’’آئی ایم ملالہ‘‘ کے چند گم شدہ حصے(اوریا صاحب کی نذر)

qasim yaqoob
انتہا پسندی کیا ہوتی ہے؟ یہ سوال ہمارے جیسے معاشروں میں بار بار کیوں اُٹھایا جارہاہے۔ کیا ہم ’’انتہا پسند‘‘ قوم بن چکے ہیں؟یا دہشت گردی ہمیں ورثے میں ملی ہے؟ دہشت گردی اور انتہا پسندی میں کیا چیزیں مشترک ہیں۔ کیا دہشت گرداپنی مجموعی زندگی میں انتہا پسند ہوتا ہے یا کوئی ایک واقعہ اُسے انتہا پسندانہ قدم اٹھانے پہ مجبور کرتا ہے؟ موجودہ سماجی صورتِ حال میں یہی ایک سوال ہر فکر پر حاوی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔سماجی فکر کا کوئی بھی شعبہ دیکھ لیں، وہاں فکر ی سطح پر انتہا پسندی غلبہ کئے ہوئے ملے گی۔ سیاست ہو، مذہب ہو، یا تعلیم کا میدان، انتہا پسندی ہر سطح پر اپنے پنجے گاڑے ملے گی۔ انتہا پسندی نے زندگی کی خواب بھری نیند کو بے چینی سے مربوط کر دیا ہے۔ زندگی کا ہر شعبہ انتشار کا شکار ہو گیا ہے۔ زندگی کی اس سواری کواب اکھڑے راستوں سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
اگر اسی سوال کو سب سے پہلے دیکھ لیا جائے کہ انتہا پسندی کسی ایک واقعہ کا نتیجہ ہے یا دہشت گرد کی مجموعی فکر ہی انتہا پسند ہوتی ہے تو میرے خیال میں ہمیں دہشت گرد کی مجموعی زندگی پر نشان لگانا پڑے گا۔ انتہاپسندی کوئی ایک واقعہ کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ زندگی پر محیط فکری فلسفہ ہے جو قطرہ قطرہ ٹھاٹھیں مارتے دریا کی شکل اختیار کرتا ہے۔ جو ریزہ ریزہ کسی سنگلاخ چٹان کی صورت عیاں ہوتا ہے۔ انتہاپسندی کسی شخص پر ایک دم حملہ آور نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ اپنا وار کرتی ہے۔اور بلاخر خطرناک نتائج کی صورت میں سامنے آتی ہے۔اصل میں انتہا پسندی اپنی فکر، سماجی رویوں اور اپنے تاریخی بیانیوں کو حتمی سمجھنے اور مسلط کرنے کا نام ہے۔ انتہا پسند اپنے قائم کئے ہوئے دلائل کے حصار میں اس قدر پھنس جاتا ہے کہ اُسے اپنے دلائل کی چکا چوند کے آگے ہر طرح کی روشنی مدھم محسوس ہونے لگتی ہے یوں وہ اپنے دلائل کی برتری اور غلبے کی عملی شکل دیکھنا ناگزیر سمجھتا ہے۔جب بھی کوئی انتہا پسند سماجی رویہ یا فکر اپنا اثبات کروانے لگتی ہے تو وہ پہلے سے رائج فکروں اور رویوں کو رد کرتی ہے۔ بظاہریہ ایک فطری عمل ہے کہ ایک کا وجود دوسرے کو تبدیل(Replace)کررہا ہے مگر یہ فطری عمل اُس وقت ایک غیر فطری رویہ بن جاتا ہے جب ایک فکر اپنے حصار میں پھنس کے پہلے سے موجود فکر یا رویے کے وجود ہی سے انکار کر دے بلکہ اُسے ختم کرنے اور اپنا آپ مسلط کرنے پر ڈٹ جائے۔
انتہا پسند فکر کا حامل شخص ہر حال میں اپنے نظریے اور بیانیے کو دوسرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے بیانیے کو اس لیے مسلط کرنا چاہتا ہے کیوں کہ وہ اسے اپنے سماجی تناظر میں بالکل ٹھیک سمجھتا ہے۔ اگر وہ اس تسلط کے عمل میں کوئی کوتاہی محسوس کرے تو وہ اس کوتاہی کو دور کرنے کی کو شش بھی کرتا ہے۔ اُسے یہ محسوس کرنے کی ضرورت پیش ہی نہیں آتی کہ اُس کی فکر یا بیانیے میں کوئی کوتاہی ہے اور وہ اپنی فکر میں سماجی توجیح کے ساتھ اسے تبدیل کرے۔ وہ اس کا حل کبوتر کی طرح اپنے آنکھیں بند کر کے بلی کے غائب جانے والے منظر کی تشکیل سے کرتاہے۔ انتہا پسند فکر اپنی فکری کج رویوں کو نہیں مانتی۔ وہ اپنے مخالف موجود بیانیے کو تبدیل کرنے اور اس کے مندرجات کو بدلنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ انتہا پسند فکر کے سامنے فکری دلائل سے زیادہ ایک ہدف موجود ہوتا ہے۔وہ اپنے ہدف کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کے عمل سے گزرتی ہے۔یہ ہدف اگر آگ کے دریا کے پار بھی ہو تو انتہا پسند اس میں غوطہ زنی سے پرہیز نہیں کرتا۔
پچھلے دنوں ملالہ یوسف زئی کی کتاب ’’آئی ایم ملالہ‘‘ شائع ہوئی تو کچھ اسی قسم کی انتہا پسند فکری رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کتاب کے مندرجات کو جس طرح انتہا پسندفکری لبادہ پہنایا گیا اس کی مثال بہت کم دیکھنے میں آئی۔پاکستانی معاشرہ عمومی طور پر انتہا پسند رویوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔معاشرے میں سماجی اور سیاسی بے ترتیبی نے زندگی کے ہر شعبے کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے جاری گوریلا جنگ نے معاشرے کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طبقہ مذہبی فکر کے مندرجات کو معاشرتی و سماجی فکروں پر حاوی نہیں کرنا چاہتا۔ یہ طبقہ سمجھتا ہے کہ مذہب کو ذاتی یاداخلی حدود تک مقید کر دینا چاہیے۔ وہ مذہبی فکر کو سیاسی حیثیت دینے کو تیار نہیں ۔ اُن کے نزدیک مذہبی فکر کی بالادستی نے سماج کو سائنسی اندازِ فکر اور موجودہ منظر نامے کے اندر سوچنے کی بجائے طے شدہ اصولوں سے ماپا جس نے بہت سی کوتاہیاں سر زد ہورہی ہیں۔ اینٹی مذہب طبقے کے ہاں مذہب کی فکری و عقیدائی حیثیت سے انکار نہیں بلکہ اُس کے سماجی فکر پر مسلط کرنے کے خلاف رویہ ملتا ہے۔ یوں اس طبقے نے مذہب کے نام سے ہونے والی ہر سرگرمی کو شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا۔ سماجی سطح پر کسی بھی قسم کی سرگرمی میں اگر مذہب یا مذہبی ہمدردی کا پہلو نکلتا ہو تو یہ طبقہ فوراً اُس کی نفی کرنے کو اپنا حق سمجھتا ہے او اس ضمن میں مخالفت کو ایک اہم فرض کی تکمیل گردانتا ہے۔پہلاطبقہ مذہب سے ہر طرح کی سماجی فکر کا ظہور دیکھتا ہے۔ اس فکر نے بھی نے اپنے مخالف رویوں کو مذہب کے خانے میں رکھ کر دیکھنا شروع کر دیا۔ کسی بھی قسم کی فکر ہو یا سرگرمی اُس میں اگر مذہبی تصدیق نہیں ہو سکتی تو وہ باطل قرار دے دی گئی اور اگرمن مانی مذہبی دلیل اُس کو رد کر دے تو وہ کسی بھی طرح قبول نہ کرنے کا حکم صادرکیاجاتا ہے۔
ملالہ یوسف زئی کی کتاب’’آئی ایم ملالہ‘‘ کے چھپنے کے بعد کچھ اسی قسم کی انتہا پسندی کا سامنا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہُوا انتہا پسندی کو اپنا ہدف عزیز ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے موقف میں کسی بھی قسم کی کمزروی قبول نہیں ہوتی ۔اس لیے ملالہ کی کتاب نے فریقین کو کتاب پڑھنے پر مائل نہیں کیا بلکہ اپنے اپنے مورچوں میں بیٹھ کر اپنے اپنے نظریات کے دفاع کا موقع فراہم کر دیا ہے۔
گذشتہ دنوں جب ملالہ یوسف زئی کی کتاب چھپی تو فوراً جس ردعمل نے جگہ بنائی وہ ’کتاب کا’اسلام مخالف‘‘ پایا جاناتھا۔ یعنی’’ اس کتاب میں بے پناہ ایسا مواد موجود ہے جس نے اسلامی افکار کی بنیادی فکریات کو ادھیڑ کے رکھ دیا ہے۔ نیز یہ کتاب ایک سولہ سالہ بچی کی لکھی ہوئی نہیں بلکہ مغربی میڈیا اور اسلام مخالف قوتوں نے اپنی من پسند تحریر بنا کر پیش کیا ہے۔ چوں کہ ملالہ ایک ’مغربی ماڈل ‘بن چکی ہے اس لیے پاکستان اور اسلام کے خلاف استعمال کرنے سے ان شر پسند قوتوں کو یک گونہ کامیابی مل سکتی ہے اور پھر ہُوا بھی یوں۔ کتاب کے مندرجات نے اسلامی قلعے کی قلعی کھولنے کی کوشش کی جس میں ملعون رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات‘‘، قادیانیوں اور شیعوں کے بارے میں عجیب اور قابلِ اعتراضات باتیں،جناح کو ہدفِ ملامت بنانے کی کوشش، صحابہ کی بجائے اسکندر اعظم کو اپنا رول ماڈل بنانے کی خواہشات کا غلبہ ملتا ہے۔
مذکورہ اعتراضات خدا جانے کہاں سے گھڑ لیے گئے ہیں۔ میں نے متعدد بار کتاب کے ان صفحوں کو پڑھا ہے جن میں مذکورہ بالا قابلِ اعتراضات اشارے پائے گئے۔ مگر ان میں ایسی کوئی بات نہیں۔ کتاب پر بات کرنے سے پہلے کتاب کے بارے میں یہ جان لینا ضروری ہے کہ یہ کتاب ہرگز ملالہ کی خود لکھی ہوئی نہیں اور نہ ہی ملالہ نے اس کو ذاتی حیثیت سے شایع کروایا۔ یہ کوئی باقاعدہ کتاب نہیں بلکہ کرسٹینیا لیمب کی ملالہ کے ساتھ ہونے والی مکالماتی گفتگو ہے۔ جس میں اُس کے فیملی کے افراد بھی گاہے گاہے شامل ہوتے رہے۔ کیوں کہ کرسٹینا آخر میں لکھتی ہے:
Thanks to Malala and her wonderful family for sharing their story with me"(p 272)
کرسٹینانے ہی ابواب بندی کی ہے اور اس نے ہی گفتگو کو مکالماتی انداز سے الگ کر کے رواں نثر کا روپ دیا ہے۔لہٰذا ایسے بہت سے سوالات جن کے بارے میں حیران ہوا جا رہا ہے کہ ملالہ نے فلاں فلاں کے بارے میں کیوں جواب دیے، کرسٹینا کے سوالات کی وجہ سے بھی آ گئے ہیں۔ کتاب دو چار دنوں میں نہیں کئی ہفتوں کی گفتگو کا نچوڑ ہے۔ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے جس میں پہلا باب Before the Talibanہے جو صرف 90صفحوں پر مشتمل ہے اسی باب میں ملالہ نے اُن خیالات کا اظہار کیا ہے جس پر ہمارا ایک طبقہ بغیر پڑھے سیخ پا ہے۔ اسی باب میں ملالہ اپنے ابتدائی ایام کا نقشہ بھی پیش کرتی ہے اور خاص کر اپنے دادا کی خوبصورت زندگی بھی کھل کر سامنے لاتی ہے۔ وہ اپنے دادا کے بارے میں بتاتی ہے:
My grandfather was famous for his speeches . He tought theology in the government high school in the villlege of Shahpur. He was also an IMAM at local mosque. He was a mesmerising speaker. His sermons at friday prayers were so popular that people would come down from the mountains by donkey or on foot to hear him"
دوسرے بابThe Valley of Death میں وہ اپنی وادی سوات میں طالبان کے ورود کا حال بتاتی ہے اور اسی دوران وہ ایک ڈائری لکھتی ہے۔ وہ اپنا سفر کس طرح شروع کرتی ہے، اس کے واضح اشارے وہ جگہ جگہ دیتی ہے پھر بھی ہمارے ہاں اس کہانی کو پراسرار کرکے پیش کرنے میں لطف لیا جا رہا ہے۔ طالبان نے جب سکول گرانے شروع کئے تو وادی کے بچوں کو فکر لاحق ہوئی اور اسی دوران کچھ میڈیا والے حالات کی کوریج کرنے پہنچ گئے، وہ لکھتی ہے:
ٓA Group of us girls gave an interview on Khaiber, the only privately owned Pashto television channel..... Teachers Helped us beforehand on how to respond to questions.I was not the only one to be interviewed.(p 117)
یعنی ملالہ پہلی بچی نہیں تھی جس نے اکیلا انٹرویو دیا اور اُس کو باقاعدہ بتایا بھی گیا کہ میڈیا کے سامنے کیسے بات کرنی ہے۔ بعد میں وہ بتاتی ہے کہ وہ اُن تمام بچیوں سے آگے نکل گئی کہ اُن کے والدین نے انھیں بلوغت کی وجہ سے میڈیا کے سامنے رہنے سے منع کر دیا یوں وہ اکیلی جیو ٹی وی گئی۔صفحہ 118پر وہ لکھتی ہے کہ اُسے بی بی سی کے وسعت اللہ خان( مشہور کالم نگار) نے بھی بلایا۔وہ بتاتی ہے کہ وہ اپنے والد کے ساتھ گئی اُس کے سفر میں اُس کے والد کے دوست فضل مولا اور اُس کی بیٹی بھی ساتھ تھی۔ انھوں نے سکولوں کی تباہ شدہ حالت بتانا تھی کہ کس طرح طالبان سکول تباہ کر رہے ہیں اور بچیوں کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ملالہ کہتی ہے: I was a bit nervous but I knew it was important as many people all over the Pakistan would be listening.
ملالہ نے اپنے کاز کو کھل کر بیان کیا ۔ وہ ایک ایسی بچی کے روپ میں سامنے آتی جا رہی تھی جس نے طالبان مخالف نہیں بلکہ اپنے تعلیمی حقوق کی جنگ کا بیڑا اُٹھا لیا ہو۔ وہ ہر جگہ سکول اور تعلیم کی بات کرتی۔ میڈیا ان حالات میں اینٹی ڈسکورس پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے خصوصاً جب مغرب طالبان مخالف رویوں کے طور پر بھی دیکھ رہا ہو۔ ملالہ ان حالات میں میڈیا کو اس غیر تہذیب یافتہ سرگرمی کے خلاف مقامی آواز مل گئی۔ میڈیا نے طالبان کی مخالفت کی آڑ میں یہاں کے سکولوں کی تباہ شدہ حالت کو علم دوشمنی کے روپ میں پیش کیا۔ ملالہ یوسف زئی چوں کہ ایک طالب تھی لہٰذا ملالہ نے اس کاز کو خوب نبھایا۔ وہ آگے جا کر)p 129)پر اپنی ڈائری پر گفتگو کرتی ہے:
It was During one of those dark days that my fathers received a call from his friend abdul Hai Kakar, a BBC radio correspondant based in peshawar. He was looking for a female teacher or a schoolgirl to write a diary about life under the Taliban.He wanted to show the human side of catastrophe in Swat. Initially Madam Maryam's younger sister Ayesha agreed, but her father found out and refused his permission saying it it was too risky.(p29)
میرے خیال میں مذکورہ بیان کے بعد کوئی سازشی منصوبہ قائم نہیں رہنا چاہیے کہ ملالہ کی ڈائری کے پئچھے کیا محرکات ہیں۔ یہ سارا عمل اصل میں سکول گرانے کے خلاف ایک تحریک کے طور پر ہو رہا ہے جس میں میڈیا پیش پیش ہے۔ جب تک مقامی لوگ اس کے خلاف تحریک نہیں چلاتے، احتجاج نہیں کرتے تب تک یہ کاز مکمل نہیں ہو سکتا ہے۔ ملالہ ایک باہمت اور حوصلہ مند لڑکی تھی جس کو اپنے والد کی بھر پور مدد حاصل اور رہنمائی حاصل تھی۔ اس کی وجہ شایا دیہ بھی تھی کہ ملالہ کا باب خود ایک سکول کا مالک تھا ایسا کرنا اُس کی مجبوری بھی تھا۔
کتاب کا بیشتر حصہ ملالہ کے اپنے اُن حالات پر مشتمل ہے جہاں اُسے طالبان فکر کے حامیوں اور سکولوں کی تباہ شدہ حالت کے مایوس کر دینے والے منظر سے گزرنا پڑتا ہے۔ تیسرا بابThree
Bullets, Three Girls اُن واقعات پر مشتمل ہے جب ملالہ پر گولی چلائی گئی ملالہ کہتی ہے کہ ایک نواجوان جس نے اپنے منہ کو کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا ہماری وین کو روک کر پوچھتا ہے کہ کیا یہ خوشحال سکول کی وین ہے حالاں کہ وین کے اوپریہ لکھا ہوا تھا۔ ڈرائیور سمجھا کہ کوئی میڈیا کا آدمی انٹرویو لینے آیا ہے۔ مگر وہ ایک دم پسٹل لہراتے ہوئے پوچھنے لگا تم میں ملالہ کون ہے اور یوں اُس نے مجھ پر تین فائر کر دیے جو میرے ساتھ دو اور لڑکیون کو بھی لگے۔یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ملالہ پر ملک دشمنی کا الزام لگایا جا رہا ہے مگر اُسے آرمی نے ہی سب سے پہلے اپنی نگرانی میں تمام علاج معالجہ کروایا اور آئی ایس پی آر براہِ راست اس معاملے کی بریفنگ دیتی رہی۔
کتاب کا چوتھا باتBetween life and deathاور پانچواں باب A Second Lifeجیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے کہ اُن تمام حالات و واقعات کو احاطہ کرتے ہیں جو ہسپتال اور بعد کی یعنی کتاب کے شائع ہونے تک کی زندگی پر مشتمل ہیں۔
کتاب پر جن باتوں پر اعتراضات کیا جا رہا ہے وہ ہر گز متنازع نوعیت کی نہیں۔ اُن کو سیاق و سباق سے ہٹاکر پیش کرنے سے سارا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے یا جان بوجھ کے مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ ملالہ نے کہیں بھی Judgementنہیں دی یعنی وہ کہیں بھی اپنی رائے کا اظہار کرتی نظر نہیں آتی خصوصاً جب وہ کسی واقعے کی تاریخی نوعیت کا حال بتاتی ہے۔ لال مسجد کا پس منظر بتاتے وہ سارا واقعہ کہتی جو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ لال مسجد کے تنازعے میں مساج سنٹرز اور مساجد کی شہادت والا کیا معاملہ چل رہا تھا۔ یوں وہ TTPکے قیام کی وضاحت تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح وہ مشرف کے مارشل لا لگانے کے تمام واقعات کو بیان کرتی ہے جو تقریباً تمام معلوماتی خبروں کی نوعیت کی حامل ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ وہ مشرف کو یہاں تک کہتی ہے: Musharraf then seized power and threw Sharif into a dungeon in Attock Fort. Some people Celebrated by handling out sweets as Sharif was unpopular but my father cried when he heard the news. He had thought we were done with militry dictatorships.
ایسی کئی باتیں جگہ جگہ ملیں گی جو پاکستان یا عوامی امنگوں کے بے حد قریب ہیں مگر معترضین نے ان کا حوالہ دینا مناسب نہیں سمجھا۔ یہاں بھی وہ نواز شریف کی بجائے صرف ’’نواز‘‘ کہتی ہے۔ مگر اسی تناظر میں اُس کا ’’جناح‘‘ کہا ہوا ایک تنازعہ کھڑا کر دیتا ہے۔ ایسے رویے بھی ہماری قومی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
اصل میں کتاب کو کرسٹینا نے لکھا ہے اور ملالہ کی تمام گفتگو ایک مغربی صحافی کو انٹرویو کی طرح لکھی گئی ہے جیسے وہ ایک غیر ملکی کو اپنے ملک کے بنیادی مسائل سے آگاہی اور معلومات کی حد تک حالات بتانا چاہ رہی ہو۔ اسی لیے قائد اعظم کو ’’جناح ‘‘اور پاک پیغمبر(Holy Prophet)کے آگے ﷺ نہیں ڈالا گیا۔ کیوں کہ یہ ایک مغربی صحافی کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور جس کا پہلا ریڈر مغربی شہری ہی ہے۔اگر آپ کتاب میں موجود شخصیات کو الگ کر کے دیکھیں تو کسی بھی شخص کو ہمارے کلچر کے مطابق نہیں لکھا گیا۔ جیسے جنرل پرویز مشرف کو صرف’’ مشرف‘‘، جنرل ضیاالحق کو’’ ضیا‘‘ ، حضرت ابو بکر صدیقؓ کو صرف ’’ابو بکر‘‘ ، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو صرف ’’گیلانی‘‘ ہی کئی جگہوں پر کہہ دیا گیا ہے۔ ورنہ وہ قائد اعظم کے بارے میں تو ایسے بھی کہتی ہے:We needed to visit the mausoleum of our founder and great leader Mohammad Ali jinnah.(P 185)
اب میں آتا ہوں اوریا مقبول جان کے ایک کالم کی طرف جس کو پڑھ کر تقریباً ہر صحافی اور ہر صاحبِ رائے آدمی نے اپنی رائے بنا لی۔ میرے نزدیک اوریا مقبول کا کالم ہرگز اہم نہیں اور نہ ہی اُن کے دلائل کسی اہم فکری فضا کوتحریک دیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ کالم کی زبان اور Contentنہایت عامیانہ اور غیر مدلل ہے مگر کیا کیا جائے اس کو پڑھ کر ہر کونے سے ملالہ کے خلاف اور غیر منطقی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ میں نے اس کالم کی اشاعت کے بعد لگ بھگ 14کالم دیکھے ہیں جو ملالہ کی کتاب کے موضوع کا احاطہ کرتے ہیں۔مگر افسوس نہ تو اوریا کے حق میں نہ ہی اوریا مقبول کے خلاف کسی نے مدلل کالم آئی کی ہو۔ حتی کہ ٹی وی شوز میں بھی اسی کالم کی بازگشت سنائی دی۔ میں نے بھی جب یہ کالم پڑھا تو فوراً کتاب کی طرف رجوع کیا اور یہ جان کر حیران ہو گیا کہ اوریا مقبول نے کس چالاکی سے اپنے مطلب کے Contentکو پوری کتاب کا موضوع بنا کر غیر علمی انداز سے اس علمی ڈسکورس کا تہس نہس کر دیا ہے۔ میں یہاں اُن اقتباسات کا حوالہ دینا چاہوں گا جن کی بنیاد پر ملالہ کی کتاب ’’ آئی ایم ملالہ‘‘ کو زیرِ بحث لایا گیا ہے مگر کسی نے بھی اس اصل ٹیکسٹ کی طرف رجوع کرنے کی کوشش نہیں کی۔
کتاب کا سب سے زیادہ متنازعہ موضوع سلمان رشدی کی کتاب ’’شیطانی آیات‘‘ پر گفتگو ہے ۔ یہ گفتگو جس باب میں ہے اُس کا نام ہے Growing up in a school۔اس میں ملالہ صرف اپنے ابتدائی ایام پر گفتگو نہیں کرتی بلکہ اُس کی گفتگو میں اُس کے والد کے تجربات بھی در آتے ہیں۔ جنرل ضیا کے دورپر سوالات کے جواب میں وہ سلمان رشدی والے ہنگاموں کی وضاحت کرنے لگتی ہے۔ وہ کہتی ہے:
Two days later Ayatollah Khameni, the supreme leader of Iran , issued a fatwa calling for Rushdie's assassination.My father's College held a heated debate in a packed room. Many students argued that the book should be banned and burned and the fatwa uphold. My father also saw the book as offensive to Islam but he believes strongly in freedom of speech. First's lets reads book and then why not respond with our own book; he suggested.
(p37)
(دو دن بعد ایران کے بڑے رہنما آیت اللہ خمینی نے رشدی کے قتل کا فتویٰ جا ری کر دیا۔ میرے والد کے کالج میں بھی ایک بند کمرے میں اس پر گرم گفتگو ہوئی ۔بہت سے طلبا کہہ رہے تھے کہ اس کتاب کو بین اور جلا دینا چاہیے اور اس کے خلاف فتویٰ دیا جانا چاہیے۔ میرے والد نے بھی اس کتاب کو اسلام کے منافی پایا۔ چوں کہ اُن کا آزادئ اظہار پر بھی یقین ہے ۔انھوں نے تجویز دی کہ کیوں کہ پہلے اس کتاب کو پڑھا جائے اور پھر اس کے خلاف ایک کتاب لکھی جائے۔)
میری سمجھ سے بالا ہے کہ ملالہ نے کب کہا ہے کہ آزادی اظہار سلمان رشدی کے لیے ہے۔ آزادی اظہار اگر سلمان رشدی کے لیے ہے تو پھر اُس کے خلاف کتاب کیوں لکھی جائے؟ آزادی اظہار کا بیان جنرل اظہار ہے۔ اب آپ اوریا مقبول کے الفاظ سنیں :’’اُسے کس نے یہ لکھنے پر مجبور کیا کہ سلمان رشدی کو’’ آزادئ اظہار ‘‘کے تحت یہ پورا حق تھا؟‘‘____آپ خود دیکھیے کہ کس طرح یہ جنرل بات کو سلمان رشدی کے ساتھ منسلک کی گئی اور پھر کہا گیا کہ اُسے پورا حق ہے؟ _____یہ پورا حق کہاں کہا گیا ہے؟ اتنا صریحاً جھوٹ اور ٹیکسٹ کو تبدیل کرنے کا اتنا کھلا اظہار اور اُس پر سب کا یقین شاید کہیں موجود ہو۔
ضیاالحق کے بارے میں ملالہ کے خیالات کو عجیب رنگ بنا کر پیش کیا گیا ہے حالاں کہ ضیا کے بارے میں یہاں کیدو، چار جماعتوں کو چھوڑ کر تقریباً پوری قوم کا اتفاق ہے کہ ضیا الحق نے کس طرح اسلام کو اپنے اقتدار کے لیے استعمال کیا۔ اگر ملالہ کے خیالات اوریا مقبول کو پسند نہیں تو وہ پی پی پی کا کیا کریں گے جو ضیا الحق کو ایک قومی مجرم قرار دیتے ہیں۔ ملالہ نے ضیا الحق پرصفحہ نمبر23, 24 پر وہی تفصیل بتائی ہے جس کو شاید ہر دسویں جماعت تک کا بچہ جانتا ہے۔ کس طرح ضیا نے اسلام کے چہرے کو قومی مجبوری بنا کر پیش کیا اور 11سال اپنے اقتدار کو طول دیا اگر اوریا جان اور اُن کے مداح ان دو صفحات میں سے کوئی اسلام دشمنی نکال رہے ہیں تو وہ پہلے قوم کے تقریباً 15کروڑ عوام کو تو مطؤن کریں۔ ملالہ ذولفقار علی بھٹو کے بارے میں کیا رائے دیتی ہے ذرا ملاحظہ کریں:
He arrested our elected prime minister, Zulfikar Ali Bhatto, and had him tried for treason then hanged from a scaffold in Rawalpindi Jial. Eeven today people talk of Mr Bhatto as man of great charisma. they say he was the first Pakistani leader to stand up for the common poeple.
خان عبدلغفار خان کے بارے میں بھی ملالہ کے الفاظ سننے والے ہیں:
Khan abdul Ghaffar Khan, A Great pushto leader who compaigned for independance.
اوریا مقبول جان نے چوں کہ کتاب کو اسی نقطۂ نظر سے پڑھا کہ کہیں سے ایسی باتیں ملیں تاکہ اس ساری کھیل کو ایک امریکی سازش‘] سے منسلک کر کے اپنے چھپے عزائم کی منزل مراد پا لی جائے۔ وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ احمدیوں، شیعہ اور دوسرے ایسے طبقوں کو ایک خاص رنگ میں پیش کیا گیا ہے تاکہ اس کتاب کے اصل Content(جو اینٹی طالبان اور ملا گردی کے خلاف ہے) ہٹا دیا جائے۔ وار پر وار کر کے حقائق چھپا دیے جائیں۔ احمدیوں متعلق وہ لکھتی ہے:
Now we are a country have around of 180 million and more than 96 percent are Muslims.We also have around two millions Christians and more than two millions Ahmadis, who say they are Muslims though our Govt sys they are not not.
میری سمجھ سے بالاتر ہے یہ بیان کہ احمدی اپنے آپ کو مسلم کہتے ہیں جب کہ حکومت انہیں مسلمان نہیں سمجھتی، میں ایسی کون سی نئی بات یا گستاخانہ بیان موجود ہے؟ کیا ہم شرم کے سارے تقاضے اپنے اوپر حرام کر چکے ہیں؟ اور تو اور اپنی جہالت کا اتنا برملا اعتراف شایاد ہی کہیں اپنا اظہار کرے اور اُسے اتنی سندِ فضیلت دی جائے۔ ذرا اوریا مقبول کا یہ قول پڑھیے:’’ملالہ نے اپنے بچپن کا ہیرو سکندر کو بتایا ہے۔۔۔۔ملالہ نے اپنے والد کے قائم کردہ سکول میں بچپن میں جو نصاب پڑھا تھا اس کے مطابق سکندر ایک ہیرو ہے۔‘‘ سکندر کو نجانے کیوں سفاک بتایا جا رہا ہے اتنا ظالم اور مکروہ کہ تاریک کے صفحات پناہ مانگ اٹھیں۔ مگر آپ ذرا ملالہ کو اپڑھیں اور اندازہ لگائیں کہ جہالت کس طرح اپنے پردے چاک کئے بیٹھی ہے: My Father always said , ' Malal will be free as a bird'. I dreamed of going to the top of Mount Elum like Alexandar the Great to touch Jpiter and even byond the valley.
(میرے والد ہمیشہ کہا کرتے کہ ملالہ ایک پرندے کی طرح آزاد ہے۔میں خواب دیکھا کرتی کہ میں پہاڑ کی چوٹی سے سکندر اعظم کی طرح جاؤں اور جیوپیٹر کو پکڑلوں اور وادی سے بھی آگے نکل جاؤں)
کس قدر خوبصورت اظہار ہے جیسے کوئی انگلش نظم پڑھ رہے ہیں مگر اوریا مقبول صاحب نے اس میں سے بھی اسلاف کے خلاف بو محسوس کر لی اور کہا کہ اُسے سکندر کو کیوں اپنا ہیرو بنایا۔ اللہ معاف کیا وہ کسی صحابی کی طرح پہاڑوں سے اڑتی جاتی یا معاذاللہ ، کسی نبی کی طرح اڑتی جاتی؟ یہ کیسی منطق ہے جو اپنے ہی مقاصد کو خراب کرلیتی ہے۔
کتاب کے اندر جگہ جگہ قرآن مجید کے حوالے، اپنے سکول کے دنوں کی خوبصورت یادیں اور ملک کی تاریخ کے تقریباً تمام اہم واقعات پر صرف معلوماتی حد تک روشنی موجود ہے مگر اس کتاب کے ناقدین کو وہ نظر نہیں آئے۔ جیسے مشرف کے مارشل اللہ کی کہانی، بنگلہ دیش کے ٹوٹنے کی روداد، بھٹو کی پھانسی، سب سے بڑھ کر طالبان کی انسانیت کش سرگرمیوں کی تفصیلات۔کتاب کا بنیادی اور مرکزی موضوع طالبان کی تعلیم دشمنی کی کہانی ہے۔ جس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
اس کتاب پر گفتگو کرنے سے پہلے اسلام اور پاکستان کی سیاست کو علیحدہ کرنا اور ملالہ کو ایک غیر معمولی بچی کے طور پر قبول کرنا ضروری ہے ورنہ اس سارے منظر کی تخلیق سازش کی بو سے بھری رہے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *