خصوصی عدالت کا اختیار ِسماعت صرف مشرف کیس تک محدود ہے، جسٹس فیصل عرب

faisalغداری کیس کی سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم کا کہنا ہے عدالت تیئس مارچ انیس سو چھپن سے آئین شکنوں کےخلاف کارروائی کرے جبکہ جسٹس فیصل عرب کہتے ہیں خصوصی عدالت کا اختیار سماعت صرف اس کیس تک محدود ہے. انیس سو چھپن سے اب تک آئین شکنی کے مقدمات سے عدالت کا کوئی تعلق نہیں۔
جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مشرف غداری کیس کی سماعت کی۔ پرویز مشرف پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد ان کے نئے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے اپنے ابتدائی دلائل میں کہا مشرف کے ساتھیوں کو بھی ٹرائل میں شامل کیا جائے۔ عالمی قوانین کے تحت کسی بھی الزام میں صرف ایک ملزم کو شریک نہیں کیا جا سکتا۔ 3 نومبر کے نوٹیفکیشن میں جن افراد کا ذکر ہے انہیں نوٹس جاری کیا جائے اور باقاعدہ ٹرائل میں شامل کیا جائے۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ میں ان افراد کا ذکر ہے اور نہ ہی رپورٹ منظر عام پر لائی گئی۔ انکوائری ٹیم کے ایک رکن حسین اصغر نے اختلافی نوٹ لکھا جسے رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ استغاثہ بتائے اختلافی نوٹ چھپانے کا کیا مقصد ہے۔ عدالت اختلافی نوٹ اور انکوائری رپورٹ کی نقل پیش کرنے کا حکم دے۔ آرٹیکل 25 کسی سے بھی امتیازی سلوک کی مخالفت کرتا ہے۔ فروغ نسیم نے کہا عدالت 23 مارچ 1956 سے آئین شکنوں کےخلاف کارروائی کر کے تاریخ رقم کرے جس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا خصوصی عدالت کا اختیار سماعت صرف اس کیس تک محدود ہے۔ مارچ 1956 سے اب تک آئین شکنی کے دیگر مقدمات سے عدالت کا کوئی تعلق نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *