ایک بے تیغ ‘بہادر اور باشعور دوست

gul nokhaiz akhter

دورِ ضیاء ہو، دورِ مشرف یا دورِ طالبان۔۔۔کالم نگاروں کی اکثریت کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ جابرسلطان و طالبان کے سامنے کلمہ حق بلند کیا۔اس دعوے کے ثبوت میں وہ اپنے کچھ کالموں کی فوٹو کاپیاں بھی دکھاتے ہیں جن میں انہوں نے ’بے باک‘ سچ لکھا ہوتاہے، تاہم پتا نہیں کیوں وہ کالموں کی تاریخ پیدائش ساتھ درج نہیں کرتے۔یقیناًیہ کالم انہوں نے ہی لکھے ہوتے ہیں اور واقعی بے باک ہوتے ہیں تاہم یہ سانپ نکل جانے کے بعد لکھے جاتے ہیں۔ایسی تحریریں’’ کلمہ ناحق‘‘ کے زمرے میں شمار ہوتی ہیں، یہ وہ تھپڑ ہوتاہے جو لڑائی کے بعد یاد آتا ہے اور اسے اپنے منہ پر مارنا زیادہ مناسب ہے۔
پرانے اخبارات نکالیے اور پڑھئے وہ خوفناک کالم جو اپنے انجام سے بے خبر کالم نگاروں نے عین اُس وقت تحریر کیے جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کا نام لینا بھی اپنی موت کو آواز دینے کے متراد ف ہوتا تھا۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے قلم سے جہاد کیا، جنہوں نے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی برسات میں وہ بیانیہ ترتیب دیا جو شائد اُس وقت کی ریاست کے لیے بھی شجرممنوعہ تھا۔مجھے فخر ہے کہ ان میں ایک بہت بڑا نام میرے دوست، میرے بھائی، میرے مرشد ، یاسر پیرزادہ کا بھی ہے۔میرا اپنا شمار چونکہ بزدل اور ڈرپوک لوگوں میں ہوتاہے اس لیے جب جب یاسر کا کوئی ایسا کالم شائع ہوتاجس میں وہ ببانگ دہل دہشت گردوں کے مقابل آن کھڑے ہوتے تو میرا دل کانپ جاتا تھا۔میں نے کئی دفعہ انہیں درخواست کی کہ ہاتھ ہولا رکھیں لیکن ہمیشہ کی طرح انہوں نے میری درخواست کو جوتے کی نوک پر لکھا اور وہی کیا جو بہت کم لوگ کر رہے تھے۔
حا ل ہی میں یاسر پیرزادہ کی کتاب’’بیانئے کی جنگ‘‘ شائع ہوئی ہے اور اس میں وہ تمام کالم شامل ہیں جو اُس دور پُرآشوب میں لکھے گئے جب طالبان ہمیں ہمارے گھروں میں گھس کے مار رہے تھے اورسیاست سے ریاست تک انہیں ’اپنے لوگ‘ کہا جارہا تھا۔اُ ن سے اِس بات پر مذاکرات کیے جارہے تھے کہ ’پلیز ہمیں نہ ماریں، ہم بھی آپ کو کچھ نہیں کہیں گے‘۔سیاسی جماعتوں میں بھی اتنا خوف تھا کہ ایک جماعت دہشت گردوں کا دفتر کھولنے پر مصر تھی تو دوسری جماعت اس بات پر خفا تھی کہ دشمن قوتیں ہمیں دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کرنے دے رہیں۔ایسے میں یاسر پیرزادہ نے لکھا’’ہماری ریاست کو اِس وقت یہ چیلنج درپیش ہے کہ کسی طرح مذاکرات کے نتیجے میں تشدد کا خاتمہ ہوجائے مگر اس صورتحال میں یہ ممکن نہیں کیونکہ جہاں مسلح گروہوں کا ایجنڈ ا دوسروں پر اپنی مرضی کا نظام زندگی مسلط کرنے کا ہو وہاں مذاکرات کے ذریعے دنیا میں آج تک امن قائم نہیں ہوا۔‘‘یہ وہ بیانیہ تھا جس کی حقیقت سب جانتے تھے لیکن بیان کرنے کی ہمت نہیں تھی کیونکہ دشمن ہر اُس شخص کو بھی اُڑا دینے کے درپے تھا جو اس کے بیانئے سے انحراف کی جرات کرتا تھا۔
یاسر پیرزادہ سراپا دلیل کا نام ہے، آپ اُن سے مخاصمت رکھ سکتے ہیں، مخالفت نہیں کیونکہ ان کے پاس دلیل کی کلاشنکوف ہے اور ہر وقت لوڈرہتی ہے۔اسی دلیل نے یاسر کو پیش بینی کا ہنر بھی سکھا دیا ہے، ایک کالم میں لکھا’یوں تو اِن حالات میں پیشین گوئی کرنا حماقت ہی ہوگی لیکن پھر بھی رسک تو لینا ہی پڑے گا، پیشین گوئی یہ ہے کہ حالیہ مذاکرات کے نتیجے میں دہشت گردوں کو’پیس زون‘ کے نام پر کوئی مخصوص علاقہ الاٹ کر دیا جائے گا جہاں ان کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی جائے گی اور جواباً ان سے آئندہ چار برس کے لیے امن خرید لیا جائے گا، بظاہر سستا نظر آنے والا یہ سودا ریاست کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔‘‘ اور پھر حیرت انگیز طور پر ایسا ہی ہوا، ریاست سجدے میں گر گئی اور دہشت گرد حالتِ قیام میں بیان دینے لگے کہ ’سوچ کر بتائیں گے‘۔
یاسر پیرزادہ ہمیشہ نصابی قسم کی سوچ کے مخالف رہے ہیں، ان کی تحریر میں جو سفاکی نظر آتی ہے وہ بنیادی طور پر ایک ایسا سچ ہے جسے ہم میں سے کوئی بھی آسانی سے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ میں نے بھی اس سچ کو بہت دیر سے سمجھا اور یاسر پیرزادہ سے ہی سمجھا۔پہلے مجھے لگتا تھا کہ یاسر کا بیانیہ محض ایک مختلف رائے کے سوا کچھ نہیں، لیکن پھر جب پے درپے ان کی باتیں درست ثابت ہونے لگیں تو میں بھی کھٹکا، ذہن کے بند دروازوں کو کھولا اور کچھ نئے انداز کی بحثیں چھیڑیں، مجھ پر حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ بھائی صاحب بالکل درست فرما رہے ہیں۔ یہ لائنیں پڑھئے، کیا ایک باشعور انسان کی حیثیت سے کوئی ان سے اختلا ف کر سکتا ہے۔
’اگر کسی کا خیال ہے کہ وعظ، نصیحت یا دلائل کے زور پر اس ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ بھرے ہوئے سگریٹ پینا چھوڑ دے اور محلے میں چھوٹے گوشت کی دوکان کرلے۔’ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، کوئی مسلمان دہشت گردی نہیں کر سکتا‘ جیسی خوبصورت باتیں ان لوگوں کے لیے بے معنی ہیں جو آٹھ سو کلو بارود سے بھری گاڑیاں مارکیٹوں میں لاکر دھماکے سے اڑاتے ہیں اور پھر اپنے اس کارنامے کا فخریہ انداز میں اعلان بھی کرتے ہیں، انہیں گرفتار کرنا تو دور کی بات، کوئی مائی کا لعل ان کا نام لینے کی بھی جرات نہیں کر سکتا، اگر ان میں سے کوئی گرفتار ہوجائے تو عدالت سے عدم ثبوت کی بناء پر یوں باعزت بری ہوجاتاہے جیسے وہ کوئی دودھ پیتا بچہ تھا جسے پولیس نے ریپ کے الزام میں غلطی سے دھر لیا‘۔
’بیانئے کی جنگ‘ ایسے ہی کالموں کا مجموعہ ہے۔ یہ بے تیغ لڑتے ہوئے مومن کی داستان ہے جس نے اپنی عظمت کے مینار کھڑے کرنے کی بجائے حالات کا بغور جائزہ لیا اور ایک حقیقت پسندانہ رائے مرتب کرنے کی سعی کی۔یہ رائے بہت سے لوگوں کو ناگوار گذری کیونکہ یہ پاپولر بیانئے کے بالکل برعکس تھی۔لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یاسر پیرزادہ ’درود اور بارود‘ سے پرے کا زاویہ تشکیل دے رہے تھے۔ یہ زاویہ آپ کو اِس کتاب کی ہر لائن میں نظر آئے گا۔یہ اُس وقت کی کہانی ہے جب ریاستی ادارے بھی کوئی واضح موقف اپنانے میں ڈانواڈول تھے۔’اچھے اور برے‘کی اصطلاحیں رائج تھیں اور قوم کوایک متبادل ریاست کو قبول کرنے کا سبق پڑھایا جارہا تھا۔یاسر پیرزادہ آج بھی ایسا ہی لکھتے ہیں کیونکہ انہیں ایسا ہی لکھنا آتاہے۔ میں ایسا اس لیے نہیں لکھ سکتا کہ نہ میں نے کبھی ایسا لکھا ہے نہ لکھنے کی خواہش ہے، تاہم مجھے فخر ضرور ہے کہ میرا تعلق ایک ایسے باعقل انسان سے ہے جو بہادر بھی ہے اور باشعور بھی۔ اگرچہ یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے لیکن میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ میں بے شک حق بیان کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا لیکن حق والوں کے ساتھ تو کھڑا ہوں۔ یاسر پیرزادہ کی کتاب ایک تاریخی دستاویز ہے اور اسے ہر اس شخص کو پڑھنا چاہیے جسے دلیل پسند ہے، جسے امن پسند ہے اور جو روایتی نصابی خیالات سے ہٹ کر کچھ سوچنا چاہتا ہے۔ جب آپ یہ کتاب پڑھ چکیں گے تومجھے یقین ہے آپ کو ایسا لگے گا جیسے اس کتاب نے آپ کو یکدم ایک کنویں سے باہر نکال کھڑا کیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *