آئن سٹائن کی لائن

ali raza ahmed
پچھلے دنوں پارک میں سیر کے دوران واکنک ٹریک پر ایک سفید کاغذنظر آیاجونہی اٹھایا تو کسی کی تحریر معلوم ہوئی ۔ٹریک پرمیرے بالکل آگے ایک سیر پسند محترمہ’’ محو سفر‘‘ تھی جسے شاید وزن کے حساب سے... سیر کی بجائے سفر کا مشورہ دیا گیا تھا۔ معلوم ہو رہا تھا کہ شاید اس جدید دور میں بھی یہ’’ رقعہ ‘‘میرے لئے بھیجا گیاہے مگر اس وقت میری اضطرابی کیفیت میں مزیداضافہ ہوا جب آخر میں’’ فرام تمہارا آئن سٹائن‘‘ لکھا دیکھا۔مجھے یہ S.M.S ایک’’ سِلو موشن سیکرٹ‘‘ محسوس ہوا جوشاید کسی پاکستانی کو لکھا گیا تھا مگر میرے ہاتھ لگ گیاملاحظہ فرمائیں:
میں نہایت’’ خواریت ‘‘سے ہوں اور ایمرجنسی میں میرا یہ پیغام ہے کہ تم فوراً اِدھر یورپ آؤ اور میری قبر پر لگے کتبہ سے مجھے نجات دلاؤ جس کی باعث مجھے نہایت اذیت مل رہی ہے میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے ایک’’ قریبی‘‘... سالے نے شاید پیسے بچانے کے لئے میری قبر چھوٹی بنوا دی ہے بھلا ! حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کا یہ کون سا طریقہ ہے اور کتبہ ۔۔۔ بھی عین میرے گھٹنے کے اوپر فکس کر دیا ہے جس کی وجہ سے مجھے نہایت تکلیف ہو رہی ہے گھٹنو ں کا درد تو میری زندگی میں ہی شروع ہو گیا تھا اور پھران کے بالکل اوپریہ بھاری بھر کم کتبہ لگا کر جانے کس پر احسان جتایا گیاہے... کم از کم مجھے ’’لائف ٹائم گارنٹی‘‘والے تابوت میں ہی دفنا دیا جاتا تو شاید مجھے یہ’’ راتیں ‘‘دیکھنا نصیب نہ ہوتیں... میں ایک حساب دان ہوتے ہوئے بھی... ابھی تک یہاں کا حساب بے باک نہ کرسکا ہوں۔ میری قبر پر کسی نے کیا لینے آنا ہے؟ہاں ! مگر حساب لینے والے میرا حساب خوب لینے آ رہے ہیں۔یہاں میرے سارے حسابی کلیے... کلیتاً ناکام ہو چکے ہیں بلکہ جتنے لوگ میری قبر پر آتے ہیں اتنا ہی میرا حساب کتاب ٹیڑھا ہوتا جا رہاہے۔پچھلے دنوں ایک سیسنا جہاز اسی قبرستان میں گر گیا تھا اورمیڈیا نے 737لاشوں کی برآمدگی کی خبریں بھی چلا دیں تھیں اور آخری خبریں آنے تک ،کھدائی جاری تھی۔ وہ میری لاش بھی نکال کر لے جاتے... مگر میری لاش کی ... جان بخشی میرے ساتھ والے آنجہانی نجومی کے کتبے کی وجہ سے ہوئی جس پر تحریر تھا ’’ بس اس کے آگے ۔۔۔کچھ نہیں‘‘طیارہ گرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ دوپائلٹوں میں سے ایک کالاتھا اور دوسرا تھا’’Racist ‘‘ وہ دونوں وہیں موقع پر ہی اپنی لائف سے محروم ہو گئے حالانکہ دونوں لاشوں پر... لائف ....جیکٹس بھی موجود تھیں۔ میرے اُلٹے ہاتھ والی قبر کا کتبہ دیکھ کر کھدائی والے کافی دیر اپنا وقت بھی ضائع کرتے رہے اور اسے بار بار پڑھ کر پنا نہیں کیا سوچتے رہے جس پردرج تھا
"Here lies an honest Lawyer" واہ جی واہ!کیاقبر سے بھی کوئی پیدا ہو سکتا ہے یا ایسی جگہ دفن ہو سکتا ہے جہاں صرف حیات زندگی ہو ...یہ صرف تمہارے پاکستان میں ہی ممکن ہے۔ تمہارے پشاور کے ایک قبرستان میں کتبے پر درج ہے ’’ سلامت خان تربت میں پیدا ہوا .... میاں والی کی ۔۔۔لڑکی سے شادی کیا۔۔۔ واہ میں ٹھا ہ ہوا اور حیات آباد میں سپرد خاک ہوا‘‘
وہ کمپنی جس کے ساتھ میرآخری معاہدہ ہوا تھا اس کی کوشش تھی کہ میری قبر میں بھی ایک جیومیٹری ، چندچاک اور بلیک بورڈ رکھ دیے جائیں تاکہ میں یہاں بھی ان کے کاروبار کی ترقی اور Mass کی بجائے’’ Math Destruction‘‘ کے فارمولے دیتا رہوں ۔

یار !تمہیں اِدھر آنے اور ویزا لینے میں ذراتکلیف تو ہوگی اور اس کے لئے آج ہی’’ لائن ‘‘میں لگ جاؤ۔کتبے کی اکھاڑپچھاڑ بھلے نہ کرنا اورمجھے ہی ٹانگوں سے کھینچ کر ذرا پیچھے کر دینا کیونکہ زندگی میں بھی لوگ میری ٹانگیں کھینچتے رہے ہیں... اب تم کھینچ لوگ گے تواس سے کیا فرق پڑے گا ۔ہائے !یہ کتبہ تو جیسے میرے گھٹنوں پہ مونگ دل رہا ہے حاسدوں کے ٹانگ کھینچنے سے تو مجھے مزید حوصلہ ملا کرتا تھا اور میں آگے سے آگے بڑھتا چلاجاتا تھا اب یہاں سے آگے کدھر بڑھوں؟چنانچہ اب تم میرے مرنے کے بعد میری ٹانگین کھنچو گے تو یہ... ایک خاطر خواہ بھلائی ہو گی کیونکہ مرنے والے کو غیبت بڑا ہی فائدہ دیتی ہے اور مردے کی’’ ٹانگیں کھینچنے‘‘ سے اسے ازحد روحانی سرور حاصل ہوتا ہے۔حالانکہ میرے لواحقین نے میرے مردہ جسم کو اچھے طریقے سے دھویا... اس کی بجائے وہ روتے دھوتے تو مجھے نہایت ’’مسرت ‘‘ہوتی لیکن وہ جلدی میں۔۔۔ میرے ساتھ ہاتھ کر گئے اور میرا دایاں ہاتھ دھونا بھول گئے جس پر لگی چاک مٹی اب تک میرے ناک میں پڑتی ہے جو ناک میں اپنے دور میں اتنااونچا رکھا کرتا تھا کہ مکھی اسے اپنا موٹرسائیکل سمجھ کر بیٹھ جایا کرتی تھی حالانکہ میں صرف اس وجہ سے کہ اس پر مکھی نہ بیٹھے اس ناک کی ... ویلنگ کیا کرتا تھا ۔ یہاں پر تو میرے اپنے یعنی’’ گریوٹی اور موشن ‘‘کے کلیے میرے کسی کام نہیں آ رہے۔ کاش! میں زندگی کی اصل’’ گریوٹی ‘‘سمجھ پاتا...
تمہارے ملک میں میرے اوپر بڑی بڑی باتیں ہوتی ہیں کہ آئن سٹائن یہ تھا وہ تھا حالانکہ میں صرف وہ تھایہ نہ تھا اورجو آپ نے جو آج کل اپنے ملک سے یہاں بھیجے ان میں سے بھی بہت سے ’’وہ‘‘ ہیں ۔اوہ میاں !میںآئن ہوں... آئین نہیں ہوں... ذرا اپنا لب و لہجہ تو درست کر لو!آپ کے آئین میں ترمیم اور میری جائداد کی تقسیم کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔تم سب کو بھلے اپنے آئین کی بہت فکر ہے مگرمجھ’’ آئن‘‘ کا بھی تھوڑا خیال کرو.... تم پاکستانی جو جو نئی نئی ایجادات کے مزے لوٹ رہے ہو وہ میری ہی ’’مساوات‘‘ کے کمال ہیں اپنے لوگوں کو میری نہیں اپنی مساوات کا تو کم از کم درس یا کرو۔ایک بات جو کہنی تو نہیں چاہئے کہ تم لوگ اتنے سپر پاور بن چکے ہو مگر ابھی تک اپنے دودھ والے کوملاوٹ کی’’ گوالاگردی‘‘ سے روک نہیں پائے ....یاد رکھو!اسلحہ بارود ایٹم بم کسی آئین کا حصہ نہیں ہوتے لیکن مجھ آئن کا حصہ ضرور ہوتے ہیں (میری طرف دیکھو) میں نے سب کچھ کر ڈالا ہے حتی کے ایٹم کا فارمولا بھی عبور کر ڈالا تھا تاکہ دنیا کی ساری قومیں جلد میرے پاس چلی آئیں جہاں میں اب ہوں...میں یہاں’’ لیٹ‘‘ کراب کوئی سازش نہیں کر رہا وہ علیحدہ بات ہے کہ تم لیٹ ضرور ہو رہے ہو۔میں نے زندگی میں اپنی ٹانگیں کھینچنے والوں کو معاف ضرور کیا لیکن میری ایجادات کسی کو معاف نہیں کریں گی...آج کل میری ایک تصویر میری ہی مساواتوں پر بنیاد رکھے گئے کمپیوٹر پر بہت چل رہی ہے جس میں مجھے مارلن منرو کے ساتھ ملایا گیا ہے کیا میں یہ دن دیکھنے کے لئے مرا تھا۔میں جب 1962آنجہانی ہوااس وقت تمہارے ملک میں کوئی آئین تھا نہ’’ آئن ‘‘جیسا استاد.... اورنہ ہی یہاں کوئی ترقی کی کرن نظر آرہی تھی اب تمہارے پاس آئین بھی ہے اورایٹمی پاوربھی اور اس کے دھماکے کرنیوالا لیڈربھی ...اور کیا چاہئے؟ میرا مائنس ون فارمولا صرف میں ہی جانتا ہوں کہ کس طرح اپنے کلیے... مساواتیں اور خانگی زندگی خفیہ رکھی جائیں لیکن کیا کیا جائے یہ دنوں میری زندگی میں ہی افشا ہو گئے تھے۔میں اپنی بیوی سے صرف یہ توقع رکھتا تھا کہ وہ میرا بستر اور کتابیں ٹھیک کر کے لگائے، کمرہ صاف اوردن میں دس بارہ چائے دے لیکن وہ کمرہ کتابوں سے صاف کرکے میرے ہی بارہ بجا دیا کرتی تھی ۔ایک دن بالکل فرشتہ صفت بن کراس نے میرے سامنے بالکل گھٹنے ٹیک دیے اور نہایت ادب سے کہا ’’ بیڈ کے نیچے سے باہر آ جاؤتجھے کچھ نہیں کہا جائے گا‘‘۔میں نے اپنی زندگی میں صرف لال بیگ کو ہی اپنا رقیب جاناکیونکہ میری بیوی صرف اسی سے ڈرا کرتی تھی ۔نیوٹن کا سیب اور میری بیوی کا جوتا میرے قریب گرنے کا واقعہ ایک ہی تجریدی عمل کی دو کڑیاں ہیں کیونکہ امن زور اور طاقت سے قائم نہیں رکھا جاسکتا ہے سوائے گفت شنید کے۔ بیوقوفی یوں بھی ہوا کرتی ہے کہ ایک ہی عمل اپنا مطلوبہ نتیجہ حاصل کرنے کے لئے... بلاوجہ اور بار بار کیا جائے ۔اصل میں جو غلطی نہیں کر تا... وہ نئی ایجاد نہیں کر سکتا۔کئی ایجادات سائنسدانوں کی غلطیوں کی وجہ سے سامنے آئیں۔ بیوقوف اور عقل میں فرق صرف غلطی کی حدود و قیود کا ہوتا ہے۔ایک دفعہ میں ٹرین میں سفر کر رہا تھا ٹکٹ چیکر نے آ کر ٹکٹ چیک کیا میرے پاس سے کہیں ٹکٹ نہ نکلا لیکن وہ مجھے پہچان گیا اور کہنے لگا کہ آئن سٹائن اور ٹرین کا ٹکٹ نہ لے... یہ کہہ کر چلا گیا مگر میں پھر بھی جیبوں میں ٹکٹ تلاش کرتا رہا ... صرف یہ معلوم کرنے کے لئے کہ مجھے اترنا کہاں ہے؟باقی باتیں پھر کبھی تم جلدی یو ۔کے پہننے کے لئے ویزا والی لائن میں لگ جاؤ کہیں ....میرے جسد کی جمع، منفی میں بدل کر تقیسم ہی نہ ہوجائے...Best Regards

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *