اردو پیار اور انگریزی نفرت کی زبان ہے-شمس الرحمان فاروقی

shams ul rehman faroqi

فاروقی صاحب نے ۲۰۱۳ میں اپنی کتاب The Mirror of Beauty جو کہ انہی کے ایک ناول ، کئی چاند تھےسر آسماں، کا انگلش ترجمہ ہے کا تعارف انگلش سپیکنگ کمیونٹی سے کروایا۔ ٹرانسلیٹرز کی عدم دستیابی کی وجہ سے انہیں اپنی کتاب کا ترجمہ خود ہی کرنا پڑا ۔ کتاب ایک تاریخی اور افسانوی نوعیت کی ہے جس میں داغ دہلوی کی ماں وزیر خانم کی زندگی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک بہت ہی غیر قانونی قسم کی زندگی گزارنا پڑی جس میں انہوں نے چار بار شادی کی۔ان کے آخری شوہر کا نام مرزا فخرو تھا جو بہادر شاہ ظفر کے بعد دہلی میں تخت نشین ہوئے۔ کتاب میں نہ صرف مغل کلچر کے آخری دور کا ذکر ہے بلکہ یہ خانم کے دہلی کی شہری زندگی کے ساتھ تعلق کو قائم کرنے کی ایک کاوش بھی ہے۔ خانم ایک بہادر خاتون تھیں اور جا بجا ٹھوکریں کھانے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور زندگی کی مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس دوران ان کو چار ساتھیوں کے ضرورت پڑی۔
اس کے بعد فاروقی نے ۲۰۱۴ میں اپنی کتاب The Sun that Rose from the Earthکا ترجمہ پیش کیا۔ یہ کتاب شاعری کے نمونے سے بھری پڑی ہے اور اس میں مشہور شعرا غالب، میر اور مشافی کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ بھی ایک اردو کتاب کی شکل میں ۲۰۰۱ میں نمودار ہوئی تھی۔ اس کا عنوان تھا: ‘ساور اور دوسرے افسانے’ کتاب کے پہلے سبق میں غالب اور ان کے ایک پرستار کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر ہے۔ کتاب میں غالب کو دوسرے ہندوستانی شعرا سے تعصب کا پتا چلتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ لوگوں کو صرف اپنی مادری زبان میں ہی شاعری کرنی چاہیے۔
اس کے علاوہ فاروقی ایک ناقد اور رسالہ ‘شب خون ’ کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کو ۱۹۹۶ میں سرسوتی سمان کے ایوار ڈ سے نوازا گیا۔ اس انٹریو میں انہوں نے اپنی زندگی کے اہم پہلو جن میں ان کے لٹریری کرٹک، ناولسٹ اور میر کی شاعری میں شغف جیسی چیزیں شامل ہیں سے متعلق گفتگو کی ہے۔
سوال: آپ کے ناول کا بنیادی کردار وزیر خانم ہے جب کہ آپ داغ دہلوی کے بارے میں لکھنے والے تھے؟ کردار کے تبدیل ہونے کے پیچھے کیا مضمرات ہیں؟
جواب: تب میں شاعروں کی زندگی کے بارے میں کہانیاں لکھنے میں مشغول تھا اور میر تقی میر کے بارے میں لکھ بھی چکا تھا۔ ایکے دوست نے داغ کے بارے میں لکھنے کا مشورہ دیا۔ مجھے داغ کی فیملی کے بارے میں کچھ معلومات تھیں مثلا یہ کہ وہ وزیر خانم کے بیٹے تھے جو شمس الدین احمد کی بیوی تھیں ۔ شمس الدین کو انگریزوں نے پھانسی دے دی تھی۔
وزیر خانم اپنی جوانی کے دور میں ایک انگریز کے ساتھ بھاگ گئی تھیں۔ اس کی وفات کے بعد وہ شمس الدین کے ساتھ وابستہ ہو گئیں۔ شمس کی وفات کے بعد وہ اپنی بڑی بہن کے پاس گئیں اور وہا ں کسی آدمی کے ساتھ شادی کی۔ اتفاق سے وہ بھی وفات پا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے فخرو مرزا سے شادی کی جو دہلی پہ تخت نشینی کا امیدوار تھا۔
جب میں نے تفصیلی مطالعہ کیا تو میں دہلی کی تاریخ کی طرف راغب ہوا اور مجھے بہت سی دلچسپ چیزوں کے بارے میں معلوم ہوا۔ اس سلسلے میں ایک ناقد کی کتاب جس میں اس نے داغ کی شاعری کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا مجھے وزیر خانم کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔
سوال: وزیر خانم اور دہلی کی زندگی میں کیا تقابل تھا؟
جواب: اس وقت دہلی کا وقت بہت خراب چل رہا تھا۔ دہلی ہر لحاظ سے زوال کی طرف گامزن تھا۔ وزیر خانم نے ۱۴ سال کی عمر میں بھاگ کر ایک انگریز سے شادی کر لی تھی۔ وجہ کسی کو معلوم نہیں تھی ۔ میں نے اپنی کتاب میں وجہ ڈھونڈنے کی کوشش کی اور بتایا کہ انہوں نے بہتر زندگی گزرانے کے لیے ایسا کیا۔ اس دور میں بہت سی عورتیں انگریزوں سے اس مقصد کے لیے تعلقات قائم کر چکی تھیں۔
مجھے وزیر خانم کی زندگی کے پہلو دلچسپ لگے۔ وہ بہت بہادر نڈر اور دلچسپ خاتون تھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا ہر فیصلہ ان کے خلاف گیا۔ ان کے پہلے خاوند کی زندگی کا اچانک خاتمہ ہو گیا۔ انہوں نے اس سے بہتر آدمی کا انتخاب کیا جو زیادہ امیر اور تعلیم یافتہ تھا۔ لیکن وہ بھی جلد موت کا شکار بن گیا۔ انہوں نے ایک تیسرے آدمی کے ساتھ رام پور میں شادی کی۔ وہ بھی ایک امیر خاندان تھا۔ اس کے بچے کے پیدائش کے تھوڑے عرصہ بعد وہ بھی انتقال کر گیا۔ یہی ان کی قسمت تھی۔ وہ جب بھی زندگی کا آغاز بہتر انداز سے کرتی، موقع ان کے ہاتھ سے پھسل جاتا۔ یہی حالت دہلی کے تھے۔ وہاں پر ہر طرح کی اعلی شخصیات موجود تھیں لیکن پھر بھی دہلی اپنے زوال کی طرف ہی بڑھ رہا تھا۔
سوال: اس کا مطلب یہ کتاب شہر کی کہانی ہے نہ کہ عورت کی؟
جواب: ہاں یہ شہر، لوگ اور کلچر کی کہانی ہے۔ وزیر خانم کی زندگی اصل میں دہلی کے حالات کی مماثلت ہے۔ دہلی میں بہت امیر لوگ تھے۔ روزانہ آمدنی ملین سے زیادہ تھی لیکن بادشاہ کے ہاتھ کچھ نہیں آتا تھا۔ جو بھی حکمران آتا وہ دہلی کو لوٹ کے چلا جاتا اور اسطرح دہلی کو دوبارہ سے اپنے حالات سے لڑنا پڑتا۔
سوال: آپ کی تحقیقی زرائع کیا تھے؟
جواب: میں نے ہندو مسلم کلچر کا بہت زیادہ مطالعہ کیا ہے۔ تقریبا سارے شعرا کے مجموعے پڑھے ہیں۔ اس کے بعد ہی میں لکھنے کے قابل ہوا ہون۔ مجھے اہم دنوں کا پتہ چلانا پڑتا مثلا شمس کو پھانسی کس دن ہوئی، وزیر خانم کی شادی کونسی تاریخ کو ہوئی وغیرہ وغیرہ۔ میں نے بہادر شاہ کی زندگی کا مطالعہ کیا۔ امیر حمزہ کی کتاب ‘داستان’ کے مطالعہ نے بھی بہت فائدہ پہنچایا۔
سوال: آپ اس رائٹنگ کے شعبہ سے کیسے منسلک ہوئے؟ کیا آپ کی فیملی میں کوئی اور رائٹر بھی تھا؟
جواب: نہیں ایسا نہیں تھا۔ میں ۱۹۴۵ میں پیدا ہوا جب لوگوں شاعری اور اردو انگلش فارسی جیسی زبانوں سے خوب واقف تھے۔ گفتگو میں وہ اکثر شاعری سے حوالہ دیتے تھے۔ میری ابو اقبال کی شاعری سے بہت متاثر تھے۔ وہ مجھے ان کی شاعری سناتے ۔ پھر میں نے خود مطالعہ شروع کیا۔ میرے عزائم نے مجھے ان تمام چیزوں کے مطالعہ اور ا ن کے بارے میں لکھنے پر ابھارا۔
سوال: آپکا پسندیدہ رائٹر کون تھا؟
جواب: سب سے پہلے اقبال کیونکہ میرے ابو مجھے ان کی شاعری سناتے تھے۔ بعد میں میں نے ناول پڑھنا شروع کیا۔ پہلا ناول جو میں نے پڑھا وہ منشی فیاض علی کا ‘انور اور شمیم’ تھا۔ میرے لیے رائیٹنگ سب سے بہترین شعبہ تھا۔ میں نے اپنے ہاتھ سے ایک میگزین لکھنا شروع کیا تھا۔ ۱۵ سال کی عمر تک میں ایک مختصر ناول بھی لکھ چکا تھا۔ یہ ناول ایک میگزین میں قسطوں میں شامل کیا گیا۔ البتہ رائیٹنگ میرا اصل مقصد نہیں تھا۔ میں انگلش اور دوسرے زبانیں سیکھنا اور پروفیسر بننا چاہتا تھا جس سے میں اپنے عوام کی خدمت کر سکوں۔
سوال: پھر آُپ لٹریری کرٹسزم سے منسلک ہو گئے؟
جواب: جی ہاں۔ وہ تو میں بہت پہلے سے تھا۔ اپنا رائٹنگ کیریر شروع کرنے سے پہلے بھی۔ مجھے شوق تھا کہ میں شعرا کے لکھنے کے طریقے اور ان کی شاعری میں فرق کرنا جان سکوں۔ پھر میں نے انگلش ناقدین کو پڑھنا شروع کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ انگلش کے ناقدین کا کام اردو سے کہیں زیادہ مشکل اور کٹھن ہے۔ ایک لٹریری کرٹک کے لیے ضروری ہے کہ اسے زبان کا مکمل علم ہو۔ اسے ہر طرح کے شعرا اور شاعری سے واقفیت ہو۔
سوال : آپ نے میر سے متعلق چار والیمز لکھے ہیں؟
جواب : جی ہاں۔ مختلف ناقدین کی تحریریں پڑھنے کے بعد مجھے لگا کہ انہوں نے میر کی شاعری کو صحیح طرح سے سمجھا نہیں ہے۔ میں نے فورا ان کی ساری شاعری کا مطالعہ کیا ۔ معلوم ہوا کہ وہ بہت اچھے شاعر ہیں۔ البتہ انکا انداز غالب سے بہت الگ ہے۔ وہ اپنے ریڈر سے بہت اچھے طریقے سے ایک دوست کی طرح محو گفتگو ہوتے ہیں۔
سوال: آُ پ نے ان کتابوں کو انگلش میں ٹرانسلیٹ کیوں کیا؟
جواب: اپنے مداحوں کے اصرار پر مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ اب زیادہ لوگ ان کتابوں میں موجود معلومات سے رسائی رکھتے ہیں۔ البتہ میں اپنے آپ کو انگلش سے زیادہ اردو رائٹر سمجھتا ہوں۔ پہلے میں انگلش میں لکھنے کا بہت شوقین تھا اس خیال کی بنا پر کہ میں انگلش بہت اچھی طرح جانتا ہوں لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ انگلش کو پورے طور پر جان لینا ابھی بہت دور ہے۔ Panguine چاہتے تھے کہ اس کتاب کو تمام ہندی زبانوں میں ترجمہ کریں لیکن کوئی بھی انگلش ٹرانسلیٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے مجھے ہی اسے ٹرانسلیٹ کرنے کو کہا۔ پانچ سال گزر گئے اور میری بیٹیوں نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں ہی اس کام کو سر انجام دوں۔
سوال : آپ نے کہا ہے کہ اردو پیار اور انگریزی نفرت کی زبان ہے۔ ایسا کیوں؟
جواب۔ اس لیے کہ اردو میں پیار کے 18 الفاظ ہیں جب کہ انگریزی میں ایک ہی لفظ ہے۔ اس کے بر عکس اردو میں ایک ہی لفظ نفرت ہے جب کہ اس کے انگریزی میں کئی الفاظ ہیں۔

source:http://fountainink.in

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *