کیا بیوی بغیر اجازت شوہر کے بٹوے سے پیسے نکال سکتی ہے ؟ اسلام کیا کہتا ہے ، ضرور پڑھیئے!

wife

ہمارے ہاں اکثر یہ مسئلہ درپیش رہتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے بٹوے یا جیب سے از خود پیسے نکال لیتی ہے اور یہ عمل بعد میں میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے کا باعث بھی بنتا ہے- اسلام اس حوالے سے کہتا ہے کہ عورت کو چاہئے کہ اپنے نفس ومال میں شوہرکی مرضی کے خلاف کوئی تصرف نہ کرے مال میں تصرف سے مراد وہ مال ہے جو مرد نے ضروریات زندگی کیلئے عورت کو دیا ہے اس میں اس کی مرضٰ واجازت کے بغیر خرچ کرنا درست نہیں اور بعض علماء نے کہا کہ مال سے مراد عورت کا مال مراد ہے اس صورت میں عورت کواپنے مال میں بھی بغیر شوہر کی مرضی کے تصرف نہیں کرنا چاہئے بہترین عورت کا یہی کردار ہوتا ہے ۔ عورت کو اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے کسی کو تحفہ دینا بھی جائز نہیں ہے البتہ وہ اپنے مال میں سے دے سکتی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ کسی عورت کیلئے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو تحفہ دینا جائز نہیں ( نسائی کتاب الزکوۃ ۵؍ ۶۶)غرض کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر کی کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں کر سکتی علماء نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر کے مال کو اندھا دھند یا بیدردی سے خرچ نہ کرے بلکہ اس میں اعتدال اور میانہ روی کا پہلو اختیار کرے اگر وہ ایسا کرے گی تو اس پر اس کو ثواب بھی ملے گا ہاں اگر کوئی ہنگامی ضرورت پیش آجائے یا اتنا لینے کی حاجت لاحق ہو جائے جو عمومی اخراجات اور خیر وخیرات کے ماسوا ہو تو پھر اس سلسلہ میں شوہر کی اجازت ضروری ہو جائیگی لیکن اگر شوہر نے اس طرح کی اجازت پہلے سے دے رکھی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ جب عورت اپنے گھر کا کھانا ( یا اناج ) بغیر کسی خرابی کے خرچ کرتی ہے تو اسے اجر ملے گا اور شوہر کو بھی اس کی کمائی کی وجہ سے اور جمع کرنے والے کو بھی اسی طرح کا ثواب ہو گا ۔( بخاری کتاب الزکوۃ ۲؍ ۱۲۰)
اس حدیث سے امام بخاری نے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اپنا اور اپنے بچوں کا نفقہ شوہر کے مال میں سے لے سکتی ہے ۔

Source: algazali.org/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *