پاکستان کے اصل معماروں کا خواب

ندیم ایف پراچا

nadeem F paracha
میں پچھلے کافی عرصہ سے جناح سے متعلق تمام لٹریچر پڑھنے کی کوشش میں ہوں ۔ میرا مقصد یہ جاننا ہے کہ قائد اعظم اور بعد میں آنے والے لیڈرز کے مطابق پاکستان کیسا ملک ہے یا اسے کس طرح کا ملک ہونا چاہیے۔ میرا مقصد یہ جاننا ہے کہ قائد اعظم کے خیال میں پاکستان کا تصور کیا تھا جسے انہوں نے انتھک محنت کے بعد معرض وجود میں لایا تھا۔
میری ریسیرچ کے مطابق جناح کے کئی روپ سامنے آئے ہیں۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے سے لے کر ۱۹۵۰ تک ان کے بارے میں کچھ لکھا ہی نہیں گیا۔ ۱۹۵۰ کی دہائی پاکستان کی تاریخ کی سب سے خاموش زمانہ تھا۔ ملک بنانے والی جماعت مسلم لیگ مختلف قسم کے چیلنجز سے نمٹنے میں مسلسل ناکامی کا سامنا کر رہی تھی۔ میری ریسرچ کے مطابق اس دور میں کسی بھی چیلنج کو قائد اعظم کی رہنمائی یا فرمان کے مطابق حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
اس کی بجائے علامہ اقبال کی شاعری اور فرمودات کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ مثال کے طور پر ۱۹۵۳ میں جب احمدی طبقے کے خلاف دنگے فساد شروع ہوئے تو حکومت نے ان کو بند کرنے میں بہت دیر کی اور بالآخر مارشل لا لگا کا ان فسادات کا خاتمہ کیا گیا۔ اس دوران فسادات شروع کرانے میں ملوث لوگوں سے نمٹنے کے لیے علامہ اقبال کی ایک کتاب کا اردو ترجمہ کرایا گیا جس میں انہوں نے کلیرکس پر بہت سخت تنقید کی تھی۔
۱۹۵۶ میں جب دوسرا آئین اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا تو اس وقت بھی بہت سے لوگوں نے اقبال کے تصورات کو اپنے سامنے رکھا۔ اس آئین کی تیاری میں بھی جناح کا کوئی ذکر نہیں۔ یہاں تک کے جناح کی بہن نے اپنے بھائی کی زندگی کے متعلق جو کتاب لکھی تھی اسے شائع ہونے سے روک دیا گیا۔ یہ کتاب بالآخر ۱۹۸۷ میں شائع ہوئی۔ ۱۹۵۴ میں حکومت نے ایک برطانوی مصنف کو قائد اعظم کی سوانح عمری لکھنے کو کہا۔ لیکن اس میں بھی بہت ردوبدل کی گئی اور قائد کے بہت سے فرمودات کو نکال دیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو اس دور میں قائد کے کسی بھی تصور یا رہنمائی کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن یہ رویہ۱۹۵۸ صدر ایوب کے آتے ہی یکدم تبدیل ہو گیا۔ ایوب وہ پہلے پاکستانی حکمران تھے جو قوم سے خطاب کرتے وقت قائد اعظم کی تصویر عیاں رکھتے تھے۔ پاکستان کو ماڈرن بنانے کے لیے ایوب نے قائد اعظم کو ایک پروگریسو مسلم قرار دیا۔ ۱۹۶۲ میں قائد اعظم کی تقاریر پر مشتمل ایک کتاب شائع ہوئی جس میں قائد کے اہم بیانات اور ارشادات شامل کیے گئے تھے۔
صدر ایوب نے قائد کو کھویا ہوا مقام واپس دلوایا ۔ انہوں نے قوم کو بتایا کہ قائد ایک مسلم اکثریت والا معاشی طور پر مضبوط پاکستان کے خواہاں تھے اور چاہتے تھے کہ پاکستان کی فوج بہت ترقی یافتہ اور ڈسپلن والا ادارہ ہو جو ملک کی حدووں کی حفاظت میں کوئی کثر اٹھا نہ چھوڑے ۔ جناح کا تصور کتابوں میں متعارف کروایا گیا جیسا کہ Struggle for Paksitan by I.H. Quraishi, Qaid Azam as Seen by his Contemporaries, and Jinnah: a Founder of Pakistan. البتہ ایوب کے مخالفین نے اس امیج کی سخت مخالفت کی۔ ان کا خیال تھا کہ قائد اعظم چونکہ پاکستان بننے کے بعد جلد ہی دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اس لئے اب علما کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کے لیے صحیح سمت کا تعین کریں اور اسے ایک اسلامی ریاست کے طور پر ڈویلپ کریں۔
ایوب نے قائد اعظم کا جو امیج متعارف کرایا تھا وہ بھٹو کے دور میں ایک بار پھر بدل گیا۔ سوشل ریفارم کے فارمولہ کے ساتھ حکومت میں آنے والے بھٹو نے قائد کا ۱۹۴۵ کا بیان وزیر اعظم ہاوس میں لگوایا جس میں قائد اعظم نے انڈسٹریز کو نیشنلائز کرنے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔
۱۹۷۶ میں بھٹو کے دور میں قائد اعظم اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا۔ اسی سال میں قائد کے بارے میں بارہ کتابیں شائع ہوئیں۔ ان کتابوں میں قائد کو ایک جمہوری اسلامی ریاست کا حامی ظاہر کیا گیا۔ اسی دور میں شریف المجاہد کی کتاب Ideological Orientation of Pakstan شائع ہوئی جس کے مطابق قائد علامہ اقبال کے تصور پر مبنی ایک اسلامی ریاست کے حامی تھے۔
قائد کا یہ امیج بھی بہت جلد بدل گیا جب ضیا کی آمد کے بعد قائد کی ڈائری منظر عام پر آئی جس میں لکھا تھا کہ قائد ایک جمہوری نہیں بلکہ فوجی اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔ اپنے اس دعوی کو ثابت نہ کر سکنے کی وجہ سے ضیا نے میڈیا پر قدغن لگائی کہ صرف وہی فرمودات دکھائے جائیں جن میں ایمان کا ذکر ہو۔ ۱۹۸۰ کی دہائی میں قائد کے بارے میں ایک نیا نظریہ منظر عام پر آیا جس کے جواب میں ضیا الحق نے علامہ اقبال کے مذہبی خیالات کو سامنے لانا شروع کیا۔ یہ ایک مضحکہ خیز بات تھی کیونکہ ۱۹۵۰ کی دہائی میں اقبال کے نظریات کو قائد کے نظریات رد کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا جب کہ اب ان کو قائد سے ہم آہنگ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
اس کے بعد کچھ خاص تبدیلی نہیں آئی۔ اگر آپ ریاض احمد کی کتاب ‘اقبال کے خطوط قائد کے نام’ کا مطالعہ کریں تو آپ دونوں رہنماوں کو ہم خیال پائیں گے۔ لیکن اقبال پاکستان بننے سے ایک سال پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ یہ پاکستانی سیاستدانوں، علما، تھیولوجینز ، اور ڈکٹیٹرز تھے جنہوں نے دو عظیم راہنمائوں کے خیالات و مقاصد میں تناقض پیدا کیا اور ان کے مختلف سیاسی جمہوری اور مذہبی عقائد متعارف کروائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *