کچھ تلخ جنسی حقائق

sexْقدیر غوری
مرد جو عورت پر حکم چلاتا ہے اپنی من مانی کرتا ہے اُس کی مرضی کے بغیر اُسے ہاتھ لگاتا ہے ،کبھی سوچا ہے اس کا حق اُسے کون دیتا ہے ؟
اسکا حق اُسے معاشرہ دیتا ہے.معاشرہ مرد کو من من مانیوں کا حق دیتا ہے اور عورت کو ہر قسم کا ظلم زیاتی برداشت کرنے کی تربیت دیتا ہے اور اس کام کے لیے معاشرہ اپنی تریت یافتہ خواتین کو استعمال کرتا ہے ۔جو عورت کو پیدائش کے دن سے یہ بتانا شروع کردیتے ہیں.
تم ایک عورت ہو تمیں مردوں کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا ہے.جس کے بدلے تمیں کھانا , کپڑے ملا کرینگے.اور مہینے میں سات دن کی قدرتی چھٹی بھی.سینئر خواتین, جونیئر خواتین کو مردوں کے سامنے آنے جانے بیٹھنے, کھانے اور سونے کے آداب سکھاتی ہیں.
جیسے بادشاہوں کی پُرانی کنیزیں نئی کنیزوں کو حرم کے اصول سکھاتی ہیں.جیسے سہاگ رات میں جانے سے پہلے دلھن کی سہلیاں اور بڑی بوڑھاں دلھن کے کان میں کہتی ہیں.وہ آئیگا اور جو کہے کرنا, جو کرے کرنے دینا اب سے تیرا مرد (شوہر) ہی تیرا مالک ہے.
کبھی اُس کی بات نہ ٹالنا وہ جب جس حال میں تمہیں اپنے پاس بلائے تمہیں آنا ہوگا.
تمارا دل چاہے تو کھل کر نہ بتانا بس اشارے سے سمجھانا نہ سمجھے تو وہ دوسری طرف کر کے سوجانا اور زبان سے کبھی اس کی شکایت مت کرنا یہ بے شرمی ہوتی ہے,لیکن جب تیرے شوہر کا دل چاہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی حاجت پوری کرنا یہ ہی تمارا دھرم ہے ورنہ وہ ناراض ہوجائے گا, پھر دو کام کریگا ایک تو تیرے اُوپر سوکن لے آئیگا نہیں تو تجھے طلاق دے دیگا.پھر پڑی رہنا اکیلی کہیں کوئی تجھے منہ بھی نہیں لگا ئے گا.مرد کو ویسے بھی کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ تو مرد ہے نہ مرد.. سکھا سکھایا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *