجود تھے جو اس معاملے کو ایک فرد کے خلاف مقدمے سے کہیں زیادہ سمجھتے تھے۔ان کی دلیل یہ تھی کہ پاکستان میں جمہوری عمل کے لئے اور مستقبل میں فوج کی مہم جوئیوں کو روکنے کے لئے مشرف کا احتساب لازمی تھا ۔
حالانکہ یکم اپریل کا دن مشرف کی روانگی کی یقین دہانیوں پر مبنی پیش گوئیوں کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ن لیگ کے ارکان یہ معمولی ساتاثر دیتے رہے کہ وہ کسی پہلے سے طے شدہ معاہدے کا حصہ نہیں بنے ہیں، اجلاس کے مقام سے آنے والی خبروں کے سلسلے کے دوران، کامیابی سے یہ تاثر تخلیق کیا گیا کہ ن لیگ روایتی طریقے کو دہرانے والی نہیں تھی۔ یوں ظاہر کیا گیا کہ وہ واقعی گفتگو کر رہے تھے، جو کہ جمہوریت کی مضبوطی کا ایک تاثر تھا۔
بلاشبہ، اس کا متبادل بھی موجود تھا۔لیکن، حقیقتاً یہ پہلی غالب کہانی تھی کہ جس نے ایک پہلو سے یا ایک چھوٹے سے واقعے کے ذریعے، اس ساری سرگرمی کو لفظ ’’جمہوریت‘‘ تک محدود کر دیا تھا۔ وہ تعبیر، جو یہ کہتی ہے کہ جنرل مشرف آخر کار باہر نکلنے کا راستہ نکال لیں گے یا انہیں نکال دیا جائے گا۔۔۔ ابھی تک طاقتور معلوم ہوتی ہے۔ یہ تعبیر بہت ممکن ہے کہ حقیقت کے قریب تر بھی ہو لیکن وہ ، جنہیں مقتدر ظاہر کیا جاتا ہے، کی طرف سے مزاحمت کی علامات پر ایمان لانا اچھا لگا۔یکم اپریل، بروز منگل، جو کچھ ہوا، وہ سب برا نہ تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *