کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے ؟؟

 ڈاکٹر عطا ء الودود

Ata ullah wadood
آجکل کرپشن کرپشن اور احتساب احتساب کا بہت شور ہے یہاں تک کہ ہمارے پر وقار جرنیل جناب راحیل شریف صاحب کو بھی اس کے متعلق کہنا پڑ گیا کہ ریاست کی ترقی کے لئے بلا امتیاز احتساب نہایت ضروری ہے اس پر بعض طبقات کی طرف سے اعتراضات بھی اٹھا ئے گئے کہ کیا فوج کو اس طرح کے معاملات میں دخل دینے کا بھی کوئی مینڈیٹ حاصل ہے یا نہیں ؟ اور ایک ٹاک شو میں ایک سینےئر سیاستدان جو کہ بظاہر اپوزیشن جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سربراہ کی حیثیت سے کام بھی کر رہے ہیں انھوں نے دو انتہائی اہم سوال اٹھائے کہ اگر راحیل شریف صاحب نے کرپشن کے خاتمے اور احتساب کی بات کی ہے تو پہلے تو اس کا لائحہ عمل بھی حکومت کو بتائیں کہ وہ کس طرح سے کرپشن کا خاتمہ کرے ، دوسری بات انھوں نے یہ کی کہ کیا فوج نے بھی کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے اپنے ادارے کے اندر کوئی احتساب کیا ہے جسے حکومت اپنے سامنے بطور ماڈل کے رکھے اس کے بعد ہماری ملکی تاریخ کا ایک نہایت تاریخی واقعہ رونما ہوا جب 12فوجی اہلکار جن میں ایک جرنیل ،2میجر جنرل اورکرنل رینک کے افسران شامل تھے کو آرمی سے کرپشن چارجز کے باعث برخاست کر دیا گیا ۔
یہ حکومت وقت کے لئے بھی ایک طرح کا اشارہ ہے جو کہ پانامہ لیکس کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد سے مختلف اشاروں کنایوں میں دیا جاتا رہا ہے کہ اپنے معاملات درست کر لیں اور بالآخر افواج پاکستان کو بالاوضاحت بتانا پڑ ہی گیا ہے ۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کے جی ہاں بالکل ممکن ہے ہاں اگر نیت ٹھیک ہو تو صرف تب ہی ایسا ممکن ہے ، اگر نیت ہو کہ معاشرے سے اس لعنت کا خاتمہ کرنا ہے تو ضرور اس لعنت کا خاتمہ ممکن ہے ۔(سرکا ر دوعالم آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے) بس سب سے پہلے بحیثیت قوم ہمیں اپنی نیتیں ٹھیک کرنی ہوں گی ایک فیصلہ کرنا ہو گا کہ کسی بھی سطح پر کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی (نیت کی درستگی کے بعد دوسرا قدم عمل کا ہے اس نیت کو عملی جامہ کیسے پہنایا جائے اس کے لئے کچھ ایسے کام ہیں جو کہ صبرآزما اور استقامت چاہتے ہیں سب سے پہلے ہمیں معاشرے کی اخلاقی اصلاح کرنی ہو گی اس کے لئے من حیث القوم خدا خوفی اپنے اندر پیدا کرنا ہو گی اور ہمیں ایک خدا کی طرف لوٹنا ہو گا خدا کا خوف جب ہمارے اندر اجاگر ہو گا اور شعور پیدا ہو گا کہ حقیقی جزاء و سزا کا اختیار صرف اللہ ہی کی ذات کو ہے تو ہماری سوچنے اور سمجھنے کی استعدادیں بھی تبدیل ہو ں گی پھر یہ ماننا ہو گا کہ ہمارا خالق خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو ہمارے ہر کام پر نظر رکھے ہوئے ہے پھر یہ کہ ہمیں ماننا ہو گا کہ مرنے کے بعد ہمارا خالق ومالک ضرور ہم سے ہمارے کاموں کے متعلق پوچھے گا اور ہمیں اپنے اعمال کا جوابدہ ہونا پڑے گا ۔ پھر قوم میں سے ایسے لوگوں کو دعوت دینا ہو گی جو و ا قعی ہماری قیادت کے اہل ہیں جو اخلاقی لحاظ سے بے داغ ہیں جب تک آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق حقیقی طور پر نہیں ہو گا اس وقت تک یہ انتخاب صرف ایک ڈھکوسلہ ہی رہے گا اور قوم کے پیسے کا ضیاع کے سوا اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ ہمیں اپنے روزمرہ کے معاملات میں عدل وانصاف کو رواج دینا ہوگا ۔
اگر موجودہ حالات میں انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی سے بھی پوچھیں تو وہ یہی کہے گا کہ اس وقت عدلیہ ،پارلیمنٹ ،فوج، نیب یا ایف آئی اے میں سے کون ساادارہ ایسا ہے جس پر اکثریت کا اعتماد ہو تو وہ صرف فوج کا ہی ادارہ ہو گا جس پر کثرت رائے سے عوام الناس اعتماد کا اظہار کریں گی ۔ جس طرح سے جنرل راحیل شریف صاحب نے کرپشن کے خلاف جہاد شروع کر کے احتساب کا آغاز اپنے ہی ادارے سے کر کے ایک نئی بنیاد ڈالی ہے اس سے اس بات کو اور بھی تقویت ملی ہے کہ قوم میں احتساب کا عمل شروع کرنے کے لئے صرف اور صرف اخلاص نیت ہی کی ضرور ت ہے ۔
پھر الیکشن کمیشن کو خودمختار بنانا ہو گا خودمختارالیکشن کمیشن کا قیام جس وقت تک نہیں ہوتا اس وقت تک ملک میں جمہوریت کا حقیقی رنگ میں قیام ممکن نہیں اس وقت جمہوریت کے نام پر دھوکہ دیا جا رہا ہے اور دیا جاتا رہے گا ۔آپ کسی بھی دیہات کا جائزہ لے لیں تو انھیں ملک کے داخلی یا خارجی مسائل کا کچھ بھی ادراک نہیں انھیں غرض ہے تو صرف اپنی نوکریوں اپنے دیہات کی ترقی اور اپنے لوکل مسائل سے ہے اور اس امر میں ان سادہ لوح لوگوں کو قصور وار بھی نہیں گردانا جاسکتا جب ظلمت اور استحصالی معاشرے کا دور دوراں ہو گا تو ایسے ہی مائنڈ سیٹ بنتے چلے جائیں گے جس وقت تک لوگوں کو اپنے ووٹ کی حقیقی طاقت کا اندازہ نہیں ہو گا تب تک وہ اس کے درست استعمال پر توجہ بھی مرکوز نہیں کریں گے ۔
پھر نیب ،ایف آئی اے اور پولیس سے سیاسی بھرتیوں کو ختم کرنا ہو گا آج کل ان اداروں میں تعیناتی کروانا صرف سیاسی اثر و رسوخ کی بدولت ہی ممکن ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص خود اپنی مرضی سے رشوت ستانی کے ذریعے سے نیب اور ایف آئی اے میں بھرتی ہو گا تو وہ دوسروں کا کیا احتساب کرے گا ؟ نیب اور ایف آئی اے دونوں وہ ادارے ہیں جو کہ کرپشن کے خاتمے میں حکومت کے ہراول دستے کا کردار بخوبی نبھا سکتے ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ کرپٹ اور نا اہل افسران کی موجودگی میں یہ ادارے کرپشن کے خاتمے کے بجائے اس میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں کہیں قبضہ مافیا کے ساتھ ان کا گٹھ جوڑ ہے اور کہیں بھاری معاوضے کے عوض ذاتی بغض و عناد کی وجہ سے مخالفین کے خلاف بغیر کسی تفتیش کے مقدمات کا اندراج انھوں نے اپنا وطیرہ بنا یا ہوا ہے اگر مملکت خداداد سے کرپشن کا خاتمہ واقعی حکومت وقت کی ترجیح ہو گی تو فی الفور ان اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کا احتساب ضروری ہے اور ایسے اہل اور دیانتدار افسر میرٹ پر بھرتی کئے جائیں گے جن کانصب العین ہی کرپشن کا خاتمہ ہو ۔
عدلیہ میں اصلاح کی ذمہ داری ہمارے واجب الا حترا م سب سے بڑھ کر عزت مآب چیف جسٹس صاحب کی ہے جب تک عدالتوں میں انصاف بکتا رہے گا اس وقت تک کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں پھر ملک کوملائیت کے ناسور سے باہر نکالنا ہو گا ہمارے علماء کرام کا کام معاشرے کی اخلاقی تربیت ہے اگر آج ہمارے علماء اس بات کو اپنا نصب العین بنا لیں اور معاشرے کو فرقہ واریت سے پاک اور دیندار معاشرہ بنا لیں تو یہ مملکت خداد دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا چلا جائے گا اور ہمارا شمار ترقی یافتہ ترین اقوام میں ہو گا آخر میں ایک دیانتدارانہ سوال اپنے قارئین کرام سے ہے کہ کیا یہ سب کا م ہماری سیاسی قیادت کرنے کی اہل ہے ؟ اس سوال کا جواب یہی ہے کہ وہ قیادت جو لوٹ کھسوٹ کر کے آف شور کمپنیاں بنانے میں مصروف ہو سرے محل خریدنے میں مصروف ہو یا اس کے روز و شب بنی گالہ محل میں
گزرتے ہوں ان سے کس طرح سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ غریب عوام کا دکھ اور درد محسوس کر سکتے ہیں ؟ جنھوں نے تفریح ،علاج یا بزنس کے لئے ہر دوسرے ماہ بیرون ملک کا سفر کرنا ہو ان سے کس طرح سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اس ملک کے ساتھ مخلص ہیں ؟ صرف وہی شخص اخلاص کے ساتھ ملک کی خدمت کر سکتا ہے جس کے تمام خانگی اور مالی معاملات پاکستان میں ہی ہوں اور وہ عام عوام کے لئے رول ماڈل کا درجہ رکھتا ہو !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *