انسانی اسمگلنگ اور حکومتی ذمہ داری

Malik Salman

اگر کبھی پاسپورٹ آفس جانے کا اتفاق ہو تو روزانہ حصول پاسپورٹ کیلئے لگی لمبی قطاریں دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے ہر کوئی پاکستان چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتا ہے۔پاکستان کے ابتر معاشی حالات کا رونا رو کر ہر کوئی بیرونِ ملک جانے کیلئے بے چین نظر آتا ہے،جس کی ابتری اور معاشی بدحالی کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں۔ملک میں امن و مان کی بگڑتی ہوئی صورت حال ،غربت و بیروزگاری کے باعث نا امیدی اور بے یقینی کی کیفیت میں وطنِ عزیز پاکستان کے نوجوانوں میں بیرون ملک جانے کی خواہش شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ روشن مستقبل اور معاشی بہتری کے سہانے خواب آنکھوں میں سجائے بیرون ملک جانے کے خواہشمند نوجوان اکثر ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں،جو انھیں بھاری رقم کے عوض بہتر مستقبل کا خواب دکھا کر بیرون ملک بجھوانے کا جھانسہ دے کراپنے جال میں پھنسالیتے ہیں۔
سادھ لوح لوگوں کو لوٹنا’’ فراڈی حضرات‘‘کا انتہائی آسان روزگار اور مفید مشغلہ بن چکا ہے۔ ایک بندہ ’’وزٹ ویزہ‘‘ پر دبئی کیا چلا جاتا ہے وہ واپس آتے ہی سب کو بیرون ملک بجھوانے کا دھندہ شروع کر دیتاہے۔ورک پرمٹ پر بیرون ملک جانے والے افراد کی اکثریت دیہات اور قصبوں سے ہوتی ہے اور دیہاتی لوگ اپنی محدود سوچ اور سادگی کی وجہ سے شہر میں کسی رجسٹرڈ ادارے کی بجائے علاقے کے افراد کے زریعے جانے کو ترجیح دیتے ہیں،مگر یہ پہلو انکولُٹنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ اپنے ہی حصول زر کی ہوس میں پرائے ہوچکے ہوتے ہیں۔جہاں تک شہر کے رجسٹردمین پاورز ادروں کی بات ہے تو ان میں سے بھی کچھ نام نہاد رجسٹرڈ بڑے بڑے اداروں کے کرتوت اتنے ہی چھوٹے ہیں۔ایک سابق برٹش ہائی کمشنر کے مطابق ویزوں کے نام پر ہونے والے فراڈ میں پاکستان کا نام نمایاں ہے اسی لیے برطانوی ویزہ کیلئے آنے والی ہر درخواست کو تسلی سے چیک کیا جاتا ہے۔دیگر مما لک میں بھی پاکستانیوں کیلئے ویزہ کا حصول مشکل سے مشکل ترہوتا جا رہا ہے۔
منظر عام اور رپورٹ ہونے والے کیسز کے مطابق اندازاً پاکستان میں ہرسال 25ہزار کے لگ بھگ افراد ان فراڈیوں کے ہاتھوں لٹ جاتے ہیں جبکہ یہ تعداد اصل کا بمشکل صرف 20فیصد ہے۔’’تعلق خراب نہ ہو‘‘’’ وہ بڑے لوگ ہیں ان سے لڑ نہیں سکتے‘‘ان کی بہت پہنچ ہے جیسے عوامل کی وجہ سے متاثرین کی بڑی تعداد چپ سادھ لیتی ہے اور اپنی رقوم کی واپسی کیلئے دربدر دھکے کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔یہ فراڈیئے آج کل پرسوں کے بہانے بنا کر مہینوں ٹرخاتے رہتے ہیں اور پھر پول کھل جانے کے بعد پیسوں کی واپسی کیلئے یہ کہہ کر لمبا ٹائم فریم دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بھی فراڈ ہو گیا ہے۔ فراڈئیے جو اپنی مستقل ہڈ حرامی کی عادت کی وجہ سے محنت سے رزقِ حلال کا ایک روپیہ کمانے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے۔’’ہمارے جوتے ہمارے سر‘‘کے مترادف لوگوں کو کروڑوں کا چونا لگانے کے بعد اس میں سے کچھ رقم پولیس اور صاحب اقتدار لوگوں کو کھلا کر بڑے تعلقات والے بن جاتے ہیں اور یوں ان فراڈیوں پر قانون کے لمبے ہاتھ نہیں پہنچ پاتے۔خون پسینے اور محنت سے کمائے لاکھوں روپے اجاڑنے والے غریب افراد جو بیرون ملک جا کر ڈالر اور درہم کمانے کے خواب دیکھتے ہیں،بیچارے روپے روپے کیلئے ترستے ہیں۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ،ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ بیرون ملک جانے کے خواہش مند افراد سے لاکھوں روپے بٹورنے کے بعد کچھ انسانیت دشمن عناصر دولت کی ہوس اور لالچ میں اس قدر اندھے ہوجاتے ہیں کہ انسانی اسمگلنگ جیسی گھٹیا اور شرمناک حرکات میں ملوث ہو کر ہزاروں لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔اس ضمن میں ایران کا طویل بارڈرسب سے بڑا چور رستہ بن چکا ہے جہاں یورب جانے کیلئے ایران اور پھر ترکی کے راستے کنٹینرز اور کشتیوں کے ذریعے یورپی ممالک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس دوران جن پُر خطر اور غیر قانونی رستوں سے گزرنا پڑتا ہے اس کی تفصیل بہت لمبی اور چونکا کہ رکھ دینے والی ہے مگر یہاں مختصراً بات کی جائے تو لوگوں کو سبز باغ دکھانے والے لٹیرے یہ کہہ کر کہ کوئی مسئلہ ہی نہیں سب سیٹ ہے لاکھوں روپیہ بٹورٹے ہیں اور بعد میں کبھی نہ ختم ہونے والے مصائب کے حوالے کر دیتے ہیں۔کنٹینرز اور کشتیوں میں چھپ کے غیر قانونی داخلے کے خواہشمند افراد میں سے بمشکل 10فیصد ہی کامیاب ہوپاتے ہیں ۔جبکہ اکثریت زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں یا پھر گرفتار ہوکر ذلت و خواری ان کا مقدر بن جاتی ہے۔اس صورت حال پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے علاوہ اقوام متحدہ نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ،انھی محرکات کی وجہ سے بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو سخت پابندیوں کا سامناہے۔
انسانی اسمگلنگ کے ایسے واقعات سے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ غیر قانونی اور چور راستوں سے بیرون ملک جانے والے پاکستانی پکڑے جاتے ہیں یا پھر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔سالانہ ہزاروں افراد گرفتار ہو رہے ہیں ،سمندر میں ڈوب کراور کنٹینر میں دم گھٹنے یا الیکٹرک کرنٹ سے مرنے والے افراد کی ہولناک داستانیں سن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
مگر حکومتی ذمہ داران اور سکیورٹی اداروں کی خاموشی معنی خیز ہے۔یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ ا نسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹ ملک بھر میں سر عام دندناتے پھرتے ہیں اور معصوم نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے ،کیوں کہ انھیں’’بڑوں‘‘کی آشیر باد اور سرپرستی حاصل ہوتی ہیں۔حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کرے بلکہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث اور سرپرستی کرنے والے افرادکی نشان دہی کی جائے اور اس گھٹیا جرم کے مرتکب افراد کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی انسانی اسمگلنگ جیسے انسانیت سوز دھندھے کا سوچے بھی نہیں۔ایسے میں ہمیں بھی اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا نہ صرف نوسربازوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے بلکہ دولت کی ہوس میں اندھے ہو کر غیر قانونی راستے اختیار کرنے سے بعض رہنا ہو گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر گلی محلے میں قائم ان ناجائز مین پاورز سینٹرز کو فی الفور بند کیا جائے اور ایسے عناصر کو پابند سلاسل کر کے قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے سخت سے سخت سزا دی جائے تا کہ آئندہ کسی غریب کی زندگی بھر کی کمائی ان بڑے تعلقات والے فراڈئیے نہ کھا سکیں اورآنکھوں میں کامیابی کے سنہرے خواب سجانے والے نوجوان کسی انسانی سمگلر کے ہتھے چڑھ کر زندگی بھر کیلئے غلام نہ بن جائیں اور ایک ایک پیسہ جمع کر کے بیرون ملک بھیجنے والے والدین اس بات سے لاعلم ہوں اور ان کے پیارے کسی کنٹینر میں بجلی کے کرنٹ سے بھیانک موت مر گئے ہوں۔حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی امن و امان کی خراب صورت حال کو بہتر کرے اور نوجوانوں میں پھیلتی ہوئی مایوسی اور ناامیدی کی کیفیت کو ختم کرنے کیلئے انھیں باعزت روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرے تاکہ انکی مثبت اور تعمیری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انھیں وطنِ عزیز پاکستان کیلئے کارآمد شہری بنایا جاسکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *