ہماری جمہوریت کب جوان ہو گی ؟

شکیل قمر 

shakeel qamar
ہمارے ملک کی نوزائیدہ جمہوریت کے ساتھ وابستہ لوگوں میں اتنی حقیقت پسندی تو ہے ہی نہیں کہ کوئی عوامی نمائندہ اگر کوئی ایسا
کام کر بیٹھے جو عوام کی توقعات کے بر خلاف ہو تو وہ اپنی غلطی کااعتراف کرتے ہوئے اپنے منصب سے الگ ہو جائے ، مغربی جمہوری
ملکوں میں اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ صرف عوامی نمائندے ہی نہیں بلکہ دیگر اعلی عہدوں پر فائز افراد بھی اگر کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں تو وہ فوریطور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے عہدے سے الگ ہو جاتے ہیں ظاہر ہے اسے جمہوری اقدار کا ایک اعلی نمونہ ہی کہا جائے گا
مگر ہمارے ملک میں ایسا کبھی نہیں ہوتا وہاں تو اپنی غلطیوں کودوسروں کے سر ڈا ل دیا جاتا ہے،کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے حکومت
میں آنے سے پہلے بہت بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ جب وہ سیاسی جماعت حکومت میں آ جاتی ہے تواُس کا
سب سے پہلا بہانا یہ ہوتا ہے کہ ہمیں ڈوبتی ہوئی کشتی دے دی گئی ہے ملک کی حالت دگرگوں ہے ،خزانہ خالی ہے ہم کیا کریں جو کچھ بھی
غلط ہورہا ہے اُس کے ذمہ دار سابقہ حکمران ہیں گویا نئی حکومت اپنی غلطیوں اور گناہوں کو بھی سابقہ حکمرانوں کے سر ڈال دیتی ہے،اس کے
علاوہ ایک عجیب وغریب معاملہ ہمارے ملک کی سیاست کے ساتھ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ کچھ عرصہ سے چند ایک چھوٹی چھوٹی علاقائی
سیاسی جماعتیں انتخابات تو جیت جاتی ہیں مگر حکومت سازی میں وہ ہر نئی حکومت کا حصہ بن جاتی ہیں اس طرح وہ بُری کارکردگی کے باوجود
ہمیشہ ہی ہر نئی حکومت کا اہم حصہ رہتی ہیں یہ بڑا عجیب معاملہ ہے کہ وہ اپنے دورِ حکومت میں بُری کارکردگی کے باوجود آنے والی حکومت کا
حصہ بن جاتی ہیں اگر دیکھاجائے تو یہ طریقہء کار ہر گز ہرگز اچھی جمہوری روایات کا حصہ نہیں ہے بہر کیف جمہوریت میں ایسی بیشمارچھوٹی
چھوٹی خامیاں ہیں جن کا ہر نو زائیدہ جمہوری حکومت کو سامنا کرنا پڑتا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسی خامیاں صرف اُسی وقت دور ہو
سکتی ہیں جب جمہوری اداروں کو باقاعدگی کے ساتھ اپنا کام کرنے دیا جائے ، گذشتہ پینسٹھ سالوں میں تو ہمارے ملک میں جمہوریت کے
پاوں ہی نہیں جمنے دیئے گئے اَب اگر پہلی مرتبہ اس بات کی آس بندھی ہے کہ ایک جمہوری حکومت کے بعد دوسری جمہوری حکومت آسکے گی
تو ہمیں اُمید کرنی چاہیے کہ بار بار کی جمہوری حکومتوں سے ہی جمہوریت کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کو دور کیا جاسکے گا ،جن ممالک میں
باقاعدگی کے ساتھ جمہوری ادارے اپنا کام کرتے ہیں وہاں کے عوام کا مزاج بھی جمہوری ہو جاتا ہے لہذا پاکستان کے عوام کو جمہوریت
کی اقدار کو سمجھنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا جونہی جمہوری ادارے باقاعدگی کے ساتھ اپنا کام شروع کریں گے عوام کے مزاج میں بھی
جمہوری تبدیلی رونما ہونا شروع ہوجائے گی اور پھر آپ دیکھیں گے کہ پیشہ و ر قسم کے جعلی عوامی نمائندے خودبخود منصہء شہود سے غائب
ہو جایں گے اوراُن کی جگہ حقیقی جمہوری مزاج رکھنے والے عوامی نمائندے عوام کی خدمت کے لئے میدان میں موجود ہوں گے،جن جن
ممالک میں جمہوری نظامِ کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے اُن کے بغور مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ جمہوری نظام کی کامیابی کے لئے صرف
عوامی نمائندوں پرہی ساری ذمہ داری عائد نہیں ہوتی بلکہ عوام بھی اس نظام کی کامیابی کے لئے اپنی ذمہ داریاں بطریقِ اَحسن انجام
دیتے ہیں ظاہر ہے کہ عوامی نمائندے عوام کے ووٹ کے بغیرتو کامیاب ہو نہیں سکتے لہذا اگر عوام اپنے ووٹ کا استعمال درست طریقے
سے نہیں کریں گے توکبھی بھی صحیح نمائندے آگے نہیں آ سکیں گے اگرعوام اپنی ذمہ داری سوچ سمجھ کر پوری کریں اور اپنے ووٹ کا
استعمال کرنے سے پہلے اس بات کی اچھی طرح تحقیق کرلیں کہ جس شخص کو ہم ووٹ دینے جارہے ہیں اُس کا ماضی کیسا ہے ،کہیں وہ پہلے
ہی ملک اور عوام کی دولت لوٹ کر تو اس مقام پرنہیں پہنچا ؟اور اگر وہ ایک دولت مند انسان ہے تو کیا وہ اپنی دولت عوام کی فلاح وبہبود
کے لئے خرچ کرتا ہے؟ کہیں اُس کا تعلق شہر کے کسی گندے مافیا سے تو نہیں ہے؟وہ غریب عوام کا کس قدر ہمدردہے اور عام آدمی کی اُس
تک رسائی ہے کہ نہیں ؟یہ تمام ذمہ داری ایک ووٹر کی ہے اگر ووٹر ہی اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کرے گا تو کل کو پورے جمہوری نظام
کی ناکامی کا ذمہ دارووٹر بھی ہو گا۔

ہماری جمہوریت کب جوان ہو گی ؟” پر ایک تبصرہ

  • اپریل 29, 2016 at 4:10 PM
    Permalink

    سرمایہ دارانہ نظام کی مسلط کردہ یہ جمہوریت جس میں 22 کروڑ کی آبادی میں سے 8 کروڑ ووٹرز ہوں اور اس میں سے صرف 42 فیصد وہ لوگ ووٹ کاسٹ کریں جن کے پاس سیاسی شعور نام کی کوئی چیز نہ ہو ، جس 42 فیصد میں سے صرف اتنے ووٹ حاصل کر کےجو کل ووٹ کا 22 فیصد بنتا ہو پارٹی حکومت بنا لے ایسی جمہوریت جوان نہ ہی ہو تو اچھا ہے ۔۔۔۔۔ یہ جمہوریت تب ہی جوان ہوگی جب اوام کے پاس ووٹ دینے کا شعور ہوگا، جب اپنی پسند نا پسند سے بالا تر ہو کر ملک و قوم کے مفاد میں ووٹ دیا جائے گا ، اور جب ٹرن آوٹ کم از کم 75 فیصد ہوگا ۔۔۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *