اسلامی نظام اور پاکستانیوں کی مرضی

naeem-baloch1کیا ملک کے قوانین کو قرآنی تعلیمات کے عین مطابق ہونا چاہیے ؟یا صرف اسلامی اقدار اور اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے یعنی اس کو جدید سانچے میں ڈھال کر نافذ کرنا چاہیے ؟ یہ ہیں وہ اہم سوالات جو ایک عالمگیر سروے میں پوچھے گئے ۔یہ سروے امریکہ میں قائم تحقیقی ادارے پیور ریسرچ سینیٹر کی طرف سے کے گئے  اس مطابق پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ملک میں قرآنی تعلیمات کا سختی سے نفاذ چاہتی ہے۔گزشتہ سال 5 اپریل سے 21 مئی کے درمیان دنیا کے دس مسلم اکثریتی ممالک میں 10 ہزار سے زائد افراد سے یہ سوالات پوچھے گئے تھے۔بدھ کو اس سروے کے نتائج کو میڈیا کے لے پیش کیا گیا۔ اس کے مطابق 78 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ ملک کے قوانین کو پوری طرح سے قرآنی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہیے جبکہ 16 فیصد نے کہا کہ قوانین کو اسلامی اقدار اور اصولوں کے مطابق تو ہونا چاہیے مگر اس میں سخت گیری نہیں کرنی چاہیے۔ صرف دو فیصد نے کہا کہ قوانین کو اسلام سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔جائزے میں پورے ملک کے مختلف حصوں میں لوگوں سے یہ سوالات پوچھے گئے اور ان میں غیر مسلم بھی شامل تھے۔وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ماہر تعلیم اور انتہا پسندی کے رحجانات پر نظر رکھنے والے سرگرم کارکن ڈاکٹر اے ایچ نیئر کا کہنا تھا کہ انہیں پیو ریسرچ کے اس جائزے پر کوئی تعجب نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کئی دہائیوں تک لوگوں کو یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ ان کے مسائل کا حل دینی قوانین پر عمل درآمد میں موجود ہے اور انہیں کوئی متبادل تصور پیش نہیں کیا گیا۔ان کے بقول اس کی دوسری وجہ دنیا کے مختلف حصوں میں نام نہاد مذہبی حکومتوں کا قیام تھا جہاں ایک مخصوص دینی توجیہہ کے تحت سزاؤں پر فوری عملدرآمد سے لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ اسلامی قوانین انہیں انصاف دلا سکتے ہیں۔
ان میں ماضی میں افغانستان میں طالبان حکومت، سوات میں صوفی محمد کی تحریک نفاذ شریعت محمدی اور حالیہ دنوں میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں قائم خلاف شامل ہیں۔لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں جہاں لوگ انصاف سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں وہاں پر اسی قسم کی سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ یہ بنیادی طور پاکستان میں حکومتوں کی ناکامی کا ردعمل ہے۔ یہاں اچھی حکمرانی ایک خواب رہی ہے۔معروف عالم دین اورجامعہ نعیمیہ کے ڈائریکٹراورمفتی ڈاکٹر راغب نعیمی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اگرچہ عوام ملک میں قرآنی تعلیمات کے مطابق قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں مگر سماجی، معاشی اور سیاسی معاملات میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کے بغیر دینی قوانین سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان کے بقول اسلام میں اخلاقی اقدار کو فوقیت دی گئی ہے۔میں یہاں عوام کے سامنے یہ سوال بھی رکھنا چاہوں گا کہ وہ خود کتنا ان احکامات جن کا تعلق انسان کی روزمرہ زندگی کے ساتھ ہے ان پہ عمل پیرا ہیں؟
اس سر وے اور اس پر دو اہم اہل علم کی رائے کے بعد ہم کچھ سوالات ناظرین کے سامنے رکھتے ہیں :
*اگر صرف اسلامی قوانین ہی معاشرے میں خوشحالی اور امن و امان کی ضمانت ہیں تو یورپی ممالک اور وہ ممالک جہاں پر اسلامی قوانین نافذ نہیں ہیں ، وہاں خوشحالی اور امن وامان کیوں ہے ؟
*سعودی عرب ، ایران اور سابقہ افغانستان میں اپنے اپنے مسلک کے لحاظ سے اسلامی قوانین کا نفاذ کیا گیا لیکن کسی ایک ملک کو بھی دوسرے نے تسلیم نہیں کیا ۔ کسی ایک ملک میں بھی یورپ کے کسی ملک کی سی خوشحالی اور امن وامان نہیں قائم ہو سکا ۔یعنی سعودی عرب میں اسلامی نظام سے بادشاہت وجود میں آئی ، ایران میں پاپائیت اور افغانستان میں سخت گیر ملائیت ۔ ان مختلف اور متضاد نتائج کی کیا وجہ ہے ؟
*پاکستان میں آئینی لحاظ سے مکمل اسلامی قوانین نافذ ہیں لیکن آج تک ان میں سے بیشتر کے عملی نفاذ کی نوبت نہیںآئی۔ اس کی کیاوجہ ہے ؟ خاص طور پر حدود آرڈیننس پر کوئی عمل نہ ہو سکا۔
* امریکی ادارے نے یہ سروے کیوں کراوایا اور اس کے نتائج کو دنیا کے سامنے لاکر وہ کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ؟
یہاں ہم ایک اور خبر کہ طرف اشارہ کرنا چاہیں گے کہ ترکی کی حکومت نے اس بات کا سرکاری طور پر اعلان کیا ہے کہ ملک کا نظام سیکولر ہی رہے گا اورسٹیٹ کو مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔مذکورہ سروے میں ترکی، لبنان اور انڈونیشیا میں ایک چوتھائی سے کم لوگوں نے اسلامی نظام کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے بجائے وہاں کے لوگوں نے سیکو لر نظام پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ترکی کے وزیرِ داخلہ نے اس کی دلیل یہ دی ہے کہ جن ممالک نے اپنے ہاں مذہب کو سیاست میں داخل کیا ہے وہاں مذہب کا غلط سیاسی استعمال ہوا ہے ۔ اس کی وجہ وہاں پر لوگوں کے شعور اور سماجی آگہی میں کجی اور کمی ہے ۔ ہمارے خیال میں ترک وزیر داخلہ کی بات میں بہت وزن ہیں اور اسی جواب میں ان سوالات کے جواب پوشیدہ ہیں جو ہم نے اوپر اٹھائے ہیں ۔لیکن بہر کیف یہ ایک سنجیدہ بحث ہے جس پر قدرے طویل گفتگو ہونی چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *