اے مرد مجاہد "بھاگ" ذرا

(یادوں کے دریچے سے )

saeed

اے مرد مجاہد "بھاگ" ذرا

اب وقت شہادت ہے آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاۓ وقوعہ۔۔۔۔۔۔۔ صادق آباد ریلوے سٹیشن سے تین چار کیلو میٹر دور ایک خستہ حال گاؤں
سن اکہتر
جائے واردات۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مورچے میں تین غازی
ایک ایجوکیشن صوبے دار اکبر خان
دوسرے صاحب رجمنٹ کے تنخواہ دار مولوی رحمت خان
تیسرا یہ خاک سار
رات کے لگ بھگ دو بجے کا وقت
دشمن کا ایک جہازتڑ تڑ تڑ کرتا ہمارے سروں پرسے گزرگیا۔
ہرطرف دھویں اورخاک کے گہرے بادل
مولانا نے "اللہ اکبر" کا نعرہ لگایا اور مورچے سے چھلانگ لگا کر دشمن کے مورچوں کی طرف طوفانی رفتار سے بھاگے
وقفہ
اللہ اکبر کا ایک اور نعرہ
آواز کچھ مدھم مدھم سی
وقفہ
تیسرا نعرہ۔۔ آواز کچھ اور مدھم
میں نے اکبر خان سے پوچھا " یہ مولانا تو دشمن کے مورچوں کی طرف بھاگے تھے آواز پیچھے سے کیوں آ رہی ہے؟" ۔ صوبے دار صاحب بولے۔ "مولانا جہاد کے جزبہ سے سرشارہو کر دشمن کے ٹینکوں کی یلغارروکنے کے لئے بھاگے ہیں۔آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اللہ ان کو اپنی امان میں رکھے گا۔"
لڑائی ختم ہونے کے بعد ہم واپس اپنی یونٹ میں جمع ہوئے تو مجھے اللہ میاں کی شان کا جیتا جاگتا نمونہ جلد ہی نظر آگیا ۔ مولانا یونٹ کی باربر شاپ کے باہر دھوپ میں ایک بنچ پر بیٹھے داڑھی کو خضاب لگانے میں مصروف تھے۔ میں نے پوچھا۔"سرکار آپ تو دشمن کے مورچوں میں گھس گئے تھے۔ٰ یہاں کیسے؟
"خان صاحب میں آگے نہیں پیچھے کی طرف اپنے سپاہیوں کو حوصلہ دینے کے لۓ بھاگا تھا۔"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *