جس خوشی کی ہمیں تلاش ہے

naeem baloch1ان کو اپنے والدین سے خاصا مال وراثت میں ملا تھا۔ انہوں نے اپنی پسند کی ایک خاتون سے شادی کی، اور دونوں اس فارم ہاؤس میں رہنے لگے۔ پسند کی شادی کی وجہ سے وہ کچھ برسوں تک بہت خوش رہے تھے۔ ان کا فارم ہاؤس ایک خوبصورت دنیا کا منظر پیش کررہا تھا، لیکن کچھ ہی مدت بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ دو متضاد نفسیات کی حامل شخصیات ہیں۔ یوں وہ بہت جلد ایک دوسرے کے لیے بوجھ بن گئے۔ بظاہر خوب صورت اور چہکتا مہکتا فارم ہاؤس ان کے لیے ایک اداسی کی جگہ بن گیا۔ اس کے اندر جو عورت اور مرد رہ رہے تھے وہ کامل افسردگی کی تصویر تھے۔ ان کے گھر اگر کوئی مہمان آکر ٹھہرتا تو حیران رہ جاتا۔ ایک مہمان نے حیرت سے بتایا ’’ میں نے ایک بار بھی نہیں دیکھا کہ وہ دونوں آپس میں بات کررہے ہوں۔ یہ فارم ہاؤس جو ہمیں خوشیوں کا گہوارہ بتایا گیا تھا ا ب وہ افسردگی کا ایک قبرستان بناہوانظر آتا تھا‘‘۔
ہم نے اپنی زندگی میں اس طرح کے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے نہایت محنت سے مال کمایا لیکن جب مال انہیں حاصل ہوگیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ مال میں ان کے لیے کوئی خوشی نہیں۔ اسی طرح کسی نے نہایت ذوق وشوق کے ساتھ اپنی پسند کی شادی کی لیکن تھوڑے دنوں کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ شادی ان کے لیے صرف ایک خشک ذمہ داری ہے، نہ کہ خوشیوں کی پرمسرت زندگی ۔ کسی نے اپنی پوری زندگی کو سیاست میں وقف کیا تاکہ وہ سیاسی اقتدار کی کرسی پر پہنچ سکے، لیکن جب سیاسی اقتدار حاصل ہو گیا تو اس کے لیے خوشیوں کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ کسی کی منزل یہ تھی کہ اس کے پاس ایک کشادہ اور خوبصورت مکان ہو لیکن مکان جب بن کر تیار ہوگیا تو اس کے چہرے سے خوشی رخصت ہوچکی تھی، وغیرہ۔
موجودہ دنیا کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ یہ دنیا انسان کے لیے المیہ (Tragedy)کے سوا اور کچھ نہیں۔ بڑے بڑے ادیبوں نے ہرزبان میں لاکھوں کی تعداد میں ناول لکھے ہیں۔ یہ ناول گویا انسانی جذبات کی ترجمان کی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ کسی بھی زبان میں کوئی طربیہ (Comedy)ناول کبھی مقبول نہ ہوسکا۔ دنیا میں جتنے بھی مقبول ناول ہیں وہ سب کے سب المیہ (Tragedy)ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہرانسان اس احساس میں جی رہا ہے کہ وہ جس خوشی کو پانا چاہتا ہے وہ اس کو حاصل نہ ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ المیہ ناول ہی انسان کے دل کو چھوتے ہیں، طربیہ ناول کو انسان اپنے دل کی کیفیت کے مطابق نہیں پاتا۔ یہ انسانی زندگی کا بڑا عجیب پہلو ہے کہ ہرانسان کی عمر کا پہلا نصف حصہ خوشی کی تلاش میں گزرتا ہے اور بقیہ نصف حصہ اس احساس میں کہ شاید اس دنیا میں وہ خوشی حاصل ہی نہیں کر سکتے۔ دراصل انسان ہمیشہ مستقبل میں جیتا ہے لیکن وہ بھول جاتا ہے اصل مستقبل اس دنیا میں ہے ہی نہیں۔ موجودہ زندگی صرف اس لیے ہے کہ آدمی حسن عمل سے اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں خوشیوں کی مطلوب دنیا پاسکے۔ موت سے پہلے کا مرحلہ حیات ، اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنانے کا مرحلہ ہے۔ اور موت کے بعد کا مرحلۂ حیات حسب استحقاق جنت میں داخلے کا مرحلہ، یعنی خوشیوں کی اس دنیا کا مرحلہ، جس کو ہر آدمی کی روح شعوری یا غیر شعوری انداز میں تلاش کررہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *