فِری برگر

nasir-mehmood-malik (1)

ٍ گاڑی کا انجن آئل تبدیل کروایا تو سیلز مین نے ہمیں ایک واؤچرتھماتے ہوئے کہا ، ’’ سر ! ہماری کمپنی کی طرف سے آپ کے لیے آفر ہے ! آپ صرف ایک برگر خریدیں گے اور دوسرا آپ کو فِری ملے گا۔انجوائے کیجئے ، اور یاد رہے اگلی دفعہ انجن آئل کے لیے ہمارے پاس ہی تشریف لائیے گا ، پلیز ! ‘‘ یہ چکن برگر کے حوالے سے ایک معروف ریسٹورنٹ کے لیے واؤچر تھا۔ ہم نے حسبِ عادت قیمت کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ کوئی تین سو روپے کا فائدہ ہو رہا تھا۔۔ڈیل بُری نہیں تھی۔ فوری طور پر ایک دوست کو فون کیا اور دو دن بعد آنے والے ویک اینڈ پراس ’ ڈیل ‘ سے استفادہ کرنے کا پروگرام بنا لیا۔
ویک اینڈ پر آفس سے قدرے جلدی فارغ ہوئے اور متذکرہ دوست کو اطلاع کی کہ وہ متعلقہ ریسٹورنٹ پہنچے۔گھر میں ہم نے بتایا کہ شام میں ایک’’ آفس میٹنگ‘‘ میں جانا ہے۔ایسے موقعوں پر یارلوگوں کا مشورہ ( اور ہمارا مشاہدہ ) یہی ہے کہ اگر آپ اصل بات بتائیں تو پھر بات نہیں بنتی۔بلکہ بیگم سے ایک بے فضول اور اس قدر طویل بحث شروع ہو جائیگی جس کے دوران یہ بھی پتا نہیں چلتا کہ وہ کم بخت شروع کس بات پر ہوئی تھی۔ ( ہماری مُراد بحث سے ہے )۔۔ مثلاً فرض کیجئے اسی موقع پر اگر آپ کھِلی کھِلی باچھوں کے ساتھ یہ بتائیں گے کہ دوستوں کے ساتھ برگر کھانے کا پروگرام ہے تو دھر لیے جائیں گے۔ فور اً ’ حملہ ‘ ہو گا اور کہا جائے گاکہ دیکھیں دوستوں کے ساتھ آپ ضرور جائیں لیکن فیملی بھی ضروری ہے یعنی ! ہمارا بھی کُچھ حق ہے‘ پھر اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ بیگم ! آپ کو شاید پتا نہیں ابھی پرسوں ہی ہم باہر کھانا کھا کر آئے ہیں ؟ ‘‘ تو جواب ملے گا ، ’’ لیکن وہ تو ہم پیزا کھانے گئے تھے ، تو گویا آپ کو برگر اور پیزے کا فرق بھی معلوم نہیں، بھئی ! آپ کی پہچان بھی کمال کی ہے۔‘‘ اس پر اب بندہ کیا کہے کہ واقعی پہچان کے معاملے میں ہم مار کھا گئے ہیں۔ ورنہ زندگی کے ایک اہم مرحلے پر قدرے بہتر ’ آپشن ‘ کا انتخاب کرتے۔۔ لہذا ، واقفانِ حال کے مطابق ، ایسی بے تُکی بحثوں سے بچنے کے لیے اک معصوم سا بے ضرر بہانہ اک تیر بہدف نُسخے کا کام دیتا ہے۔ ذاتی تفریح کو اگر ’’دفتری اُمور‘ کے کھاتے میں ڈال دیا جائے تو نہ صرف آپ کے جانے پر اعتراض نہیں ہوتا بلکہ ’’ کام کی زیادتی ‘‘ کی بنا پر آپ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔ ہم نے بھی آج اسی پر عمل کرتے ہوئے ، بُرا سا منہ بنا کے ’ آفس میٹنگ ‘ کا کہا ، گاڑی نکالی اور برگر کھانے روانہ ہو گئے۔
ریسٹورنٹ گھر سے کوئی آٹھ دس کلو میٹر دور واقع ہے۔ لیکن آپ کو پتا ہے کہ تین سو روپے کی خطیر بچت نظر آ رہی تو یہ فاصلہ کُچھ بھی نہیں۔ٹریفک سے بچتے بچاتے بھاگم بھاگ ہم وہاں پہنچے ۔ ابھی ریسٹورنٹ کے باہر ہی تھے کہ خیال آیا واؤچر نکال لینا چاہیے تاکہ اندر جاکر کوئی پریشانی نہ ہو۔لیکن یہ کیا !! واؤچر تو کہیں بھی نہیں تھا ۔۔ جیبوں میں تلاش کیا ۔۔ بٹوہ دیکھا ادھر اُدھر سب ڈھونڈا لیکن واؤچر کہیں بھی نہ ملا۔اک عجیب شاک لگا !! تو گویا واؤچر گھر میں ہی رہ گیا۔۔اک لمحے کو خیال آیا ، ’’ واؤچر کو گولی ماریں۔۔ سامنے ریسٹورنٹ میں چلتے ہیں۔‘‘ لیکن پھر ہم نے بچت کے پیشِ نظر اس خیال کو فوراً رد کیا اور وہیں سے یو ٹرن لے کر گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔تھوڑی دور آگے گئے تو ٹریفک بند تھی۔لا چار بائیں طرف اک ’ پتلی گلی ‘ سے ہو لیے۔ لیکن یقین کیجئے ! نجانے کیوں ! ہمارے لیے ہر ’’ پتلی گلی ‘‘ ہمیشہ بند گلی ہی ثابت ہوئی ہے۔خیر ! ادھر اُدھر پھرتے پھراتے ہم گھر کی جانب رواں رہے۔ رستے میں کئی بار اک بے ہودہ سا خیال ہمارے ذہن میں آیا کہ ہم جس بچت کی کوشش کر رہے ہیں اُس سے زیادہ کا تو پٹرول لگ جائے گا لیکن ہر بار بچت کے سنہری اصولوں کے پیشِ نظر ہم نے ان شیطانی خیالات کو جھٹک دیا۔ کوئی چار پانچ کلو میٹر ایکسٹرا فاصلہ طے کر کے گھر پہنچے تو بیگم حیران ہوئیں کہ میٹنگ اتنی جلدی ختم ہو گئی۔وہ ہے نا کہ جھوٹ کبھی اکیلا نہیں بولا جاتا۔ لہذا بتایا کہ اک ’’ اہم ڈاکومنٹ ‘ گھر میں رہ گیا ہے وہ لینے آئے ہیں۔اب اس کم بخت واؤچر کی تلاش شروع کی تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کہاں ہو سکتا ہے ۔گھر میں دیگر اہم اُمور کی طرح چیزیں گُم کرنے اور انہیں تلاش کرنے کا کام بھی ہم نے بیگم کو سونپ رکھا ہے۔ہمیں یاد نہیں پڑتا کہ ہم نے کبھی کوئی چیز خود تلاش کی ہو۔ اور یہ تو بالکل ہی یاد نہیں پڑتا کہ ہم نے کوئی چیز تلاش کی ہو اور وہ مل بھی گئی ہو۔لیکن چونکہ آج جو چیز گُم ہو ئی تھی اس کی تلاش ہم بوجوہ بیگم سے نہیں کروا سکتے تھے لہذا خود ہی ڈھونڈ رہے تھے۔تما م جگہیں دیکھیں !! کوٹ کی جیبیں، تکیے کے نیچے ، واشنگ مشین کے آس پاس ! ہر جگہ تلاش کیا لیکن بے سود۔ ہمیں یاد آ رہا تھا کہ یقیناً ہم نے اُسے کہیں سنبھال کے رکھا تھا لیکن عمرِ عزیز گواہ ہے کہ جب بھی کوئی چیز ہم نے زیادہ سنبھال کر رکھی ہے وقت آنے پر وہ کبھی نہیں ملی۔ہماری مایوسی بڑھ رہی تھی۔واؤچر کے بغیر ریسٹورنٹ جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔لیکن پھر ہمیں کئی گھنٹوں سے وہاں بیٹھے دوست کا خیال آیا جوہماری آفر پر پہلے ہی ’ شاک ‘ میں تھا کہ یہ آج سورج مغرب سے کیسے نکل آیا اور اب تک گُمان کر رہا ہو گا کہ ’’ ساقی نے کُچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں ‘‘ ۔وہ بے چارہ ہمارے وہاں نہ جانے کا دوسرا ’ شاک ‘ شاید برداشت نہ کر پاتا ۔ لہذا اسی کا سوچ کر ہم گھر سے دوبارہ نکل آئے۔اب کی بار ہمیں بُرا مُنہ بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئی ، خود ہی بن گیا تھا۔
ریسٹورنٹ جاتے ہوئے ہم نے سوچا کیا کوئی لوگ ایسے بھی ہیں جو چیزیں سنبھال کر رکھیں اور پھر ضرورت پڑنے پر وہ انہیں مل بھی جائیں۔ ادھر ہمارا حال تو یہ تھا کہ آج کا نقصان پہلا نہیں تھا اس طرح کے کئی ’’ عظیم نقصانات ‘‘ ہماری ’نحش‘ یادداشت کی نظر ہو چکے تھے۔۔بہرحال ! ریسٹورنٹ پہنچ کر ہم نے دو برگر لیے ۔ ایک دوست کو پیش کیا دوسرا خود زہر مار کیا ۔برگر کھاتے ہوئے ہمارا دوست یقیناً کچھ باتیں بھی کر رہا تھا لیکن ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ہم اس دوران مسلسل اُن اسباب پر غور کر رہے تھے جو ’’ چھوٹو گینگ ‘‘ وغیرہ بنانے کا باعث بنتے ہوں گے۔برگر ختم کر کے ہم فوراً باہر نکل آئے۔ دوست کو خُدا حافظ کہا اور گاڑی میں بیٹھ گئے ۔گاڑی سٹارٹ کی تو اچانک ہماری نظر سامنے لگے میٹر کے نیچے پڑی۔ہمیں جیسے کرنٹ لگا ۔۔ہمارے بالکل سامنے،، گاڑی کے میٹر کے نیچے ۔۔ریسٹورنٹ کا واؤچر پڑا ہمارا مُنہ چڑا رہا تھا۔ذہن میں اک خیال کوندا ۔۔ دو روز پہلے اسے ہم نے خو د یہاں ، احتیاطاً ، سامنے رکھا تھا تا کہ ریسٹورنٹ جاتے ہوئے یہ بڑی آسانی سے کسی کوفت کے بغیر مل جائے۔ہم اپنی اس کمال ’’ احتیاط ‘‘ کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکے۔ہم نے فوراً اسے دبوچا اور اس کے کئی ٹکڑے کر کے باہرہوا میں اُڑا دئیے۔ گھر پہنچے تو بیگم نے پوچھا ، ’’ میٹنگ کیسی رہی ‘‘؟۔ ’’ بہت مہنگی پڑی ‘‘ ، ہم نے جواب دیا۔

فِری برگر” پر ایک تبصرہ

  • اپریل 20, 2016 at 7:50 PM
    Permalink

    کیا بات ملک صاحب ! تحریر کی سادگی اور سلاست ، شوہر کی بیوی اور تقدیر کے حضوری بے بسی اور قدو قامت ،مشرقی شرافت اور اس کی شرافت کے نیچے لہریں لیتے زاویے ،انسان کی طبعی لالچی طبیعت اور اس کی قیمت. . کتنے ہی زندگی رنگ لے کے آپ نے ماسٹر سٹروک لگایا ہے. بہرحال داد

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *